کے ٹو سے علی سدپارہ کی لاش اتارنے میں شدید مشکلات

کے ٹو کی ڈیتھ زون میں پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ اور ان کے دو غیر ملکی ساتھیوں کی لاشیں مل جانے کے باوجود انہیں نکال کر لانے کا منصوبہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر تازہ لاش ہو تو اسے پہاڑ کی بلندی سے گھسیٹ کر نیچے لایا جا سکتا ہے لیکن یہ لاشیں ایک طرح کے بھاری بھر کم برف کے مجسمے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ لاشیں برف کے بڑے بلاکس کی صورت میں ہیں جو نکالنے کی۔کوشش میں ٹھوکر لگنے سے ٹوٹ کر بکھر سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لاشوں کو سلیپنگ بیگز میں ڈال کر احتیاط سے رسیاں لگا کر مربوط کوشش سے ہی نیچے لانا ہو گا۔ لیکن اس کام میں کم سے کم 12 تجربہ کار کوہ پیماوں کی ضرورت ہے اور تین دن کا وقت درکار ہے تاکہ انہیں بلندی سے نیچے اس پوائنٹ تک لایا جا سکے جہاں سے ہیلی کاپٹر انہیں اٹھا سکے۔
دوسری جانب ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ 1954 سے اب تک کے ٹو سر کرنے کی کوشش کے دوران 94 کوہ پیما اپنی جانیں گنوا چکے ہیں لیکن کسی ایک کی بھی لاش نیچے نہیں لائی جا سکی۔ یاد رہے کہ فروری 2021 میں کے ٹو پر لاپتہ ہو جانے والے پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ کی لاش کے ٹو کے ’بوٹل نیک‘ سے 300 میٹر نیچے جبکہ ان کے دو اور ساتھیوں کی لاشیں ’بوٹل نیک‘ سے 400 میٹر نیچے ملی ہیں۔ بڑی مشکل یہ ہے کہ لاشیں کے ٹو کی ڈیتھ زون میں 8400 میٹر کی بلندی پر موجود ہیں۔ بتایانگیا ہے کہ علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کی لاشیں برف میں جمی ہوئی ہیں اور انھیں برف سے نکال کر سلنگ آپریشن کے ذریعے رسی سے اوپر کھینچنے میں لاش ٹوٹنے کا خطرہ ہے۔ گلگت بلتستان کے وزیر اطلاعات فتح اللہ خان کا کہنا ہے کہ ان لاشوں کو فوج کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے منتقل کیا جائے گا تاہم قراقرم کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں ہیلی کاپٹر 7300 میٹر سے اوپر پرواز نہیں کر سکتے۔ لہازا سوال یہ ہے کہ ان لاشوں کو نیچے کیسے لایا جائے گا؟ یاد رہے یہ لاشیں ’بوٹل نیک‘ پر ملی ہیں جو کے ٹو کا مشکل ترین حصہ ہے۔ کے ٹو کے کیمپ فور سے اوپر ڈیتھ زون میں 8200-8400 میٹر کے درمیان ایک راک اینڈ آئس گلی موجود ہے، چونکہ اس کی شکل بوتل کی گردن کی طرح دکھتی ہے لہذا اسے ’بوٹل نیک‘ کہتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے کےٹو سر کرنے کی کوشش کرنے والے کوہ پیماؤں کو ہر حال میں گزرنا پڑتا ہے، اس کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں اور اب تک مارے جانے والے 90 فیصد کوہ پیماوں نے اسی مقام پر اپنی جانوں سے ہاتھ دھویا ہے۔
اس وقت علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کے ٹو کے بیس کیمپ پر موجود ہیں تاکہ اپنے والد کی لاش واپس لا سکیں۔ ساجد سد پارہ کی ریسکیو مہم کے انتظامات کرنے والی کمپنی جیسمن ٹورز کے بانی اصغر علی نے بتایا کہ ساجد سد پارہ کی طرح دوسرے کوہ پیماؤں جان سنوری کی اہلیہ اور ہوان بابلو موہر کے اہلِ خانہ بھی ان کی لاشوں کو اپنے اپنے ملک واپس لیجانا چاہتے ہیں۔ لیکن اصغر کے مطابق پہلی سٹیج پر ان کوہ پیماؤں کی لاشوں کو بوٹل نیک سے نیچے تقریباً 6500 میٹر تک لانا ہے جہاں ہیلی کاپٹر پہنچ سکے۔ انکا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں نیچے سے کوہ پیماؤں یا پورٹرز کے لیے بوٹل نیک تک جا کر لاشیں لانا ممکن نہیں ہے لہذا سب سے بہتر اور پہلا آپشن یہی ہے کہ اوپر موجود کوہ پیما اور پورٹرز جو اپنی مہم سے واپس لوٹ رہے ہیں ان سے لاشیں نیچے لانے کی درخواست کی جائے۔ انھوں نے بتایا کہ اوپر اسوقت 15 نیپالی اور 6 پاکستانی موجود ہیں اور ہم ان سے رابطہ کرکے مدد کی درخواست کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی حکومت اس سلسلے میں نیپالی شرپاؤں کو معاوضہ دینے پر بھی تیار ہے۔
