شہباز کی نواز سے ناراضی کی تازہ وجہ کیا ہے؟


مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی جانب سے پنجاب کی ڈویژن سطح کی تنظیموں کے اجلاسوں کی ویڈیو لنک پر صدارت اور شہبازشریف کی ان اجلاسوں میں عدم شرکت سے یہ افواہیں زور پکڑ گئی ہیں کہ شریف برادران کے مابین بیانیے کا اختلاف شدت اختیار کر چکا ہے۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ ن نے حال ہی میں ڈویژن کی سطح پر اپنی تنظیم کے عہدیداروں کی طویل میٹنگز شروع کی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان کمرہ بند اجلاسوں میں پارٹی قائد نواز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہو رہے ہیں۔ پارٹی ترجمان کے مطابق یہ اجلاس 15 ستمبر سے 30 ستمبر تک جاری رہیں گے۔ 15 ستمبر کو ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے پارٹی عہدیداران کے پہلے اجلاس کی کچھ تصاویر پارٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئیں۔ لیکن اردو نیوز کے مطابق دلچسپ امر یہ ہے کہ اس اجلاس میں نواز شریف کی ٹیم سمجھے جانے والے مرکزی قائدین تو موجود تھے البتہ شہباز شریف کی ٹیم سمجھے جانے والے رہنما شریک نہیں ہوئے۔ اجلاس میں رانا ثناء اللہ، احسن اقبال، پرویز رشید اور مریم نواز شریک تھیں۔ پہلے اجلاس میں نہ تو شہباز شریف آئے نہ ہی حمزہ شہباز اور نہ ہی ان کی ٹیم سمجھے جانے والے رہنما۔ 16 ستمبر کو ہونے والے بہاولپور ڈویژن کے دودرے اجلاس میں بھی شہباز شریف اور حمزہ شہباز نہیں آئے۔
خیال رہے کہ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب کچھ روز قبل شہباز شریف اور ان کی ٹیم نے بھرپور طور پر فوجی چھاؤنیوں کے بورڈز کے انتخابات میں کارکردگی دکھائی اور انتخابی مہم میں ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے کی بجائے ’کام کو ووٹ دو‘ کا نعرہ لگایا۔ تاہم الیکشن نتائج آنے کے بعد نواز شریف نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں اپنے مزاحمتی بیانیے کی جیت قرار دیا تھا اور اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے خلاف ان کی جدوجہد آخر دم تک جاری رہے گی۔ شہباز شریف کی پارٹی اجلاس میں عدم شرکت کے حوالے سے جب سوشل میڈیا پر افواہوں کا سلسلہ شروع ہوا تو مریم نواز شریف نے اپنے خطاب میں اس تاثر کو رد کیا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے مابین کوئی اختلافات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نواز شریف اور شہباز شریف کی قیادت میں متحد ہے۔ تاہم مسلم لیگ ن کے اندر بیانیوں کی جنگ پر بحث نے ایک مرتبہ پھر سر اٹھا لیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے ایک اہم رہنما نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ درست ہے کہ اس وقت گراس روٹ لیول پر پارٹی میں نواز شریف براہ راست متحرک ہیں اور ان اجلاسوں میں شہباز شریف خود اپنی مرضی سے نہیں آ رہے۔’ انکامکہنا تھا کہ وہ آئیں گے، اجلاس میں شرکت بھی کریں گے لیکن جیسے شروع سے آخر تک نواز شریف اجلاسوں کی صدارت کر رہے ہیں ویسا نہیں ہو گا۔ لیکن کوئی لڑائی نہیں ہے۔ اپنا اپنا طریقہ ہے۔ انکا کہنا تھا کہ نواز شریف کے اس طرح ڈویژن لیول پر تنظیمی ذمہ داران سے رابطے میں آنے پر بھی کسی بھی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے، بلکہ سب کو پتا ہے کہ نواز شریف کا اپنا سیاست کا طریقہ ہے اور شہباز صاحب کا اپنا ہے۔ نواز شریف اچھے طریقے سے جانتے ہیں کہ انہوں نے اپنا ووٹ بینک کیسے قابو رکھنا ہے۔‘
مسلم لیگ ن کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اس وقت نواز شریف ہی نہیں بلکہ پوری پارٹی ہی متحرک ہے کیونکہ کنٹونمنٹ بورڈز الیکشن کے نتائج نے پارٹی پر اچھا تاثر چھوڑا ہے۔انہوں نے کہا ’آپ کو یہ بات سمجھنے کے لیے آزاد کشمیر کے الیکشن سے بات شروع کرنی پڑے گی۔ وہاں شہباز فیکٹر نہیں تھا اور ایشو بیسڈ کمپین کی بجائے جلسے بھرنے والی تقریریں کی گئیں جس کے نتائج ٹھیک نہیں آئے۔ مسلم لیگ ن کا لوگوں کو ریلیف دینے اور کام کرنے کا بیانیہ آزاد کشمیر میں بولا ہی نہیں گیا اور ان نتائج سے پارٹی میں مایوسی بھی آئی۔‘
’یہی وجہ ہے کہ کینٹ کے انتخابات میں کمپین شہباز شریف کی سربراہی میں چلی اور کام کو ووٹ دینے کی بات کی گئی۔ اس کے نتائج بھی سب کے سامنے ہیں۔ کیونکہ لوگ اسی کو پسند کریں گے جو اپنی سیاست سے زیادہ عوام کی بات کرے۔ انکا کہنا ہے کہ مہنگائی نے عوام کا جو برا حال کر رکھا ہے اسے انتخابی نعرہ نہ بنانا حماقت ہو گی۔
اس حوالے سے سینئر صحافی سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ نون لیگ کے اندر اختلافات کی بات اب پرانی ہو چکی۔’اب تو وہ سب بھگت چکے جو انہوں نےبھگتنا تھا۔ ووٹ تو ہے ہی نواز شریف کا لیکن عوام کے سامنے بات کیسے رکھنی ہے یہ بھی اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقتدر حلقوں کی طرف سے شہباز شریف کو ہری جھنڈی دکھائی گئی ہے، اس لیے وہ اپنے طریقے سے چل رہے ہیں اور ان کا اپنا برانڈ ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ڈویژنل سطح کے اجلاسوں کا مقصد پارٹی کو دوبارہ سے متحرک کرنا ہے۔ نواز شریف خود نچلی سطح تک لوگوں سے براہ راست بات کر رہے ہیں، ان کے مسائل سن رہے ہیں اور ان کی رائے بھی لے رہے ہیں۔ اس کے بعد ایک مربوط پالیسی بنائی جائے گی جس میں ووٹ کو عزت دو بھی ہو گا اور خدمت کو ووٹ دو بھی۔ برانڈنگ آگے پیچھے ہو سکتی ہے۔ کیونکہ وہ بھی ایک سیاسی جماعت ہے اور ان کی نظریں بھی اگلے انتخابات پر ہیں۔ لیکن اس صورتحال کو اس تناظر میں دیکھنا کہ پارٹی کے اندر کوئی اقتدار کی جنگ چل رہی ہے، مناسب تجزیہ نہیں ہو گا کیونکہ دونوں دھڑوں نے ایک دوسرے کی حقیقت کو تسلیم کر رکھا ہے۔

Back to top button