شوگر کمیشن کیخلاف سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

وفاقی حکومت نے شوگر انکوائری کمیشن کو کالعدم قرار دینے کے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی توسط سے دائر 17 صفحات پر مشتمل اپیل میں کہا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ کے سامنے وزارت داخلہ کی بھیجی گئی سمری پروسیجرل معاملہ ہے، کابینہ کا فیصلہ حتمی اور سب پر لاگو ہوتا ہے، کمیشن کا نوٹیفکیشن دوبارہ جاری کرنے سے اس کی تحقیقات پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ کمیشن کی رپورٹ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ ہے جس کو کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا، رپورٹ پر جب تک حتمی عمل در آمد نہیں ہوتا تو کس طرح ملز مالکان کے حقوق متاثر ہوئے ہیں، ملز مالکان کی شہرت کو نقصان پہچانے کے خدشے پر کمیشن کی کارروائی کو نہیں روکا جاسکتا، حکومت عوامی مفادات کی محافظ ہے، جہاں عوام کے بنیادی حقوق جڑے ہوں وہاں حکومت تحقیقات کرنے کا حق رکھتی ہے۔
خیال رہے کہ سندھ کے بیس سے زائد شوگر ملز مالکان نے شوگر انکوائری کمیشن کی تشکیل اور رپورٹ کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔سندھ ہائی کورٹ نے 17 اگست کو شوگر انکوائری کمیشن اور رپورٹ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نئی آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ نیب اور ایف بی آرگزشتہ کمیشن رپورٹ سے ہٹ کر غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے۔ کمیشن میں شوگر انڈسٹری سے متعلق معلومات رکھنے والوں کو بھی شامل کیا جائے۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ کسی کو غیر قانونی یا ناجائز سبسڈی دی گئی ہے تو پتا لگایا جائے اور کسی حکومتی عہدیدار نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا تو تحقیقات کی جائیں۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر ٹیکس قوانین کے مطابق تحقیقات کرے جب کہ ایف آئی اے بھی اس حوالے سے از سر نو تحقیقات کرے۔ سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن اور اسٹیٹ بینک اپنی ذمہ داری ادا کریں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سندھ ہائیکورٹ کو بتایا کہ تحقیقات شوگر ملز مالکان کے خلاف نہیں تھیں بلکہ چینی کی قلت کی وجوہات جاننے کے لیے کی گئیں، کمیشن کی رپورٹ میں چینی کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا پتا لگایا گیا ہے، شوگر ملز مالکان کے خلاف کوئی براہ راست الزام نہیں ہے اور نہ ہی انکو کام سے روکا گیا ہے۔
واضح رہے کہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں چینی بحران کا ذمہ دار ریگولیٹرز کو قرار دیا گیا ہے۔ ریگولیٹرزکی غفلت کے باعث چینی بحران پیدا ہوا اورقیمت بڑھی۔ 5 سال میں 29ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق وفاق نے 15.20 ارب روپے کی سبسڈی دی اور سندھ حکومت نے 9.3 ارب روپے کی سبسڈی دی۔رپورٹ کے مطابق 5سال میں 88 شوگر ملزکو 29 ارب کی سبسڈی دی گئی۔ 5سال میں ان شوگر ملز نے 22 ارب روپے کا انکم ٹیکس دیا۔ ان شوگر ملز نے 12 ارب کے انکم ٹیکس ریفنڈز لیے یوں کل 10 ارب روپے انکم ٹیکس دیا گیا۔کمیشن نے رپورٹ میں لکھا کہ سندھ حکومت نے 9.3 ارب روپے کی سبسڈی دے کر اومنی گروپ کو فائدہ پہنچایا۔فرانزک آڈٹ رپورٹ میں چینی اسیکنڈل میں ملوث افراد کےخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے اور ریکوری کرنےکی سفارش کی گئی ہے جب کہ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ریکوری کی رقم گنےکے متاثرہ کسانوں میں تقسیم کردی جائے۔چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فارنزک کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین، مونس الٰہی، شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ، اومنی گروپ اور عمرشہریار چینی بحران کے ذمے دار قرار دیے گئے ہیں۔
