شاہ محمود، اسد اور ترین کو زبردستی PTI میں کون لایا؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے دعوی کیا ہے کہ شاہ محمود قریشی، جہانگیر خان ترین، اسد عمر اور شفقت محمود کو تحریک انصاف میں فوجی اسٹیبلشمنٹ نے شامل کروایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چار لوگ پی ٹی آئی کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے یہ مجھے یہ بات ان چاروں افراد نے خود بتائی تھی۔ اسی طرح خیبر پختون خوا میں بھی بعض لوگ شکایت کر رہے تھے کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے پی ٹی آئی میں لایا جا رہا ہے۔ تاہم پراجیکٹ عمران کھڑا کرنے والی اسٹیبلشمنٹ نے بالآخر الیکشن 2018 میں تاریخ ساز دھاندلی کے ذریعے خان کو وزیراعظم بنا دیا۔

نیا دور کے ٹاک شو ‘خبر سے آگے’ میں سلیم صافی نے بتایا کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لیے بہت سارے لوگوں نے کردار ادا کیا۔ سابق آئی ایس آئی چیف جنرل حمید گل مرحوم اور عمران خان کے مابین طے ہوا تھا کہ ان میں سے ایک پارٹی کا چیئرمین اور ایک صدر ہو گا، مگر عمران خان اپنے وعدے سے مکر گئے جس کے بعد حمید گل ان سے دور ہو گئے۔ صافی بتاتے ہیں کہ الیکشن 2018 سے پہلے میری کچھ صحافیوں کے ہمراہ جنرل باجوہ سے ملاقات ہوئی جس میں ہمیں پتہ چلا کہ وہ تو عمران کے بڑے مداح بن چکے ہیں اور ان کو پاور میں لانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ میڈیا اور عدلیہ کو بھی اس مقصد کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔ پراجیکٹ عمران اتنا اوپن ہو چکا تھا کہ 2018 کے الیکشن میں انہیں جتوانے کے بعد آئی ایس پی آر کے ڈی جی آصف غفور نے شکرانے کا ٹوئیٹ کیا تھا۔

سلیم صافی کے بقول عمران خان نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے خود کو مسیحا بنا کر پیش کیا تھا، نوازشریف کے ساتھ انتقام کا پہلو بھی تھا، اس لئے عمران خان کو لایا گیا تھا۔ لیکن خان کو اقتدار دینے کے پتہ چلا کہ ان کے پاس کوئی ٹیم نہیں تھی، انہوں نے کوئی ہوم ورک نہیں کیا تھا، وہ خود بھی نااہل اور نکمے تھے، لہٰذا موصوف نے معیشت کا بیڑا غرق کر دیا، صافی کے بول عمران خان کی حکومت نے جون میں ڈیفالٹ کر جانا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے خارجہ محاذ پر بھی معاملات کو تباہ کر لیا تھا، اسٹیبلشمنٹ حالات ٹھیک کرتی تھی تو عمران خراب کر دیتے تھے۔ لیکن عمران خان کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی بطور ڈی جی آئی ایس آئی تعیناتی روکنا عمران اور فوج کے تعلقات میں بڑی خرابی کا باعث بنا۔ اپنے دور حکومت میں عمران نے تمام تر نا اہلی اور غلطیوں کو چھپانے کے لئے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ڈھال بنا کر رکھا ہوا تھا۔ چنانچہ کور کمانڈرز کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو بچانے کے لیے پروجیکٹ عمران خان سے پیچھے ہٹنا ہو گا، اس فیصلے کے بعدفوجی اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہو گئی اور عمران تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں فارغ ہوگئے۔

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ جنرل قمر باجوہ نے ایک بندے اور اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اپنے ادارے کو بدنام کیا اور سیاسی جماعتوں کی دشمنی بھی مول لی، اسی وجہ سے وہ اپنے ادارے کے اندر بھی تنقید کا نشانہ بنے، عمران خان نے آرمی کی اہم تعیناتیوں میں بھی روڑے اٹکائے، جنرل باجوہ کو غدار سے تشبیہہ دیتے ہوئے میر جعفر اور میر صادق کہا، لہذا باجوہ کو عمران خان کو لانے کا پچھتاوا ہے کیونکہ ان کے ساتھ احسان فراموشی اور محسن کشی ہوئی، لیکن سچ یہ ہے کہ اس حرکت کا زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ جہانگیر خان ترین، نعیم الحق اورعون چودھری جیسے چند وفادار لوگ تھے، انکے علاوہ جو لوگ عمران کے اردگرد جمع ہیں وہ سب خوشامدی ٹولہ ہے جسے صرف اپنا مفاد عزیز ہے۔صافی نے بتایا کہ عمران خان نے وزیراعظم کا حلف اٹھانے سے پہلے ہی عون چوہدری کا پرائم منسٹر ہاؤس میں داخلہ بند کر دیا تھا اور انہیں حلف برداری کی تقریب میں شرکت سے بھی روک دیا جس کی تصدیق اب خود عون بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عون چودھری عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطہ کار تھے۔

سلیم صافی نے کہا کہ عمران خان کو پارٹی فنڈنگ کیس میں 8 سال سے این آر او ملا ہوا ہے۔ توشہ خانہ کیس، ٹیریان خان کیس، لندن سے آئی ہوئی رقم اور شہزاد اکبر والے کیسز میں بھی انہیں رعایت ملی ہوئی ہے، اگر عدلیہ اور الیکشن کمیشن پر پریشر نہیں آتا تو پھر عمران کا ان کیسز میں بچنا مشکل ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں دخل اندازی غیر آئینی اور گناہ ہے، اس لئے پہلے گناہ کی تلافی کرنا ہو گی، مگر فوجی اسٹیبلشمنٹ نے کچھ معاملات کو چھوڑ کر نیوٹرل ہونے کا فیصلہ کیا یے۔ لیکن اسٹیبلشمینٹ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر کوئی انکی ریڈ لائن کراس کرے گا تو اس کا سخت ترین ردعمل آئے گا۔

Back to top button