شاہ رخ خان نے انڈرورلڈ کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کردیا تھا، فلمساز سنجے گپتا
1990 کی دہائی میں بالی ووڈ پر انڈرورلڈ کے اثر و رسوخ کے باوجود شاہ رخ خان نے فلم اور شو کرنے سے صاف انکار کیا، فلمساز کا انکشاف

بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان نے 1990 کی دہائی میں فلمی صنعت پر انڈرورلڈ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور دھمکیوں کے باوجود دباؤ قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔
فلمساز سنجے گپتا نے یوٹیوب چینل پر گفتگو کے دوران 1990 کی دہائی میں ممبئی کی فلمی صنعت اور انڈرورلڈ کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے شاہ رخ خان کے رویے کا خصوصی ذکر کیا۔
سنجے گپتا کے مطابق اس دور میں فلمی ستاروں سے لے کر ہدایت کاروں تک تقریباً ہر اہم شخص انڈرورلڈ کے نشانے پر تھا۔ انہوں نے بتایا کہ فلموں کی شوٹنگ کے دوران انڈرورلڈ سے وابستہ افراد سیٹ پر آتے اور فلموں میں سرمایہ کاری یا شمولیت کے حوالے سے اپنا اثر استعمال کرتے تھے۔
فلمساز نے کہا کہ ایک پنجابی اداکار فلم سٹی میں مردہ پایا گیا، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ پولیس کا مخبر تھا۔ اسی طرح اداکارہ منیشا کوئرالا کے سیکریٹری کو بھی ان کے دفتر میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا، جبکہ فلمساز راکیش روشن پر بھی حملہ کیا گیا۔
سنجے گپتا کے مطابق یہ محض بھتہ خوری کی فون کالز تک محدود نہیں تھا بلکہ فلمی صنعت سے وابستہ افراد کو مختلف طریقوں سے دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا رہتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً ہر بڑے اداکار اور اداکارہ کو انڈرورلڈ کی جانب سے ان فلموں کے کاغذات پر دستخط کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا تھا جنہیں انڈرورلڈ سے وابستہ افراد بنانا چاہتے تھے۔
فلمساز کے مطابق شاہ رخ خان وہ واحد شخص تھے جنہوں نے اس دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ جب شاہ رخ خان کو دھمکیاں دی گئیں تو انہوں نے دوٹوک انداز میں جواب دیا، ’’فلم تو کبھی نہیں کروں گا، شو کبھی نہیں کروں گا، پٹھان ہوں، گولی مارنی ہے مار دو۔‘‘
سنجے گپتا نے کہا کہ شاہ رخ خان نے واضح کردیا تھا کہ وہ انڈرورلڈ کے ساتھ نہ فلم کریں گے اور نہ ہی ان کے لیے کوئی شو کریں گے۔
فلمساز کے مطابق شاہ رخ خان کے اس مؤقف نے بالآخر ان کے لیے احترام پیدا کیا۔ ان کے بقول انڈرورلڈ سے وابستہ لوگوں نے بھی محسوس کیا کہ فلمی صنعت میں کم از کم ایک شخص ایسا ہے جو ان کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
اس سے قبل فلمساز فرح خان نے رنویر الہ آبادیہ کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران بھی تسلیم کیا تھا کہ 1990 کی دہائی میں بالی ووڈ کے بڑے اداکاروں کو انڈرورلڈ کے دباؤ کا سامنا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا تینوں خانز کو بھی انڈرورلڈ کی جانب سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا تو فرح خان نے جواب دیا تھا کہ ہاں۔
سنجے گپتا نے مزید بتایا کہ فلم ’ڈپلیکیٹ‘ یا ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کے پریمیئر کے موقع پر کرن جوہر کو انڈرورلڈ کی جانب سے دھمکی دی گئی تھی۔ دھمکی کے بعد یہ سوال بھی اٹھا تھا کہ پریمیئر منسوخ کیا جائے یا اسے معمول کے مطابق منعقد کیا جائے۔
شاہ رخ خان نے تھیٹر سے اداکاری کا آغاز کیا اور 1988 کے ٹی وی ڈرامے ’دل دریا‘ میں مرکزی کردار ادا کیا، تاہم پروڈکشن میں تاخیر کے باعث ’فوجی‘ ان کا پہلا نشر ہونے والا ڈراما بنا، جس نے انہیں گھر گھر میں مقبول کردیا۔
بعدازاں انہوں نے ’امید‘، ’سرکس‘ اور ’وگلے کی دنیا‘ سمیت متعدد ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کیا۔
شاہ رخ خان ابتدا میں اداکاری کو اپنا کیریئر بنانے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے تھے، تاہم 1990 میں والدہ کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنا ارادہ تبدیل کیا اور دہلی سے ممبئی منتقل ہوگئے۔
1992 میں فلم ’دیوانہ‘ سے انہوں نے بڑے پردے پر قدم رکھا اور اس کے بعد کامیابیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔
2023 میں فلم ’پٹھان‘ اور فلم ’جوان‘ کی کامیابی کے بعد اب شاہ رخ خان فلمساز سدھارتھ آنند کی فلم ’کنگ‘ میں نظر آئیں گے، جس کی ریلیز دسمبر 2026 میں متوقع ہے۔
