جے یو آئی رہنما مولانا عطاء الرحمان کی سینیٹ میں فوج پر تنقید

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما سینیٹر مولانا عطاء الرحمان نے ایوان بالا میں فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ آج تک آپ نے کون سی جنگ لڑی ہے۔ اپنا کام آپ سے ہوتا نہیں۔ اختیارات میں کمی کی وجہ سے مہروں کے ذریعے 18ویں ترمیم کو متنازع بناکر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ انھوں نے واضح کیا کہ 18ویں ترمیم کو اگر چھیڑا تو یہ ملک ہی نہیں رہے گا، اس بل پر بحث ملک توڑنے کے مترادف ہے اور ہم اس ملک کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔
پیر کو سینیٹ کے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا عطاالرحمن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بہت عرصے بعد آج ایوان میں بات کرنے کا موقع ملا ہے اور اس وقت جو موضوع زیر بحث ہے میں اس پر گفتگو کروں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت زیر بحث لایا جارہا ہے اور اس وقت 18ویں ترمیم کو زیر بحث لانا یا این ایف سی ایوارڈ کو زیر بحث لانا ملک کو کمزور کرنے کی بات ہے۔مولانا عطاالرحمٰن نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے جب یہ بازگشت پہلی بار سنی، پہلے تو ہم نے تمام اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان سے رابطے کیے اور چاروں صوبوں میں ہم نے آل پارٹیز کانفرنسز کیں۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بہت جلد قومی سطح پر آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے، اے پی سی کا موضوع بھی این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم ہے۔
اس موقع پر انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ تمام افراد صرف مہرے ہیں، اصل لوگ سامنے نہیں آرہے، 18ویں ترمیم میں بھی ان کو جو درد ہے وہ این ایف سی ایوارڈ نہیں بلکہ ان کا اصل درد ان کے اپنے اختیارات کی کمی ہے اور یہ تمام معزز افراد مقتدر قوتوں کے مہرے ہیں اور ان کے کہنے پر کام کر رہے ہیں۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما نے مزید کہا کہ آج بھی جو افراد پس پردہ حکومت کر رہے ہیں، ان کو اس قوم سے کچھ لینا دینا نہیں، وہ بس باہر کے ممالک کو خوش کر رہے اور اس ملک کو کھا رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کو بتا دیتا ہوں کہ 18ویں ترمیم کو اگر چھیڑا تو یہ ملک ہی نہیں رہے گا اور جب یہ ملک نہیں رہے گا تو آپ لوگ کھائیں گے کیا؟کسی کا نام لیے بغیر ان کا کہنا تھا کہ ‘آج تک ان لوگوں کے بجٹ کا کوئی حساب نہیں ہے، آپ لوگوں نے آج تک کونسی جنگ لڑی ہے، اپنا کام آپ سے ہوتا نہیں اور ملک کے اندر اس طرح کی بحث چھیڑ کر کے آپ لوگ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟’سینیٹر عطاالرحمٰن نے کہا کہ میں آج اس ایوان اور ان کو بھی وارننگ دیتا ہو، اگر اس بل پر اس طرح بحث کی گئی تو یہ ملک توڑنے کے مترادف ہوگا، ہم اس ملک کو توڑنے نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن نے مخالفت نہ کی تو جمعیت علمائے اسلام (ف) اس کی بھرپور مخالفت کرے گی، ہم گلیوں اور کوچوں میں اس کی مخالفت کریں گے۔
