پاکستانی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، امریکا اور ایران کے درمیان جاری خطرناک تناؤ اور ممکنہ جنگی خدشات کے درمیان پاکستان کی سفارتی کوششیں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم ثالث اور رابطہ کار کے طور پر سامنے آیا ہے۔
اسی تناظر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی 24 گھنٹوں کے اندر دوسری مرتبہ تہران پہنچ گئے ہیں، جس نے عالمی سفارتی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کا یہ دورہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے اور اس کا بنیادی مقصد ایران اور امریکا کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات کو آگے بڑھانا اور خطے میں ممکنہ جنگی صورتحال کو روکنا ہے۔
چند روز قبل بھی محسن نقوی نے ایران کا اہم دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقاتیں کی تھیں۔ بعد ازاں وہ بلوچستان پہنچے جہاں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے، جس سے اس پورے سفارتی مشن کی حساسیت کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق محسن نقوی نے پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف جنرل احمد وحیدی سے بھی ملاقات کی، جس میں خطے کی سکیورٹی صورتحال، جنگ کے امکانات اور سفارتی حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مبصرین کے مطابق اتنے کم وقت میں مسلسل دورے اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بحران انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات فیصلہ کن موڑ میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق اگر تہران نے معاہدہ نہ کیا تو مزید فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے، تاہم امریکا اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دے رہا ہے۔
ادھر سعودی عرب نے بھی پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو کھلے الفاظ میں سراہا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ان کا ملک جنگ روکنے کیلئے سفارتکاری کو موقع دینے کے امریکی فیصلے اور پاکستان کی مصالحتی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کے مطابق ایسا معاہدہ ضروری ہے جو نہ صرف خطے میں امن قائم کرے بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری نقل و حمل بھی بحال رکھے۔
ایران کی جانب سے بھی سخت مگر محتاط بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران کیلئے تمام راستے کھلے ہیں لیکن دباؤ یا طاقت کے ذریعے تہران کو جھکایا نہیں جا سکتا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا دوبارہ میدان جنگ میں آیا تو اسے “بڑے سرپرائز” ملیں گے۔
دوسری طرف پاسداران انقلاب نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو جنگ صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جائیں گے۔ اسی دوران ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول مزید سخت کرتے ہوئے “کنٹرولڈ میری ٹائم زون” قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اب بحری جہازوں کو گزرنے کیلئے ایرانی اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔عالمی طاقتیں بھی اس بحران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ چینی صدر نے روسی صدر پیوٹن کے ساتھ ملاقات میں واضح کیا کہ امریکا ایران جنگ کو روکنا ناگزیر ہے کیونکہ مزید کشیدگی پورے خطے کو تباہ کن صورتحال میں دھکیل سکتی ہے۔
سیاسی اور سفارتی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستان ایک ایسے “خاموش سفارتی پل” کا کردار ادا کر رہا ہے جس پر تہران، واشنگٹن اور خلیجی طاقتیں کسی نہ کسی حد تک اعتماد کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت خطے میں امن، جنگ بندی اور مذاکرات کی کامیابی کیلئے پاکستان کی کوششیں عالمی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں۔
