پیزا بزنس ایک منافع بخش ترین کاروبار کیسے بنا؟

جیسے پیزا کا نام سنتے ہی ہر بچے اور بڑے کے منہ میں پانی آجاتا ہے اسی طرح آج کل پاپا جونز پیزا کا نام آئے تو باجوہ خاندان کا نام فوری ذہن میں آتا ہے۔
پیزا کی تاریخ دیکھی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اصل موجد یونانی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے روٹی پر پنیر، سبزیاں اور تیل ڈال کر اولین پیزا تیار کیا۔ تاہم آج کا جدید پیزا ایک ہزار سال پہلے اٹلی میں بنایا گیا جس نے بعد ازاں دنیا بھر میں شہرت پائی۔ اب اٹلی سٹائل کا یہ پیزا دنیا کے تقریبا تمام ممالک میں کھایا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ایک سال میں تقریباً پانچ ارب سے زائد پیزا فروخت کیے جاتے ہیں لہذا اب دنیا میں پیزا کا بزنس ایک منافع بخش ترین کاروبار کے طور پر جانا جاتا ہے جیسا کہ باجوہ خاندان کے باجکو گروپ کے ایک سو ارب سے زائد کے بیرون ملک اثاثوں سے ظاہر ہے۔
پیزا کا جنم اطالوی شہر نیپلز میں ہوا تھا۔ یہاں کے نام سے یہاں کا پیزا ‘نیپولیٹن’ مشہور ہے۔ اس شہر میں پیزا بنانے کی روایت کو 2017 میں یونیسکو نے یہاں کے ورثے کے طور پر بھی تسلیم کیا ہے۔ یہاں ایک ہی خاندان کی نسلیں برسوں سے پیزا بناتی اور سیکھتی چلی آ رہی ہیں۔ اٹلی میں نسلوں سے پیزا بنانے والے خاندان اپنی تکنیک میں اوروں سے جدا نسخوں کو بہت سنبھال کر رکھتے ہیں۔ اس معاملے میں ان کے جذبے کا مقابلہ صرف ایک ہی بات سے کیا جا سکتا ہے اور وہ ہے یہاں کے رہائشیوں کا اپنی فٹ بال ٹیم کے لیے پیار۔
پیزا نیوپولیٹانا کی تین قسمیں ہیں: پیزا مارگریٹا جس میں پیزا کے اوپر کی سطح پر ٹماٹر کی چٹنی، موزیریلا پنیر اور باسل یا تلسی کے پتے ڈالے جاتے ہیں۔ دوسری قسم ہے ماریانا جس میں پنیر نہیں ہوتا اور باسل کی جگہ اوریگانو اور لہسن کی ٹاپنگ ہوتی ہے۔تیسرا ڈیزائن آف اوریجنل کنٹرول یا ڈی او سی یعنی اپنی قدیم اصل صورت میں پیزا جس میں گائے کے بجائے بھینس کے دودھ سے بنے موزیریلا پنیر کا استعمال ہوتا ہے۔
پیزا کا جنم 18ویں صدی میں ہوا جب سیاح پیرو سے یہاں ٹماٹر لے کر آئے لیکن اس سے بھی قبل نیپلز کے رہائشی روٹی کی شکل میں پیزا کی ایک شکل کھایا کرتے تھے۔ اٹلی میں روٹی عرب مہاجرین کے ذریعہ پہنچی جس نے بعد میں پیزا کی شکل اختیار کر لی۔ ابتدائی دنوں میں بہت سے دولتمند یورپی ٹماٹر کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اسے زہر آلود سمجھتے تھے۔ اس میں ٹماٹر کا کوئی قصور نہیں تھا۔ اکثر لوگ جستی برتنوں میں ترش پھل رکھ دیا کرتے تھے جس سے ان کی ہیئت خراب ہو جایا کرتی تھی۔
تاہم جس دور میں ملک کو قحط کا سامنا ہوا تو مقامی افراد نے اپنی روٹی میں ٹماٹر کی مدد سے لذت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ جلد ہی یہ نسخہ مقبول ہو گیا اور پیزا کی شکل اختیار کر چکی روٹی مقامی ڈش بن گئی۔ سنہ 1861 میں ملک کے اتحاد کے بعد نانبائی رفیلو ایسپوسیتو نے 1889 میں پہلی مرتبہ مارگریٹا پیزا بنایا۔ انھوں نے پیزا کا نام ملکہ مارگریٹا ڈی سلوا کے نام پر رکھا تھا۔
پیزا کی ٹاپنگ کے طور پر استعمال کیے گئے ٹماٹر، پنیر اور تلسی کے رنگ اٹلی کے قومی جھنڈے کے رنگوں لال، سفید اور ہرے کی عکاسی کے لیے تھے اور اس طرح پیزا مارگریٹا کا جنم ہوا۔ آج کل صرف اٹلی کے نیپلز شہر میں 500 اقسام کے پیزا ملتے ہیں لیکن ان میں سے صرف 100 کو ہی شہر کی پیزا ایسوسی ایشن نے سرٹیفِکیٹ دیا ہوا ہے۔ اس تنظیم کا قیام 1984 میں رکھا گیا تھا تاکہ تہذیبی طور پر اصل پیزا کی شناخت کی جا سکے۔
دراصل سرٹیفِکیٹ ملنے کی بنیاد پیزا کے معیار سے طے ہوتی ہے جس میں صرف پیزا میں استعمال ہونے والی چیزیں ہی شامل نہیں بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس میں کس قسم کا آٹا استعمال کیا جاتا ہے، کون سا پنیر استعمال ہونا چاہیے اور یہ بھی کہ وہ کس درجہ حرارت پر پکایا جانا چاہیے۔ یہ تنظیم اب سالانہ ایک ایسے مقابلے کا انعقاد کرتی ہے جس میں دنیا کے بہترین پیزا بنانے والے شخص کا انتخاب ہوتا ہے۔
پیزا بنانا دیکھنے میں جتنا آسان لگتا ہے اتنا ہے نہیں۔ اچھا پیزا بنانے کے لیے چھوٹی سے چھوٹی بات کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ نیپلز میں گینو سوربیلو کی پیزا کی دکان شہر کی سب سے مشہور دکانوں میں سے ایک ہے۔ کچھ لوگ اس دکان کے پیزا کو شہر کا سب سے شاندار پیزا بھی قرار دیتے ہیں۔ یہ دکان گینو کے دادا نے 1935 میں کھولی تھی۔ نیپلز میں ان کے یہاں آنے والے گاہک یہ جاننے بھی آتے ہیں کہ اصل اور روایتی پیزا کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے۔ سوربیلو کی پیزا کی دکانیں اب ٹوکیو اور نیویارک میں بھی ہیں۔ وہ اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ وہاں بھی پیزا بنانے کی ان کی خاندانی ترکیب کا خیال رکھا جائے اور اسی کے مطابق پیزا تیار ہو۔
