شہباز شریف، حمزہ شہباز کی پانچ روز کے لیے پیرول پر رہائی

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو ان کی والدہ کے انتقال پر 5 دن کےلیے کوٹ لکھپت جیل سے پیرول پر رہا کر دیا گیا۔
شہباز شریف اور حمزہ شہباز جیل سے رہائی کے بعد جاتی امرا روانہ ہوگئے جہاں کل ان کی والدہ کی نماز جنازہ ہوگی۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی کابینہ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو 5 روز کےلیے پیرول پر رہا کرنے کی منظوری دی تھی جس کے بعد جیل حکام نے انہیں رہا کردیا۔ شہباز شریف کی والدہ کا جسد خاکی کل لاہور پہنچے گا اور جاتی امرا میں نماز جنازہ اور تدفین ہوگی۔ قبل ازیں شہباز شریف کی پیرول پر رہائی کےلیے کوٹ لکھپت جیل کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی۔شہباز شریف کا ذاتی پروٹوکول اسٹاف ان کو لینے کوٹ لکھپت جیل پہنچ گیا تھا۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی والدہ شمیم اختر 22 نومبر کو لندن میں انتقال کرگئی تھیں۔
بعد ازاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطاء اللہ تارڑ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پیرول پر رہائی کی درخواست لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو جمع کرا دی تھی۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف کو اپنی والدہ اور حمزہ شہباز کو اپنی دادی کی آخری رسومات میں شرکت کےلیے پیرول پر فوری طور پر رہا کیا جائے۔ درخواست میں دو ہفتے کی پیرول کی استدعا کی گئی تھی جبکہ پنجاب کی کابینہ نے صرف 5 دن کی منظوری دی ہے۔عطااللہ تارڈ نے درخواست میں کہا تھا کہ شہباز شریف کی والدہ اور حمزہ شہباز کی دادی شمیم اختر کا لندن میں 22 نومبر کو انتقال ہوگیا ہے اور لاہور میں ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز قومی احتساب بیورو کے دائر کردہ ریفرنسز میں جوڈیشل کسٹڈی میں لاہور کے کوٹ لکھپت جیل میں ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ ہماری روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں کو رشتہ داروں، دوستوں اور پارٹی کے لوگوں سے تعزیت وصول کرنی ہے اور اپنی ہر دلعزیز ماں/ دادی کی آخری رسومات ادا کرنی ہیں۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ ماں کے دنیا سے رخصت ہو جانے سے بڑا اور صدمہ کوئی نہیں، اپنے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کے ساتھ اس غم میں شریک ہونے کےلیے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہوں نے استدعا کی تھی کہ جیل قواعد 1978 کے تحت دونوں کو کم از کم دو ہفتے کےلیے پیرول پر رہا کیا جائے تاکہ وہ آخری رسومات کی ادائی کرسکیں اور اپنے سوگوار خاندان کے ساتھ کچھ وقت گزار سکیں۔ درخواست پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اور انسپکٹر جنرل جیل خانہ کو بھی ارسال کی گئی تھی۔
