سپریم کورٹ کے ایک جج کی ازخود اختیارات کو کنٹرول کرنے کی کوشش ناکام

سپریم کورٹ کے ایک جج کی ازخود اختیارات کو کنٹرول کرنے کی کوشش ناکام
جسٹس یحیٰ آفریدی نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے آئین کی دفعہ 184 (3) کے تحت اختیار کو ریگولرائز کرنے کے لیے باقاعدہ قواعد تشکیل دینے تک از خود نوٹس کی سماعت نہیں کرسکتے۔
جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس قاضی محمد امین پر مشتمل بینچ نے سندھ کے محکمہ تعلیم میں تعیناتیوں سے متعلق سال 2018 میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت کی۔
کیس کے آغاز میں جسٹس آفریدی نے اس معاملے کو سننے سے قاصر ہونے کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح کے کیسز بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر یا عوامی مفاد کے معاملے پر لیے جانے چاہیئیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ازخود مقدمات کے طریقہ کار کا تعین کہ ایسا ہو جو اس حوالے سے رہنما ہدایات فراہم کرے کہ بینچ کس طرح تشکیل دیا جائے اور آرٹیکل 184(3) کے تحت جو بینچ کیس اٹھائے اس کی ترتیب کیا ہو۔
9 ستمبر کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے کمپلیکس میں ہوئے وکلا کے کنوینشن میں بھی یہ کہا گیا تھا کہ صوابدید کی غیر منظم اور بلا روک ٹوک مشق، چاہے ججز کے تقرر یا بنچز کی تشکیل، کیسز مقرر کرنے یا از خود کارروائی کا آغاز ہو، اختیارات کے غلط استعمال کا طریقہ ہے۔
26 اگست کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ایک مختصر حکم میں کہا تھا کہ آرٹیکل 184 (3) کے تحت سپریم کورٹ کے ازخود دائرہ اختیار کی استدعا یا مفروضہ اصولوں پر مبنی تھا اور اس کی رہنمائی کی جائے گی۔
تاہم فیصلے نے واضح کیا کہ عدالت کے ازخود دائرہ اختیار کے حوالے سے یا اس میں شامل تمام زیر التوا معاملات اور ایسے بینچز سنیں گے جو وقتاً فوقتاً چیف جسٹس تشکیل دیتے ہیں۔
