شہباز شریف نے PTIکی مردہ سیاست کو کیسے زندہ کیا؟

سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کی پاکستان واپسی لگ بھگ چار برس بعد ہونے والی ہے تاہم اِن چار برسوں میں ملکی سیاست نے کئی کروٹیں لی ہیں۔نون لیگ کی مقبولیت کو ملکی سیاست کے بدلتے حالات نے ٹھیس پہنچائی۔ایسے میں یہ سوال اُٹھ رہا ہے کہ کیا نواز شریف کی 21 اکتوبر کو واپسی پنجاب میں ن لیگ کو لگنے والی سیاسی ضرب کی تلافی کر پائے گی؟

خیال رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لاہور تک جی ٹی روڈ پر کئی اضلاع اور اُن میں متعدد قومی اسمبلی کے حلقے ہیں جن میں مسلم لیگ ن کا ہمیشہ سے ووٹ بینک رہا ہے۔مسلم لیگ ن کی اعلیٰ درجے کی قیادت زیادہ تر اِن اضلاع سے ہی تعلق رکھتی ہے جو ملکی یا پارٹی سطح کی فیصلہ سازی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہے۔اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو 2018 میں جب نوازشریف اپنی بیٹی سمیت پابندِ سلاسل تھے تو ن لیگ اِن اضلاع کی کُل قومی اسمبلی کی 75 نشستوں میں سے 45 پر کامیاب رہی۔ اسی طرح سنہ 2013 میں اِن اضلاع کی کل سیٹیں 83 تھیں اور مسلم لیگ ن نے 75 پر کامیابی حاصل کی تھی۔

واضح رہے کہ میاں نوازشریف کی سیاست کی ابتدا 80 کی دہائی میں ہوئی اور جی ٹی روڈ سے ’رومانس‘ کا آغاز بھی تبھی ہوا۔17 اگست 1989 کو بے نظیر بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں نواز شریف نے اسلام آباد کی فیصل مسجد میں ضیا الحق کی پہلی برسی کے موقع پر اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کرتے ہوئے لاہور سے جی ٹی روڈ کے ذریعے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا تھا۔سنہ 2009 میں عدلیہ بحالی تحریک ہو یا 2017 میں سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد کا سیاسی ماحول، میاں نواز شریف نے جی ٹی روڈ پر ہی ’مجھے کیوں نکالا‘ اور ’سول بالادستی‘ کا بیانیہ اپنایا۔شاید یہی وجوہات ہیں جن کی بنا پر چند سیاسی حلقے ن لیگ کو ’جی ٹی روڈ کی جماعت‘ کہتے ہیں۔

19 نومبر 2019 کو میاں نوازشریف علاج کے غرض سے لندن چلے گئے۔ 16 اکتوبر 2020 کو پی ڈی ایم اتحاد کے گوجرانوالہ جلسے میں میاں نواز شریف نے لندن سے ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’سلیکٹڈ (عمران خان) کو لانے والوں کو جواب دینا پڑے گا۔‘گوجرانوالہ کا جلسہ اور اُس میں کیا جانے والا خطاب میاں نوازشریف کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ کی بنیاد بن گیا۔ اپریل 2021 میں ڈسکہ کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 سے مسلم لیگ ن کی خاتون اُمیدوار کامیاب ہوئیں اور یوں نواز شریف نے اپنی پارٹی کی مقبولیت کو برقرار رکھا۔

مبصرین کے مطابق ’نواز شریف کا پانچ ،چھ سال پہلے کا بیانیہ ’مجھے کیوں نکالا‘ سے ملک چھوڑنے تک اُن کی مقبولیت کا گراف نیچے نہیں آیا تھا۔ میاں نوازشریف جب چار سال پہلے یہاں موجود تھے تو لاہور میں اُن کی جماعت مقبول ترین جماعت تھی جبکہ دوسری جانب
مسلم لیگ ن کے رہنما ہوں، پی ٹی آئی کو چھوڑ جانے یا دیگر جماعتوں کے لیڈرز یا پھر سیاسی مبصرین، سب اس بات پر متفق ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی سے پہلے عمران خان کی مقبولیت ختم ہو کر رہ گئی تھی اور اگر وہ مزید 16 ماہ حکومت کرتے تو یقینی طور پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر کھو چکے ہوتے۔تاہم ’شہباز شریف کا سولہ ماہ کے لیے حکومت کرنا، مسلم لیگ ن کی سب سے بڑی سیاسی غلطی بن گیا۔جس نے نون لیگ کی مقبولیت کو سخت دھچکا پہنچایا۔

