شہباز نے نواز شریف کی واپسی کا امکان مسترد کر دیا

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے سابق وزیر اعظم اور پارٹی قائد نواز شریف کی مکمل صحت یابی تک لندن سے واپسی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قانونی طور پر امیگریشن ٹریبونل کے فیصلے تک برطانیہ میں مقیم رہ سکتے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے اپنے میڈیکل بورڈ کی رپورٹس کی بنیاد پر شہباز شریف کو علاج کے لیے پاکستان چھوڑنے کی اجازت دی تھی اور تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم بننے والے نواز شریف کی صحت پر سیاست کرنا غیر انسانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی مشینری اپنی سیاست چمکانے کے لیے نواز شریف کو بدنام کرنے پر تلی ہوئی ہے جو ملک کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے۔ اپنے بڑے بھائی کی وطن واپسی کے بارے میں شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف تب ہی پاکستان واپس آئیں گے جب وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو جائیں گے اور لندن میں ڈاکٹر انہیں سفر کرنے کی اجازت دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ویزا میں توسیع کے حوالے سے اپیل کے فیصلے تک قانونی طور پر برطانیہ میں رہ سکتے ہیں۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ ویزا ایشو پر اوپر سے لے کر نیچے تک حکومتی عہدیداروں کی چھلانگیں اس بات کی علامت ہے کہ نواز شریف کس بُری طرح ان کے اعصاب پر سوار ہیں، انیون نے کہا کہ نواز شریف سے ذہنی شکست کھا چکی اس جعلی حکومت کو معلوم ہے کہ نواز شریف نہ صرف پاکستان کا حال بلکہ مستقبل بھی ہیں۔ یاد رہے کہ برطانوی ہوم ڈپارٹمنٹ نے لندن میں علاج کی غرض سے موجود میاں نواز شریف کے ویزا میں توسیع سے انکار کردیا ہے۔تاکم مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے دعویٰ کیا کہ ویزہ میں توسیع نہ ملنے کے باوجود سابق وزیر اعظم برطانیہ میں سیاسی پناہ نہیں لیں گے۔ مریم اورنگزیب نے پارلیمنٹ لاجز کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی برطانیہ میں اپنے قیام کو بڑھانا چاہتا ہے اس کے لیے یہ معمول کا طریقہ کار ہے اور نواز شریف کو امیگریشن ٹریبونل میں اپیل کا حق ہے۔
ادھر تحریک انصاف کے وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ‘مفرور’ میعاد ختم ہونے والے پاکستانی پاسپورٹ کے ساتھ لندن میں مقیم ہیں اور برطانیہ کی جانب سے طبی بنیادوں پر ویزا میں توسیع سے انکار کے بعد مسلم لیگ (ن) کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔ فرخ حبیب نے کہا کہ نواز شریف کے لیے ملک میں سرخ جھنڈا اب ہوا میں ہے جہاں انہوں نے لوٹی ہوئی قومی دولت سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس خریدے تھے۔ انہوں نے نواز شریف کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ نے بہت پیزا کھایا ہے اور لندن میں پولو میچز دیکھے ہیں، اب گھر واپسی کا وقت آگیا ہے۔ فرخ حبیب نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما عوام سے جھوٹ بولنے کے نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں، یہ ان کی سیاست کی پہچان تھی جو کہ قطری خط اور جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے وکیل صفائی کو عدالت میں پیش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف پاکستان نہیں آئے حالانکہ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان پہلے ہی لندن سے واپس آچکے ہیں۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) پنجاب کی سیکریٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم عمران خان کو میڈیکل بورڈ کی رپورٹوں پر شک ہے جس کی بنیاد پر سابق وزیر اعظم کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی تو انہیں ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو برطرف کردینا چاہیے یا وہ افراد خود ہی استعفیٰ دے دیں۔ پارٹی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطااللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے حکومتی ترجمانوں کو نواز شریف کی صحت پر سیاست کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ عطااللہ تارڑ نے کہا کہ نواز شریف، پی ٹی آئی حکومت کے لیے خوف کی علامت بن گئے ہیں، یہ جاننے کے بعد کہ برطانیہ کے محکمہ داخلہ نے سابق وزیر اعظم کے ویزے میں توسیع سے انکار کر دیا، حکومت الجھن میں ہے کہ اس خبر پر خوشی منائیں یا یا ماتم کریں، ایک بھی دن ایسا نہیں گزرتا جب عمران خان نیازی حکومت نواز شریف کو یاد نہ کرے۔
