سپریم کورٹ جج کا تقرر، بار کونسلز کا آج یوم سیاہ

پاکستان بار کونسل سمیت ملک کی تمام بڑی بار کونسلز نے اعلان کیا ہے کہ وہ 28 جولائی کو یوم سیاہ کے طور پر منا رہی ہیں کیونکہ آج سپریم جوڈیشل کمیشن آف پاکستان سندھ ہائی کورٹ کے ایک جونئیر جج کو اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر سپریم کورٹ میں بھیجنے سے متعلق مشاورت کرے گی۔ وکلا کی نمائندہ تنظیم پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان کی جانب سے طلب کیے جانے والے ایک اجلاس کے دوران سینئر وکیل اختر حسین کو جوڈیشل کونسل کا رکن نامزد کیا گیا تا کہ وہ کونسل کے سامنے وکلاء تنظیم کا موقف پیش کر سکیں۔
خوشدل خان نے بتایا کہ اگرچہ پی بی سی نے ملک گیر ہڑتال کی کال دی تھی لیکن اختر حسین 28 جولائی کے روز کمیشن کے اجلاس میں بار کونسل کی نمائندگی کریں گے اور سندھ ہائی کورٹ کے سنیارٹی درجہ بندی میں پانچویں نمبر کے جونئیر جج کی ممکنہ طور۔پر سپریم کورٹ میں ترقی کی مخالفت کریں گے۔
پی بی سی کے اعلامیے کے مطابق اختر حسین کو آئین کے آرٹیکل 175 کے تحت دو سالوں کے لیے قانونی پریکٹیشنرز اور بار کونسلز رولز 1976 کے رول 91 کے تحت جے سی پی ممبر نامزد کیا گیا ہے۔جے سی پی نے 13 جولائی کو اپنے آخری اجلاس میں بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی سفارش کی تھی لیکن جسٹس محمد علی مظہر کے معاملے پر وکلا نے سینارٹی کے اصول نظر انداز ہونے سے متعلق خدشات ظاہر کیے اور ان کا معاملہ مؤخر کردیا گیا تھا۔ خوشدل خان نے کہا کہ اختر حسین سپریم جوڈیشل کمیشن کو پی بی سی سمیت مختلف بار کونسلوں اور ایسوسی ایشن کے منظور کردہ قراردادوں سے آگاہ کریں گے۔
سپریم جوڈیشل کونسل آف پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایک جونیئر جج کی ممکنہ تقرری سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا ہوا تو کونسل ملک گیر احتجاج کا لائحہ عمل اپنائے گی۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے ہونے والے اجلاس میں بار کونسل کی ہڑتال کے باعث جسٹس محمد علی مظہر کی نامزدگی ملتوی کردی گئی تھی لیکن اب محض 15 دن بعد دوبارہ سپریم کورٹ میں انکی تقرری کی سفارش کردی گئی ہے جس پر وکلا میں اشتعال پیدا ہوگیا ہے۔
پی بی سی کے علاوہ سندھ بار کونسل (ایس بی سی)، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس ایچ سی بی اے) اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن (ایل ایچ سی بی اے) بھی 28 جولائی کے روز یوم سیاہ منا رہی ہیں اور ہر طرح کی عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا ہے۔ سندھ بار کونسل نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر عدالت عظمیٰ میں جج کی تعیناتی کے معاملے میں سینارٹی کے اصول کو نظر انداز کیا گیا تو وکلا تمام فورمز پر احتجاج کریں گے۔ سندھ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ جلدی میں جے سی پی کا اجلاس دوبارہ طلب کرنے کی وجوہات سمجھ سے بالاتر ہے، خاص طور پر جب کمیشن کے ایک ممبر جسٹس قاضی فائز عیسی کووڈ 19 کا شکار ہونے کی وجہ سے قرنطینہ میں ہیں۔ سندھ بار کونسل نے سپریم جوڈیشل کونسل آف پاکستان پر بھی زور دیا ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس اور تجاویزات طلب کرے اور سنیارٹی کے وضع اصول کو اہمیت دے کر معاملے کو احسن طریقے سے سنبھالے تاکہ عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ نواز ججوں کی بھرتی کے منصوبے کو ناکام بنایا جاسکے۔
