شہباز شریف کو فوری طور پر استعفیٰ کیوں دے دینا چاہئے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے وزیراعظم شہباز شریف کو فوری طور پر استعفیٰ دینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فیصلے نہیں کرنے تھے تو پھر حکومت لی ہی کیوں تھی؟ان کا کہنا ہے کہ حکومت ہر گزرتے دن کے ساتھ معاشی طور پر پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف لے کر جا رہی ہیں، ایسے میں اگر پاکستان واقعی دیوالیہ ہو گیا تو ن لیگ اور اتحادی اس میں برابر کے ذمہ دار ہوں گے لہٰذا اب بھی وقت ہے، سوچ لیں، اور دیر مت کریں، سری لنکا کے حالات پر نظر دوڑا لیں اور یاد رکھیں کہ اگر پاکستان کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھایا گیا تو اس کے نتائج سب کو بھگتنا پڑیں گے، اس لیے فوری فیصلے کریں یا گھر جائیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیئے میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اُس کے نتیجے میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا لیکن اگر پاکستان ڈیفالٹ کر جاتا ہے تو جو نتائج ہوں گے اُس سے نہ صرف مہنگائی بہت زیادہ ہو جائے گی بلکہ پاکستان کی صورتحال سری لنکا سے بھی بدتر ہو جائے گی، ہم تباہ و برباد ہو جائیں گے، ہماری معیشت کو بدترین صورتحال کا سامنا ہو گا، ملک کو خدانخواستہ خانہ جنگی کا ممکنہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کا کہنا یے کہ شہباز شریف کو وزیر اعظم تو بنا دیا گیا لیکن فیصلے یا تو لندن میں بیٹھے نواز شریف کے ہاتھ میں ہیں یا پھر آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے مرہون منت ہیں۔ شہباز شریف کو وزیر اعظم اس لیے بنایا گیا تھا کہ وہ پرفارم کرنے والا سیاست دان ہے لیکن شہباز کے ہاتھ اور پاوں باندھ کر رکھ دیئے گئے اور پھر توقع یہ کی جا رہی ہے کہ وہ فیصلہ بھی نہ کرے اور ملک کو اس مشکل سے بھی نکال دے۔ اب یہ بات مت کریں کہ عمران خان نے کیا ٹھیک کیا یا غلط۔ حکومت لی ہے تو فیصلہ کریں ۔ اب ذمہ داری اتحادیوں کی بالعموم اور ن لیگ کی بالخصوص ہے۔ انصار عباسی کا کہنا یے کہ اگر پاکستان ڈیفالٹ کرتا ہے تواس سے موجودہ حکومت بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ ایک ایک دن قیمتی ہے۔
اگر فیصلے نہیں کرنے تھے تو عمران کی حکومت کیوں ختم کی اور خود حکومت میں کیوں آن بیٹھے تھے؟ اب معاملہ ن لیگ، پی ٹی آئی یا پی پی پی کا نہیں بلکہ ہمارے پاکستان کا ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ اپنے اپنے سیاسی فائدے یا نقصان کی خاطر پاکستان کا ہی نقصان کر بیٹھیں اور افسوس کہ یہی ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے، لندن میں تین سے زیادہ دن ضائع کر دیے مگر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اگر فیصلے نہیں کرنے تو حکومت چھوڑیں، وقت مت ضائع کریں، یہ دو دو وزرائے اعظم اور دو دو وزرائے خزانہ والا کھیل نہیں چل سکتا۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ عمران خان کو مت نکالیں، لیکن اگر نکالیں تو فوری الیکشن کرائیں کیوں کہ درجن بھر اتحادی جماعتوں کے ساتھ کوئی حکومت نہیں چل سکتی، یہاں اس حکومت سے توقع یہ کی جا رہی ہے کہ بڑے فیصلے کرے جس کے لیے نہ نواز شریف تیار ہیں، نہ زرداری اور نہ ہی مولانا فضل الرحمٰن۔
انصار عباسی کا کہنا ہے کہ اگر شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا تھا تو اُنہیں اختیار بھی دیتے۔ سب توقع تو کر رہے ہیں کہ وہ حالات کو فوری بہتر کریں لیکن فیصلوں کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے ہی نہیں۔ میری تو شہباز شریف سے گزارش ہے کہ آج ہی استعفیٰ دے دیں تا کہ نئی حکومت آئے اور پاکستان کو بچانے کے لیے فیصلہ کرے۔ ن لیگ نے پہلے غلط فیصلہ کیا اور عمران خان حکومت گرانے کے پلان میں شامل ہو گئی۔ اب ن لیگ ایک اور غلطی بلکہ بہت بڑی غلطی کر رہی ہے کہ پاکستان کی بقا کی خاطر جو فیصلے کرنے ہیں اُن فیصلوں سے اس لیے کترا رہی ہے کہ اُسے کہیں سیاسی نقصان نہ ہو جائے۔
یعنی ن لیگ ، پی پی پی، جے یو آئی ایف وغیرہ کا سیاسی نقصان پاکستان کے نقصان سے زیادہ اہم ہے۔اب جو مرضی کر لیں، جتنا مرضی عمران خان کو بُرا بھلا کہہ لیں اگر پاکستان نے ڈیفالٹ کیا تو ن لیگ اور اتحادی اس میں برابر کے ذمہ دار ہوں گے۔ابھی وقت ہے سوچ لیں، دیر مت کریں۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے حالات پر نظر دوڑا لیں اور یاد رکھیں کہ اگر اپنے اپنے سیاسی مفادات کی بھینٹ پاکستان کو چڑھایا گیا تو پھر اس کے نتائج سب کو بھگتنا پڑیں گے۔ اس لیے فیصلے کریں یا گھر جائیں، نہ یہ سیاست کا وقت ہے نہ ہی پاکستان کو لاحق فوری خطرات سے صرفِ نظر کیا جا سکتا ہے۔