اصغر علی کے مطابق اگر سب کوہ پیما راضی ہو جاتے ہیں اور مل کر کام کریں تو اس میں چند گھنٹے لگیں گے۔ اگر وہ ان لاشوں کو ایسے پوائنٹ تک لا سکیں جہاں آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر پہنچ جائے تو لاشیں واپس لائی جا سکتی ہیں۔ آرمی ایویشن میں جس ٹیم کو لاشیں لانے کا کام سونپا گیا ہے، اسکے ایک اہلکار نے بتایا کہ سب سے اہم چیز موسم ہے جو ابھی اچھا نہیں ہے۔ دوسرا یہ لاشیں جس بلندی پر موجود ہیں ہیلی کاپٹر وہاں نہیں پہنچ سکتا۔ ہماری کلاؤڈ سیلنگ 23000 فٹ یعنی 7300 میٹر ہے۔ یہ ہماری حد ہے اس سے اوپر ہم اڑ نہیں سکتے کیونکہ ہیلی کاپٹر اس سے اوپر نہیں جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان لاشوں کو ایک مناسب بلندی تک لایا جائے تو ہم وہاں جانے کی پوری کوشش کریں گے لیکن اس کا انحصار اس پر ہے کہ وہ لاشیں کے ٹو پہاڑ کے کس حصے میں موجود ہیں۔
آرمی ایویشن کے اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ اس مقصد کے لیے ایک چھوٹا ہیلی کاپٹر استعمال کیا جائے گا جس میں ایک وقت میں صرف ایک ہی لاش لائی جا سکتی ہے کیونکہ اس کا کیبن چھوٹا ہے۔ اس میں تین لوگ بیٹھ تو سکتے ہیں لیکن لاش صرف ایک ہی لائی جا سکتی ہے لہذا ہیلی کو باری باری جانا پڑے گا۔
دوسری جانب آرمی ایوی ایشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ان لاشوں کو وہاں پڑے تقریباً پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور وہ وہاں جمی ہوئی حالت میں موجود ہیں۔ کیونکہ جمی ہوئی لاش زیادہ بھاری ہو جاتی ہے اور اسکے ٹوٹے کا خطرہ بھی ذیادہ ہوتا ہے لہذا اس کام کے لیے بہت مین پاور اور کوشش کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یا تو ہیلی کاپٹر لینڈ کرے گا یا سلنگ کے ذریعے لاشیں اٹھائے گا، اس کے علاوہ کوئی تیسرا طریقہ موجود نہیں ہے اور جس بلندی پر یہ لاشیں موجود ہیں وہاں سلنگ آپریشن ممکن نہیں کیونکہ لاشیں جمی ہوئی ہیں، جب آپ انھیں سلنگ کے ذریعے اٹھانے کی کوشش کریں گے تو اگر وہ سلنگ کسی چیز سے ٹکرا گیا تو لاش کے ٹکڑے ہونے کا خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا ’سلنگ صرف اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب انسان زندہ ہو یا لاش تازہ ہو۔ آپ اسے جمی ہوئی برف یا جمے ہوئے گوشت کی طرح سمجھیں، جو اگر کسی چیز سے ٹکرائے تو اس کے ٹوٹ کر بکھرنے کا خطرہ ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ لاشوں کو بوٹل نیک سے کتنے میٹر نیچے تک لانا پڑے گا، آرمی ایوی ایشن والوں کا کہنا تھا کہ لاشوں کو کم از کم کے ٹو کے ایڈوانس کیمپ تک تو لانا پڑے گا تاکہ ہیلی وہاں لینڈ کرکے لاش کو پک کر سکے، اس کے علاوہ اور کوئی حل نظر نہیں آ رہا۔‘ عسکری ایوی ایشن کے اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ آپریشن آرمی ایوی ایشن یا فوج کی مدد کے بغیر کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ اگر اوپر موجود کوہ پیما لاشیں نیچے لانے پر راضی ہو جائیں، موسم اچھا رہے اور بہت جلدی بھی کی جائے تو ہیلی کاپٹر کے لیے ایڈوانس کیمپ تک لاشیں لانے میں کم از کم چار سے پانچ دن کا وقت لگے گا۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے بنیادی مسئلہ جمی ہوئی لاشوں کو برف سے نکالنا ہے۔ جمی ہوئی برف میں لاشیں ایک شیشے کی طرح ہیں جو سرفیس یعنی اوپری سطح پر نہیں بلکہ دبی ہوئی ہیں اور انھیں برف سے ثابت حالت میں نکالنے کے لیے بہت تجربہ کار کوہ پیماؤں کی ضرورت ہے۔ اصل ایشو لاشیں نکالنے کے لیے کوہ پیماوں کو راضی کرنا ہے چونکہ انہیں ڈیٹھ زون میں جانا اور پھر وہاں سے زندہ واپس آنا ہو گا۔ ڈیتھ زون میں کوہ پیماؤں کو عام حالات میں زندہ رہنے کے لیے سانس لینے کا عمل ہی بہت مشکل ہے اور کوہ ہیماوں کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوتے ہیں، ایسے میں لاشوں کو کھود کر نکالنا اور نیچے لانا کوئی آسان کام نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 1954 سے اب تک کے ٹو کے ہائی ایلٹیٹیوٹ سے آج تک کسی لاش کو نیچے نہیں لایا جا سکا۔
