شہباز شریف کا عاصم باجوہ کے اثاثہ جات کا نوٹس لینے کا مطالبہ

مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان سے معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ کے مبینہ اثاثہ جات کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہبازشریف حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہونے والے شہر قائد کے دورے پر کراچی پہنچے ، دورے میں مسلم لیگ ن کے رہنما سابق وفاقی وزیر احسن اقبال اورسابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب بھی ان کے ہمراہ تھے ۔
شہباز شریف میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے جب ان سے صحافی نے سوال کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی جائیدادوں سے متعلق الزامات سامنے آئے ہیں، اس پر کیا کہیں گے ؟۔جس کا جواب دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عمران احمد نیازی دن رات اپوزیشن کو چور ڈکیت کہتا ہے، ان کی اپنی حکومت میں جو بڑے بڑے اسکینڈل سامنے آئیں ہیں وہ ان کا نوٹس لیں اور جواب دیں۔
خیال رہے کہ یکم ستمبر کے روزمسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور چئیرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے اہلخانہ کے مبینہ اثاثوں کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات پر کہا تھا کہ عاصم باجوہ سکینڈل نے عمران کا احتسابی بیانیہ دفن کر دیا ہے. یہ ایک فرد کا معاملہ ہے’ جس پر الزمات لگے ہیں انہیں اس کا جواب دینا چاہیئے۔ اس میں ریاست، سی پیک یا کسی ادارے کو درمیان میں نہیں لانا چاہیے. اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے اس معاملے پر کہا کہ ان الزامات کا جواب سازش ہے نہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا کوئی بہانہ ہے اور نہ اس کے درمیان ریاست کو لانا چاہیئے۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ سی پیک کے بانی نواز شریف جو 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں لے کر آئے انہیں اگر ایک اقامے پر نکالنے پر سی پیک کو کچھ نہیں ہوا تو ایک فرد کے آنے جانے سے یا احتساب کا سامنا کرنے سے بھی سی پیک کو کچھ نہیں ہوگا۔ اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ عاصم باجوہ پر جو الزامات لگے ہیں یہ اس دور کے الزامات ہیں جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی تو کیا وجہ تھی کہ وہ اپنے ماتحتوں کی نگرانی نہیں کرسکی۔جس کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ ان کے خلاف جو ‘ثبوت’ سامنے آئے وہ وہ بہت بڑے ہیں انہیں چاہیے کہ آ کر اس کا دفاع کریں اس پراپنی پوزیشن کو قوم کے سامنے واضح کریں، اگر آپ ٹیکس دہندگان کے پیسے پر سرکاری عہدہ پر ہیں اور کوئی الزام لگتا ہے، اس کے ثبوت پیش کیے جاتے ہیں تو آپ کو قانون کا سامنا کرنے سے کترانا نہیں چاہیئے۔اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) کی جانب سے قانونی کارروائی کے امکان کے سوال پر رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ پارٹی جو کرے گی وہ پارٹی خود فیصلہ کرے گی۔