مبصرین کے مطابق اپریل 2022 میں عمران حکومت کے خاتمے کے بعد پنجاب اور جی ٹی روڈ کی سیاست بدلنا شروع ہو گئی۔ مگر یہ اچانک نہیں ہوا۔ 2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے اُمیدواروں نے اِن علاقوں میں خود کو رجسٹرڈ کروا لیا تھا۔17 جولائی 2022 کو پنجاب کے 20 صوبائی حلقوں میں ضمنی الیکشن ہوئے تو 15 سیٹیں پی ٹی آئی نے حاصل کیں۔ 16 اکتوبر 2022 کو قومی اسمبلی کے 8 حلقوں میں ضمنی الیکشن ہوا جس میں سات سیٹوں پر عمران خان نے خود الیکشن لڑا اور وہ 6 میں کامیاب رہے۔تاہم 9 مئی کے واقعے کے بعد پی ٹی آئی اور اُس کی لیڈر شپ شدید دباؤ میں آ گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عمران خان سمیت کئی رہنما جیلوں میں ہیں، باقی پارٹی چھوڑ چکے اور جو رہ گئے ہیں، وہ روپوش ہیں۔

مگر دوسری طرف، نچلی سطح پر عمران خان کی عوامی مقبولیت، میاں شہباز شریف کی بطور وزیرِ اعظم 16 ماہ کی معاشی حکومتی کارکردگی اور میاں نوازشریف کی سیاسی میدان سے غیر حاضری کی بدولت یہ بحث جاری ہے کہ ن لیگ کا ووٹر پارٹی قیادت سے نالاں ہے اور سوال اُٹھائے جا رہے ہیں کہ میاں نواز شریف کی واپسی اب کتنی موثر ثابت ہو گی؟سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جی ٹی روڈ کے طرزِ سیاست میں ایک بڑی تبدیلی انتخابی سٹرکچر کی ہے۔ آنے والا الیکشن گذشتہ انتخابات سے مختلف ہو گا۔ الیکشن لڑنے اور ووٹ لینے کا پرانا طریقہ کار اب شاید کارآمد نہ رہے۔انتخابی سٹرکچر کی تبدیلی، دھڑے اور برادری کی سیاست، پینل جیسے فرسودہ سانچوں کو توڑتی محسوس ہو رہی ہے۔ جی ٹی روڈ کے اضلاع اور ملحقہ علاقوں میں مڈل کلاس میں اضافہ ہوا ہے اور انتخابی عمل میں برادری کا فیکٹر کمزور ہوا ہے۔

مبصرین کے مطابق’مڈل کلاس سیاست دانوں کے خلاف رہی ہے اور پولنگ کے دِن ووٹ ہمیشہ دوردراز کے غریب طبقات ہی زیادہ دینے آتے ہیں۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’عمران خان نے مڈل کلاس میں اپنا بیانیہ مقبول کیا اور ان کو موروثی اور خاندانی سیاست کے بھی خلاف کر دیا۔‘’مسلم لیگ ن متبادل قیادت پیدا نہیں کر سکی اور متبادل نظریہ بھی پارٹی کے ہاں پیدا نہ ہوسکا۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’خاندانی سیاست سے ن لیگ کیسے باہر آئے گی؟ یہ فی الحال ممکن نہیں کیونکہ خاندانوں کے باہمی تعلقات ہیں لیکن مڈل کلاس کی وجہ سے خاندانی سیاست نہیں چلنے والی۔‘ ’ن لیگ کو اپنی کھوئی طاقت کو بحال کرنے کے لیے کچھ بہت ہی غیر معمولی سطح پر کرنا ہو گا، اپنا کوئی بیانیہ دینا ہو گا اور جدید ڈیجیٹل تکنیک کو بھی بروئے کار لانا ہو گا۔‘

Back to top button