سپریم کورٹ کے پرانے فیصلے گیلانی کی واحد امید ہیں

سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایسے مقدمات کی بہ کثرت مثالیں موجود ہیں جن میں مہر لگاتے وقت ووٹر کی نیت جانچنے کے حوالے سے فیصلہ دیا گیا۔ لہذا اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ اگر عدالت یوسف رضا گیلانی کی 7 مسترد شدہ ووٹوں کے حوالے سے پٹیشن قابل سماعت قرار دے تو فیصلہ ان کے حق میں آ جائے۔
قانونی ماہرین کے خیال میں اس وقت بڑا سوال یہ ہے کہ آیا عدلیہ یوسف رضا گیلانی کی پٹیشن کو قابل سماعت قرار دیتی ہے یا نہیں کیونکہ حکومت کا موقف ہے کہ پارلیمانی کارروائی کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اس بات پر زیادہ تر قانونی ماہرین کا اتفاق ہے کہ اگر عدالت نے گیلانی کی پٹیشن قبول کرلی تو پھر فیصلہ ان کے مسترد شدہ ووٹوں کے حق میں ہی آئے گا۔ قانونی ماہرین کے مطابق 1987میں سپریم کورٹ میں ایک ایسے ہی ایشو سے نمٹا گیا جس میں بیلٹ پیپرز اس وجہ سے مسترد کر دیے گے کہ امیدوار کے نام اور نشان سے باہر مہر لگائی گئی اور انہیں مسترد قرار دیا گیا۔ تاہم چیلنج کیے جانے پر سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے آبزرویشن دی کہ اصل میں ووٹ ڈالنے والے کی نیت کو طے کرنا ہوتا ہے، اور بیلٹ پیپر پر نشان لگانے کے لئے طے شدہ طریقہ کار کی عدم تعمیل پر بیلٹ مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
اسی طرح ایک اور کیس میں سپریم کورٹ نے ایک اپیل پر فیصلہ دیا کہ بیلٹ پیپر پر طے شدہ نشان سے ہٹ کر کوئی اور نشان لگنے کی وجہ سے ووٹ مسترد تصور نہیں ہوگا۔ یہ بھی کہا گیا کہ پریزائیڈنگ افسران کے لئے یہ صاف اصول ہے کہ اگر بیلٹ پیپر سے بلاشک و شبہ یہ ظاہر ہوتا کہ ووٹر نے ایک مخصوص امیدوار کے حق میں ووٹ دیا ہے تو کسی اور نشان کی موجودگی سے ووٹ مسترد تصور نہیں ہوگا۔ 1988میں سپریم کورٹ نے انگریزی یا اردو کےبجائے رومن اعداد سے بیلٹ پیپرز پر فیصلہ دیا کہ صرف اسی صورت میں ووٹ مسترد ہوں گے جب پہلے ہی شناخت کو ظاہر کردیا جائے۔ جب ایسا ہونا ظاہر نہیں اور کسی نے الزام بھی نہیں لگایا تو اسکا مطلب یے کہ ووٹر کی نیت صاف ہے اور اس بنیاد پر بیلٹ پیپرز مسترد نہیں کئے جاسکتے۔
ایک اور کیس میں 2002 میں سپریم کورٹ نے یہ قراردیا کہ بیلٹ پیپر پر نشان کا بنیادی مقصد ووٹر کی نیت کو یقینی بنانا ہے۔بیلٹ پیپر پر نشان جو واضح طور پر ووٹر کی نیت کو ظاہر کرے لیکن شناخت ظاہر نہ ہو اسے درست ووٹ تسلیم کیا جانا چاہئے۔ یہ بھی قرار دیا گیا کہ بیلٹ پیپر پر ووٹ دینے والے کا ارادہ صاف ظاہر ہو اور شک و شبہ کی گنجائش نہ ہو تو وہ ووٹ ضائع تصور نہیں ہوگا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سینیٹ رولز میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب اور بیلٹ پر سٹیمپ لگانے کا طریق کار درج نہیں لیکن پارلیمانی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ فیصلے کیلئے بیلٹ پیپر پر ووٹر کی نیت دیکھی جاتی ہے۔ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سے تعلق رکھنے والے حکومتی اتحادی سید مظفر حسین شاہ پختہ کار پارلیمنٹرین اور سیاستدان ہیں جو سندھ کے وزیر اعلیٰ اور صوبائی سپیکر بھی رہ چکے ہیں اور وہ بھی اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ جو ووٹ انہوں نے مسترد کیے انہیں قبول بھی کیا جاسکتا تھا لیکن ایسا کرنے کی صورت میں گیلانی جیت جاتے۔ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی کے 7 ووٹ مسترد ہونے سے معاملہ ختم نہیں ہوا۔ جیسا کہ بلاول بھٹو بھی اعلان کرچکے ہیں’ اب یہ معاملہ عدالت میں قانونی جنگ اختیار کر ے گا۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جب چیئرمین ، ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں بیلٹ پیپر پر غلط جگہ مہر لگائی گئی اور ووٹ مسترد بھی ہوئے اور درست بھی قرار دیئے گئے۔
لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پریذائیڈنگ افسر سید مظفر حسین شاہ کی رولنگ کسی عدالت میں چیلنج ہو سکتی ہے یا نہیں؟ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کسی بھی صورت ملک کی کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکتی۔ یہی موقف سابق اٹارنی جنرل انور مسعود خان نے بھی اختیار کیا ہے۔ تاہم سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں گیلانی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ غلط تھا اور اگر ووٹر کی نیت کا پتہ چل رہا ہے تو گیلانی کے ووٹ کسی بھی صورت مسترد ہونے نہیں بنتے تھے۔ انکا کہنا تھا کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا الیکشن آئین کےآرٹیکل 69 کے تحت پارلیمنٹ کی انٹرنل پروسیڈنگ میں آتا ہے۔ تاہم 1997 میں ایک اور واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ پارلیمنٹ کی انٹرنل کارروائی بھی عدالت میں چیلنج ہو سکتی ہے۔
سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کے فیصلے پر ہونے والے تنازع پر پاکستان میں جمہوری نظام میں شفافیت اور قانون سازی کے حوالے سے قائم ادارے پلڈاٹ کی آسیہ ریاض نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پریزائڈنگ آفیسر مظفر حسین شاہ نے جو فیصلہ چیئرمین کے انتخاب پر دیا اس کو سمجھنا کافی مشکل ہے اور عمومی طور پر اسے نا انصافی’ سمجھا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پریذائڈنگ آفیسر کی ہدایات کی جس طرح انھوں نے ترجمانی کی، وہ سمجھنا بہت مشکل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘میرے خیال میں انھوں نے صحیح فیصلہ نہیں دیا’۔