اس موقع پر تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے مداخلت کی کوشش کی تو مولانا عطاالرحمٰن نے کہا کہ آپ کو تو میں نے کچھ نہیں بولا، آپ لوگوں کو دیہاڑی پوری ملے گی۔انہوں نے کہا کہ میں کسی اور کے خلاف بات کر رہا ہو تو ان کو کیوں تکلیف ہورہی ہے، آج ان کی دیہاڑی اچھی لگ گئی ہے۔ علی محمد خان نے ان کی گفتگو کے درمیان میں بولنے کی کوشش کی تو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہوتے کون ہے بولنے والے بیچ میں، ہاں۔اس موقع پر بیرسٹر سیف نے مولانا عطاالرحمٰن کی گفتگو پر انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ ملک دشمنوں کی زبان میں بات کر رہے اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنما سے الفاظ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔مولانا عطاالرحمٰن نے کہا کہ جی جب ہم اس بل کی مخالفت کریں گے تو دشمن ہی کہلائیں گے لیکن آپ کو کیوں تکلیف ہورہی ہے۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما رضا ربانی نے کہا کہ کشمیر میں یوم شہدا کی کال دی گئی ہے لیکن یوم شہدا کے برعکس پاکستان نے 20 مئی کو آرڈیننس جاری کیا۔انہوں نے کہا کہ آرڈیننس بھارتی جاسوس کو سزا کے خلاف اپیل کرنے کا حق دینے سے متعلق ہے اور یہ آرڈیننس رات کے اندھیرے میں جاری کیا گیا اور اس آرڈیننس کو خفیہ رکھا گیا جبکہ آرڈیننس پارلیمان میں پیش نہیں کیا گیا۔ اس موقع پر سینیٹر جاوید عباسی نے پاکستان کمیشن آف انکوائری ترمیمی بل 2020 ایوان میں پیش کیا۔ جاوید عباسی نے کہا کہ ملک میں ہونے والی بعض تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ان رپورٹس کو خفیہ رکھا جاتا ہے، ان تحقیقاتی رپورٹس کو پبلک نہیں کیا جاتا، انکوائری کمیشن اگر پبلک نہیں ہوتی تو پارلیمان میں پیش کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر رپورٹس میں کوئی حساس معلومات یا مواد ہے تو کم سے کم پارلیمان میں پیش کی جائیں اور ان رپورٹس کو ان کیمرہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔
اس موقع پر بابر اعوان نے کہا کہ اس قانون میں گنجائش موجود ہے، کمیشن تجویز دے سکتا ہے کہ اس رپورٹ کو پبلک کیا جائے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی ہے کہ رپورٹس پبلک ہوں، رپورٹس ان کیمرہ نہیں بلکہ پبلک کی جائیں۔
بعد ازاں ایوان میں اس کے بعد دستور ترمیمی بل 2020 ایوان میں پیش کیا گیا اور اسے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔پاکستان تحریک انصاف نے بل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بل پیش کرنے والے یا تو پارلیمانی نظام پر یقین نہیں رکھتے، پارلیمانی نظام کے تحت منی بل صرف نچلے ایوان سے منظوری ضروری ہوتی ہے، اگر یہ پارلیمانی نظام پر یقین نہیں رکھتے تو پھر صدارتی نظام لے آئیں۔ولید اقبال کے صدارتی نظام سے متعلق بیان پر اپوزیشن نے ایوان میں احتجاج کیا جبکہ اپوزیشن نے بیرسٹر سیف کے بل کی مخالفت کی۔جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ اس بل کو ملک کے لیے خطرناک تصور کرتا ہوں اور این ایف سی دستوری اسکیم پر خودکش حملہ نہ کریں۔
دریں اثناء ایوان بالا (سینیٹ) نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں آئینی ترمیم کا حکومتی بل پیش کرنے کی تحریک مسترد کردی۔سینیٹربیرسٹر محمد علی سیف کو آئینی ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کرنے کی اجازت نہ ملی اور بل پیش کرنے کے حق میں 17 جب کہ مخالفت میں 25 ووٹ آئے۔پاکستان تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور بلوچستان عوامی پارٹی نے بل کی حمایت کی۔ اپوزیشن جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) ،جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور دیگر نے بل کی مخالفت کی۔اس دوران ترمیمی بل پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان گرما گرمی بھی جاری رہی۔
سینیٹ میں اپوزیشن نے صدارتی نظام اور این ایف سی ایوارڈ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی مخالفت کردی۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button