سپریم کورٹ کے ٹرک والے جج جسٹس مظاہر عادی ملزم نکلے؟

 مشہور ٹرک والے جج جسٹس مظاہر نقوی پہلی دفعہ سپریم جوڈیشل کونسل کے شکنجے میں نہیں آئے بلکہ اس سے قبل نومبر 2016 میں بھی انھیں شوکاز نوٹس جاری ہو چکا ہے۔ذرائع کے مطابق کرپشن، اختیارات کے غلط استعمال، مالی بدعنوانی اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی جیسے الزامات کا سامنا کرنے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کو سپریم جوڈیشل کونسل نے نوٹس جاری کیا تھا جسے انھوں نے نومبر 2016 میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلینج کیا تھا جس پر اس وقت کے چیف جسٹس نے جسٹس مظاہر نقوی کی درخواست کی سماعت کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دیا تھا لیکن بعد میں اس معاملے پر مزید کوئی کارروائی نہ ہوئی اور پھر جسٹس نقوی سپریم کورٹ کے جج بن گئے۔

وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق ججوں کے احتساب کے لیے قائم ادارے سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی کے ذریعے سپریم کورٹ کے کسی جج کی برطرفی کی مثال نہیں ملتی جبکہ ہائی کورٹ ججز میں سے بھی صرف اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو سپریم جوڈیشل کونسل کاروائی کے ذریعے ان کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ ان کے علاوہ، جسٹس اقبال حمید الرحمٰن، جسٹس مظہر اقبال سدھو اور جسٹس فرخ عرفان نے سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی شروع ہونے یا ریفرنس دائر ہونے پر استعفے دے دئیے تھے۔تاہم اب سپریم جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج جسٹس مظاہر نقوی کو مالی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ جسٹس نقوی 16 مارچ 2020 کو لاہور ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج بنے۔ ان کا تعلق گوجرانوالہ شہر سے ہے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاء کالج سے ایل ایل بی کیا۔ وہ 1988 سے وکالت کے شعبے سے منسلک رہے ہیں اور 2001 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔انہوں نے اپنے وکالت کے کیریئر میں ایک ہزار سے زائد مقدمات میں وکالت کی ہے اور ان کے کئی مقدمات کے فیصلے رپورٹ بھی ہوئے۔ اس سے قبل 19 فروری 2010 کو وہ لاہور ہائی کورٹ کے جج بنے اور تقریباً 10 سال ہائی کورٹ جج کے عہدے پر فائز رہے۔

جسٹس مظاہر نقوی نے مختلف مقدمات کے سماعت اور فیصلوں سے بھی بڑی شہرت کمائی۔12 جنوری 2020 کو جسٹس نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے جنرل مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کا فیصلہ کرنے کے لیے بنائی گئی خصوصی عدالت کو غیر آئینی قرار دیا تھا، جب خصوصی عدالت جنرل مشرف کو سزائے موت سنا چکی تھی۔

10 اپریل 2018 کو جسٹس نقوی لاہور ہائی کورٹ کے اس بینچ کے حصہ تھے جس نے میاں نواز شریف اور مریم نواز کی عدلیہ مخالف مبینہ تقاریر پر پیمرا کو نوٹس جاری کئے تھے۔ اور پھر 16 اپریل کو اس بینچ نے پیمرا کو نواز شریف، مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر نہ کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔

29جون 2018 کو جسٹس نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے بینچ نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے سابقہ ایم این اے شیخ وسیم اختر کو قصور میں عدلیہ مخالف ریلی نکالنے پر ایک ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔

جون 2018 میں جسٹس عباد الرحمٰن لودھی پر مشتمل الیکشن ٹربیونل نے عام انتخابات سے ایک ماہ قبل پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فواد چوہدری کو آئین کے آرٹیکل 62(1)F کے تحت نااہل قرار دے دیا تھا۔اس فیصلے کے خلاف اپیل جسٹس نقوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سنی جس نے مذکورہ فیصلے کو معطل کرتے ہوئے فواد چوہدری کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی۔اسی روز جسٹس نقوی کے بینچ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء شاہد خاقان عباسی کی الیکشن ٹربیونل کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں بھی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی۔

10 ستمبر 2018 کو جسٹس نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے جسٹس نقوی کی سربراہی میں سابق وزیراعظم شاھد خاقان عباسی کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے۔

21 ستمبر 2017 کو جسٹس نقوی نے پنجاب حکومت کو ماڈل ٹاون واقعے پر جسٹس علی باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ پبلک کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔

2نومبر 2017 کو جسٹس نقوی نے جماعت الدعوٰہ کے سربراہ حافظ سعید کی نظربندی کے خلاف ایک درخواست کی سماعت کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ پنجاب حکومت کے خلاف صاف پانی مقدمہ کی سماعت کر رہے تھے کہ وہ مقدمہ ان سے کسی اور جج کو منتقل کر دیا گیا جبکہ قانون کے مطابق جس مقدمے کی سماعت جاری ہو اس کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے حافظ سعید کی نظربندی کے خلاف درخواست کی سماعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ایسے ماحول میں کام نہیں کیا جا سکتا۔

دسمبر 2016 میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس فرخ عرفان خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی کہ سنیارٹی لسٹ میں وہ جسٹس قاسم خان، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس مظہر اقبال سدھو سے اوپر تھے اور سنیارٹی لسٹ میں ردوبدل کر کے ان کو جونیئر ظاہر کیا گیا۔

Back to top button