سہیل وڑائچ نے جسٹس عظمت سعید شیخ کو چارج شیٹ کر دیا


سینئر صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے وفاقی حکومت کی جانب سے جسٹس عظمت سعید شیخ کو براڈ شیٹ کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف کے خلاف پاخانہ کیس کی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے لئے جو افسران اکٹھے کیے گئے تھے وہ سب شریف خاندان کے سیاسی مخالف تھے اور اُن سب کے نام انہی جج صاحب کی مشاورت سے طے پائے تھے اور اُنہی کے کہنے پر ریگولر فون کی بجائے واٹس ایپ کے ذریعے متعلقہ افراد سے بات کی گئی۔ اس کے علاوہ پانامہ کیس کی سماعت کے دوران بھی بہت سے ایسے واقعات اور پیغامات مشہور ہوئے جن میں عظمت شیخ کا نام آتا رہا اور اِس معاملے میں اُن کا کردار متنازعہ ثابت ہوا۔ جسٹس عظمت سعید شیخ کو چارج شیٹ کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ایسے شخص کو حکومت کی طرف براڈشیٹ تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ بنانا سراسر ناانصافی ہے جس کا کردار پہلے ہی سے متنازعہ ہے اور اس معاملے کا ایک فریق یعنی شریف خاندان پہلے ہی اُنہیں غیر جانبدار نہیں مانتا۔ انکا اصرار ہے کہ براڈ شیٹ پر بنی کمیٹی انصاف کے تقاضوں پر کسی بھی طرح پوری نہیں اُترتی، کیوں کہ عدل و انصاف غیر جانبداری کا تقاضا کرتا ہے اور اُس کا کم از کم معیار یہ ہوتا ہے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ پانامہ کیس کا فیصلہ دینے والے بینچ کا بھی حصہ تھے اور شریف خاندان کو اُنکے حوالے سے کئی تحفظات ہیں، ایسے میں اُنہیں تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ بنا کر اُن سے فیصلہ کروانا نہ تو انصاف ہوگا اور نہ اُسے شفاف کہا جا سکتا ہے۔ انکا کہنا یے کہ جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ قابل اور فاضل جج ہوں گے مگر ساکھ بھی ضروری یے۔ ساکھ کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حسین نواز شریف اپنے ملاقاتیوں کو وہ کاغذ دکھاتے ہیں جس میں موصوف جج نے نیب کی نوکری کے دوران شریف خاندان کے خلاف تحریری تبصرے لکھ رکھے ہیں۔ وہ فاضل جج صاحب پر یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے لئے جو لوگ اکٹھے کیے گئے تھے وہ سارے کے سارے شریف خاندان کے سیاسی مخالف تھے اور اُن سب کے نام انہی فاضل جج صاحب کی مشاورت سے طے پائے تھے۔ ان ھالات میں حکومت کو چاہیے کہ فوراً اِس فیصلے پر نظرثانی کرے اور اِس کمیٹی کی سربراہی کسی اور کو سونپے تاکہ پہلے ہی دن سے تحقیقاتی کمیٹی کو جو متنازعہ رنگ مل رہا ہے، وہ ختم ہو۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ دوسرا معاملہ فاضل جج صاحب کا اپنا بھی ہے، اُنہیں خود ہی اس کمیٹی کی سربراہی قبول نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ جج صاحب پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں کو اعتراض ہوگا۔ اس اعتراض کی بنیادی وجہ یہ ہوگی کہ وہ خود نیب کے ساتھ بطور پراسیکیوٹر کام کرتے رہے ہیں، لہٰذا وہ نیب اور براڈ شیٹ کے درمیان معاہدے کی غلطیوں کا غیرجانبداری سے کیسے جائزہ لے سکتے ہیں؟ سب سے بہتر تو یہ ہو گا کہ اِن اعتراضات اور اپوزیشن کے تحفظات کے مدِ نظر خود جج صاحب حکومت سے معذرت کر لیں اور کسی اور منصف کو انصاف کرنے کا موقع دیں۔ سہیل وڑائچ کا موقف ہے کہ اگر فاضل جج صاحب اِس تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ رہے تو جہاں اُن کے موجودہ کردار پر سوال اٹھے گا وہیں ماضی کی راکھ میں دبے ہوئے پانامہ کیس کے کئی سربستہ راز بھی کھل کر سامنے آتے جائیں گے۔

وڑائچ صاحب فرماتے ہیں کہ پاکستان میں انصاف کے ایوانوں سے عوامی توقعات ویسے بھی کم ہی پوری ہوئی ہیں، جسٹس منیر کے نظریۂ ضرورت سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے فیصلے تک بہت سے ایسے مراحل آئے ہیں جب عدلیہ نے شفاف انصاف کی بجائے طاقت کے حق میں اپنے ترازو کو جھکا دیا اور یوں عدل و انصاف اور معیار و وقار کے زوال کا باعث بنتی رہی۔
براڈ شیٹ معاملہ ایک فروعی معاملہ ہرگز نہیں، یہ کرپشن ایشو ہی کا ایک حصہ ہے اور اِس میں احتساب کرنے اور احتساب ہونے والے دونوں کے کرداروں کا تجزیہ اور ہر ایک کا رول سامنے آ جائے گا، اب جبکہ عدلیہ آزاد ہے، ملک میں جمہوریت ہے، بظاہر عدلیہ اور حکومت پر کوئی دبائو نہیں، ایسے میں عدلیہ کو خود آگے بڑھ کر ماضی کے داغوں کو مٹانے کی کوشش کرنی چاہیے اور براڈ شیٹ کے معاملے کی ایسی شفاف تحقیقات کرنی چاہیں کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے، لوگوں کو پتہ چلے کہ احتساب کے نام پر اصل میں کیا ہوتا رہا ہے اور کون ہے جو قصور وار ہے؟

