سی پیک کی سست رفتاری پر چین پاکستان سے ناراض

چینی حکام نے پاک چائنہ سی پیک پروجیکٹ کی سست رفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم ترین پروجیکٹ کو وقت پر مکمل کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی میں عاصم سلیم باجوہ کی جگہ پاک چائنہ سی پیک اتھارٹی کا نیا چیئرمین لگانے کی بنیادی وجہ بھی یہی تھی کہ اس پروجیکٹ کو تیزی کے ساتھ مکمل کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ عاصم سلیم باجوہ بطور چیئرمین سی پیک اتھارٹی حال ہی میں اپنے عہدے سے فارغ کئے گئے ہیں۔
تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سی پیک اتھارٹی کا نیا چیئرمین لگائے جانے کے باوجود اس کے تحت چلنے والے منصوبوں کی رفتار تسلی بخش نہیں ہے۔ اس بات کی تصدیق سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی اور ترقی کے ایک حالیہ اجلاس میں ہوئی جب اسکی صدارت کرنے والے پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بتایا کہ سی پیک پراجیکٹ کے حوالے سے پاکستان کی غیر تسلی بخش کارکردگی پر چینی حکام اور کمپنیوں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ چینی حکام سی پیک پر کام کی رفتار سے مطمئن نہیں۔ سلیم مانڈی والا نے کہا کہ ’وہ رو رہے ہیں‘ اور چینی سفیر نے خود مجھ سے شکایت کی کہ آپ نے سی پیک پراجیکٹ کو تباہ کر دیا ہے کیونکہ گزشتہ تین برس میں اس پر کوئی کام نہیں ہوا۔ اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک امور خالد منصور نے بھی سلیم مانڈوی والا کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ چینی کمپنیاں حکومتی اداروں اور انکے کام کی رفتار سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود گوادر ایئرپورٹ پر کام کی پیش رفت سے مطمئن نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستانی اور چینی حکام نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے دورِ حکومت میں 46 ارب ڈالر کے توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔ مسلم لیگ (ن) حکومت کے اختتام تک توانائی کے 16 ہزار میگاواٹ کے کول پاور اور صاف توانائی کے منصوبے مکمل کیے گئے۔ نامور معاشی تجزیہ کار سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری کے بعض اہم منصوبوں پر کام سست روی کا شکار ہے اور مدت پوری ہونے کے باوجود بعض منصوبے مکمل نہیں ہو سکے۔ انکا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت تجویز کردہ خصوصی معاشی زونز پر بھی کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ پاکستان اور چین نے نو ایس ای زیز پر اتفاق کیا تھا لیکن ماہرین کے مطابق ایک کو بھی اب تک آپریشنل نہیں کیا جا سکا ہے۔انکا کہنا تھا کہ گوادر ماسٹر پلان کے بارے میں بھی کئی اجلاس ہوئے لیکن اس پر بھی کوئی باضابطہ پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ لہازس ان تمام چیزوں پر، بعض تجزیہ کاروں کی رائے میں چینی حکام پریشان دکھائی دیتے ہیں۔
حال ہی میں بطور چیئرمین سی پیک اتھارٹی تعینات ہونے والے خالد منصور نے سرمایہ کاروں کو درپیش مسائل پر سرمایہ کاری اور سی پیک فیز ون پاور پراجیکٹس کے معاہدے کے حوالے سے درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان میں آزاد پاور پراجیکٹس یا آئی پی پیز کی ادائیگی کے مسائل، طویل بقایا واجبات اور اسپانسرز کے منافع پر ود ہولڈنگ ٹیکس میں اضافہ شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام اب تمام چینی سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشن کی پیشکش کے لیے سرمایہ کاری سہولت مرکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ خالد منصور نے کہا کہ سی پیک اور دیگر منصوبوں پر 135 چینی کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں اور اب سی پیک پر کام کرنے والوں کا اعتماد بحال کرنا اولین ترجیح ہے۔
دوسری جانب قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سینیٹر سلیم مانڈوی نے ناراضی کا اظہار کیا کہ صوبائی اور وفاقی سطح پر مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کمیٹی کی تجاویز کو وزارت منصوبہ بندی نے پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے پر بھی غور نہیں کیا۔ کمیٹی نے وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کو ہدایت کی کہ متعلقہ حصوں کو آئندہ سال کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کرنی چاہیے تاکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر درکار منصوبے فروری سے پہلے وزارت منصوبہ بندی کو بھیجے جا سکیں۔
