پاکستان کا طالبان کے ہاتھوں جوتے اور پیاز کھانے کا منصوبہ

عسکری حکام نے ہزاروں پاکستانیوں کی قاتل کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کا عمل بحال کرتے ہوئے جوتوں کے علاوہ پیاز کھانے کا پلان بھی بنا لیا ہے۔ یاد رہے کہ عسکری حکام نے پچھلے برس تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا تھا جو ٹی ٹی پی کی قیادت نے یک طرفہ طور پر ختم کرتے ہوئے دوبارہ سے سکیورٹی فورسز پر حملے شروع کر دیئے۔ وجہ یہ تھی کہ حکام ٹی ٹی پی کے سینکڑوں گرفتار جنگجو کمانڈرز کی رہائی کا مطالبہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھے لیکن حال ہی میں دو سینئر کمانڈرز کی رہائی کے بعد اب پاکستانی حکام اور تحریک طالبان کے مابین بالواسطہ طور پر ٹوٹے ہوئے مذاکراتی عمل کو دوبارہ سے جوڑنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد ٹی ٹی پی اور حکومت کے مابین بیک ڈور چینل پر مذاکرات آغاز ہو چکا ہے، طالبان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین میں امن مذاکرات دوبارہ شروع ہو چکے ہیں اور قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ بھی افغانستان پہنچ گیا ہے۔ طالبان ذرائع نے تصدیق کی کہ مذاکرات کا دور دوبارہ شروع ہو چکا جس میں فریقین کی جانب سے شرائط رکھی گئی ہیں، ٹی ٹی پی کی جانب سے ان کے کچھ سرکردہ رہنماوں کی رہائی بھی شامل ہے، ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات کے لیے قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ تشکیل دیا گیا اور وہ جرگہ ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے۔گزشتہ ہفتے محسود قبائل کے ایک گرینڈ جرگے میں حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان ثالثی کروانے کے لیے ایک 33 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی تاہم طالبان ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ محسود جرگہ سرکاری سطح پر نہیں بلکہ ایک قومی جرگہ ہے، اور وہ اپنی مدد آپ کے تحت کوشش کر رہا ہے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کرے۔
ذرائع کے مطابق چونکہ ٹی ٹی پی کے موجودہ سربراہ محسود قبیلے سے ہیں تو جرگے کے اراکین کو اُمید ہے کہ وہ قبائلی روایات کے مطابق ٹی ٹی پی کو امن مذاکرات پر راضی کریں گے، ابھی تک طالبان اور حکومت نے باضابطہ مذاکراتی ٹیم کے ناموں کا اعلان نہیں کیا لیکن دونوں ٹیموں کے مابین ایک نشست ہوئی۔ حکومت کی جانب سے ابھی تک باضابطہ طور پر مذاکرات شروع ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی، ٹی ٹی پی کو کور کرنے والے ایک صحافی کا بھی کہنا ہے کہ بات چیت شروع ہوئی ہے، صحافی رسول داوڑ نے بتایا کہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا لیکن ابھی تک ان میں کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہوئی۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی باتیں تب شروع ہوئیں جب اگست 2021 میں کابل پر افغان طالبان نے کنٹرول حاصل کر کے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی۔ گذشتہ سال نومبر میں اس وقت کی حکومت نے باقاعدہ طور پر ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات شروع ہونے کی تصدیق کی تھی۔ ٹی ٹی پی کے قریبی ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں تقریباً 100 طالبان رہنماوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا، مذاکرات شروع ہونے کے بعد ٹی ٹی پی اور سکیورٹی فوررسز کی جانب سے فائر بندی کا اعلان بھی کیا گیا تھا تاہم تقریباً ایک ماہ بعد وہ مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوگئے تھے۔ ٹی ٹی پی نے فائربندی ختم کر کے ایک بیان میں بتایا تھا کہ حکومت پہلے کی طرح اب بھی ان سے مذاکرات میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہی۔ ماضی کی طرح اب بھی مذاکرات کی بحالی میں افغان طالبان ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن افغان طالبان کی جانب سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی عسکری حکام کی جانب سے تحریک طالبان سے نمٹنے کے لیے کوئی ایک پالیسی اپنانے پر کنفیوژن برقرار ہے جس کا نتیجہ سو جوتوں اور سو پیاز کی صورت میں سامنے آنے والا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ طالبان کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے سامنے جھکتے ہوئے ان سے سمجھوتے کریں گے یا انہیں مکمل طور پر کچل دیں گے۔ ایک طرف تو طالبان سے مذاکرات کی چہ مگوئیاں ہورہی ہے تو دوسری طرف ٹی ٹی پی کی جانب سے 9 مئی کو پاکستانی سکیورٹی فوسرز کے نام ایک پیغام میں دھمکی دی گئی ہے کہ وہ فورسز سے علیحدگی اختیار کر لیں، بصورتِ دیگر انہیں سخت ترین نقصان اٹھانا پڑے گا۔ خط میں انہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ‘بے گناہ لوگوں پر ظلم و ستم’ سے باز رہیں۔ ٹی ٹی پی نے اپنے اس خط میں اپنی سرگرمیوں کو بھی تیز کرنے کی دھمکی دی ہے۔
یاد رہے کہ یہ خط پاکستان کی جانب سے تحریک طالبان کے دو اہم ترین کمانڈرز کی رہائی کے فیصلے کے فوری بعد لکھا گیا ہے۔ سکیورٹی حکام نے طالبان کے قبائلی علاقوں میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے حملوں کے بعد دوبارہ سے مذاکرات شروع کرنے کے لیے ان کمانڈرز کو رہا کیا تھا اور طالبان نے بھی فائر بندی کی مدت میں اضافہ کر دیا تھا۔ اس سے پہلے تحریک طالبان کی جانب سے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گرد حملوں میں تیزی آگئی تھی۔ رواں برس مارچ کے مقابلے میں اپریل میں عسکریت پسندی کے حملوں میں 24 فی صد اضافہ ہوا۔ اپریل میں عسکریت پسندی کے 34 واقعات میں مجموعی طور پر 55 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئے جب کہ مارچ میں دہشت گردی کے 26 واقعات میں 77 افراد ہلاک اور تقریباً 288 زخمی ہوئے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عسکریت پسندی اور دہشت گردی اب ایک ذہنی رویہ اور معاشی روزگار کا ذریعہ بن چکی ہے جس کے خاتمے کے لیے مربوط لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں موجود ہے جس کے افغان طالبان سے ماضی میں رابطے رہے ہیں، اس لیے شاید افغانستان میں طالبان کی حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے۔
پشاور کے سینئر صحافی فرید اللہ کہتے ہیں افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ پاکستان میں شدت پسند عناصر کی کارروئیوں میں کمی آئے گی لیکن ان توقعات کے برعکس پاکستان میں عسکریت پسند ی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ طالبان حکومت بین الاقوامی برادری کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے اور وہاں موجود کالعدم شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کے بارے میں کیے گئے وعدوں کو تاحال پورے نہیں کر رہی۔