سنیئر سیاسی تجزیہ نگار کے مطابق نیب اور احتساب کے ادارے اپوزیشن کو کرپٹ قرار دیتے ہیں، سپریم کورٹ نے پانامہ مقدمے میں نواز شریف کو نااہل قرار دے رکھا ہے، جبکہ شریف خاندان کے حامی برسرعام یہ کہتے ہیں کہ اُنہیں پانامہ میں نہیں اقامہ رکھنے پر سزا ملی ہے اور اُن کے وکلا کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقامہ کا معاملہ مقدمہ کی سماعت کے دوران کبھی زیر بحث ہی نہیں آیا۔ زرداری خاندان پر نیب یا احتساب کے جتنے بھی ریفرنسز یا مقدمات درج کروائے گئے، ہر ایک معاملے میں عدالتوں نے اُنہیں بری کیا، گویا اگر حکومت کے پاس الزامات کی ایک لمبی فہرست ہے تو اپوزیشن کے پاس اپنے دفاع کا بھی وسیع ذخیرہ موجود ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ تنازعات کا فیصلہ کرنے والا فریق یعنی عدلیہ بےشمار فیصلے کرنے کے باوجود سچ کے گرد لپٹی دھند کو صاف نہیں کر سکا، اب بھی احتساب اور انصاف کے حوالے سے سوالات، اعتراضات اور تحفظات پوری طاقت سے موجود ہیں، براڈ شیٹ معاملہ وزیراعظم عمران خان کے لئے ایک نادر موقع تھا کہ وہ ایک صاف، شفاف اور غیرجانبدار انکوائری کرکے حق اور سچ کو سامنے لاتے لیکن اُنہوں نے تحقیقاتی کمیٹی کو متنازعہ بنا کر پہلے ہی دن سے اُس کے کام کو جانبدارانہ رنگ دے دیا ہے۔
اپوزیشن کے حامی تو پہلے ہی دن اُسے متنازعہ قرار دے دیں گے بلکہ اپوزیشن کو موقع مل جائے گا کہ وہ احتساب، پانامہ کیس اور براڈ شیٹ کا نام لے کر حکومت کو ہدفِ تنقید بنائیں گے۔

پاکستان میں سیاست اور عدلیہ کو الگ کرنا شروع ہی سے مشکل رہا ہے، اِس لیے عدلیہ کے سیاسی کردار پر سوال اٹھنا لازم ہے، جب سے نئی اور آزاد عدلیہ تشکیل پائی ہے اُس وقت سے اِس پر اعتراضات بھی بڑھ گئے ہیں، جسٹس افتخار چودھری کی بطور چیف جسٹس بحالی، آزاد عدلیہ کی کامیابی تھی، توقع تھی کہ آزاد عدلیہ توقعات پر پورا اترتے ہوئے کم از کم ملک میں شفاف انصاف کی بنیاد رکھ جائے گی مگر جسٹس افتخار چودھری ہی کے زمانے میں یہ ظاہر ہو گیا کہ عدلیہ شخصی معاملات میں الجھ کر رہ گئی ہے اور ادارہ جاتی اصلاح کی طرف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔
چیف جسٹس ثاقب نثار اور آصف کھوسہ کے ادوار ہنگامہ خیز اور سیاسی طور پر شدید متنازعہ رہے، پانامہ فیصلے کے ذریعے عوام کی بھاری اکثریت سے منتخب کردہ وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے کر گھر بھیج دیا گیا۔ اِن سیاسی فیصلوں کے نتائج سے ملکی سیاست اوپر نیچے ہو کر رہ گئی اور یوں اِس سیاست کے چھینٹے عدلیہ کی سفید چادر پر کئی داغ ڈال گئے، براڈ شیٹ معاملہ عدلیہ، حکومت اور عوام کے لیے نیا موقع ہے کہ وہ اِس معاملے میں غیرجانبدارانہ، شفاف اور منصفانہ انکوائری کروا کے نہ صرف ماضی کے داغوں سے نجات حاصل کریں بلکہ ایک دفعہ ہمیشہ کے لیے سچ کو دھند سے نکال کر لوگوں کے سامنے آشکار کریں۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اگر اِس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو پھر ہم ماضی کی طرح احتساب کی صرف رٹ ہی سنتے رہیں گے اور اِس معاملے میں بھی اصلی اور حقیقی نتیجے تک کبھی نہیں پہنچ پائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button