ریلیف کی فراہمی کیلئے پی ٹی آئی کے ترلوں کا سلسلہ جاری

پاکستان کی سیاست میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی، محاذ آرائی اور سیاسی بے یقینی کے ماحول میں اب ایک نئی اور اہم پیشرفت سامنے آ رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اور مقتدر حلقوں کے درمیان خاموش پس پردہ رابطوں نے اعتماد سازی کے ایک نئے مرحلے کو جنم دیا ہے، جسے سیاسی مبصرین مستقبل کی ممکنہ مفاہمت اور تناؤ میں کمی کی ابتدائی بنیاد قرار دے رہے ہیں۔
روزنامہ جنگ سے وابستہ صحافی انصار عباسی کا دعویٰ ہے کہ باخبر ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں پاکستان تحریک انصاف کے نمائندوں اور حکام کے درمیان متعدد غیر رسمی رابطے ہوئے جن کا مقصد سیاسی کشیدگی کم کرنا، تصادم سے بچنا اور ایک محدود اعتماد سازی کا ماحول پیدا کرنا تھا۔ انہی بیک ڈور مذاکرات کے نتیجے میں بعض اہم اقدامات اور نرم رویے سامنے آئے ہیں جنہیں دونوں فریقوں کی جانب سے خیرسگالی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان رابطوں کے دوران حکام کی جانب سے تحریک انصاف کی قیادت کو چند واضح “ریڈ لائنز” سے آگاہ کیا گیا۔ سب سے اہم نکتہ یہ تھا کہ پارٹی رہنما اور کارکن مستقبل میں فوج اور ریاستی اداروں پر براہِ راست تنقید سے گریز کریں اور اپنی تقاریر یا عوامی بیانات میں حساس اداروں کو نشانہ نہ بنائیں۔
اسی طرح حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ تحریک انصاف کے رہنماؤں، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور عمران خان کے اہل خانہ کو اسلام آباد آنے کی اجازت ہوگی، تاہم کسی بڑے احتجاجی قافلے، جلوس یا حساس علاقوں کی جانب پیش قدمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ پیغام اُس وقت سامنے آیا جب اسلام آباد کے چونگی نمبر 26 کے قریب تحریک انصاف کے ایک مختصر اجتماع میں درجنوں گاڑیاں جمع ہوئیں اور بعد ازاں پرامن طور پر منتشر ہوگئیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام نے تحریک انصاف کو دہشتگردی، قومی سلامتی اور حساس ریاستی معاملات پر “غیر ذمہ دارانہ بیانات” سے بھی خبردار کیا۔ اسی مفاہمت کے تحت گرفتار کیے گئے بعض تحریک انصاف رہنماؤں، ارکان اسمبلی اور کارکنان کو رہا کر دیا گیا، جبکہ پارٹی قیادت کو اس پیشرفت کے بارے میں پہلے سے اعتماد میں لے لیا گیا تھا۔
ایک اور اہم پیشرفت بشریٰ بی بی سے متعلق سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی کو کمر درد کی شکایت ہے اور اگر ڈاکٹرز ہسپتال منتقلی کی سفارش کرتے ہیں تو حکام انہیں طبی مرکز منتقل کرنے پر غور کر سکتے ہیں، بشرطیکہ اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔اسی تناظر میں عمران خان کی بہن نورین خانم کیلئے بھی ملاقات کی سہولت فراہم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ بشریٰ بی بی کی بیٹیوں کو بھی آنے والے دنوں میں اپنی والدہ سے ملاقات کی اجازت دیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقے ان اقدامات کو اعتماد سازی کی ایک اہم علامت قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت بھی ایک دلچسپ موڑ اختیار کر گئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی عدم دستیابی کے باعث ملتوی کر دی گئی، تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ التوا دونوں فریقوں کی خاموش مفاہمت کے تحت ہوا تاکہ فوری تصادم یا سخت قانونی پیشرفت سے گریز کیا جا سکے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرچہ دونوں فریقوں کے درمیان مکمل اعتماد ابھی بحال نہیں ہوا، مگر کشیدگی کم کرنے اور محدود رابطوں کو بحال رکھنے پر خاموش اتفاق رائے پیدا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بیک ڈور رابطے جاری رہے تو آنے والے دنوں میں پاکستان کی سیاسی فضا نسبتاً نرم اور مستحکم ہو سکتی ہے۔
