ایران ڈیل پر ٹرمپ اور نیتن یاہو آمنے سامنے،تلخ جملوں کا تبادلہ

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے، جبکہ اس معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے حالیہ ٹیلیفونک رابطے میں نیتن یاہو کو آگاہ کیا کہ ثالثی کردار ادا کرنے والے سفارتی حلقے ایک ایسے ابتدائی معاہدے پر کام کر رہے ہیں جس پر امریکا اور ایران دستخط کر سکتے ہیں۔ اس ممکنہ پیشرفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجوزہ خط پر دستخط کے بعد تقریباً 30 روزہ مذاکراتی عمل شروع کیا جا سکتا ہے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم افزودگی، خطے میں سکیورٹی صورتحال اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی جیسے اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر نے اسرائیلی قیادت کو یقین دہانی کرانے کی کوشش کی کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اسرائیل کے سکیورٹی تحفظات کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا، تاہم نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ کسی نرم مؤقف پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو منگل کی شب ہوئی، اور فون کال کے بعد اسرائیلی وزیراعظم شدید غصے اور بے چینی کا شکار دکھائی دیے۔ بعض مبصرین کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے ساتھ نئی مفاہمت اختیار کی تو اس سے خطے میں تہران کا اثر و رسوخ مزید بڑھ سکتا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ان خبروں پر باضابطہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم سفارتی حلقوں میں اس رابطے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی تیل منڈی اور عالمی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال میں بہتری عالمی معیشت کے لیے اہم پیشرفت سمجھی جائے گی۔
