شہریار آفریدی کے مدارس کو بدنام کرنے پر ایوان میں شور شرابا

وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی کا کہنا تھا نوجوانوں اور خاص طور پر ہمارے تعلیمی اداروں میں منشیات پھیل چکی ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ایک مدرسے کے معلم نے کہا کہ منشیات استعمال کریں آپ کا حافظہ درست ہو جائے گا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہریار آفریدی کا کہنا تھا منشیات کی روک تھام سے آگہی کےلیے ’زندگی‘ کے نام سے ایپ لانچ کردی ہے، تمام تعلیمی اداروں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ بھی بات چیت ہوچکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں کافی حد تک منشیات داخل ہوچکی ہے، یہ ایک پارٹی یا حکومت کی بات نہیں اس کے خاتمے کےلیے والدین بھی حصہ لیں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ ایک مدرسے کے معلم نے کہا کہ منشیات استعمال کریں آپ کا حافظہ درست ہو جائے گا۔ مدارس میں منشیات کے استعمال سے متعلق بیان پر ایم ایم اے کے رہنما اور مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود نے کہا کہ آپ نے جھوٹ بولا، ایک مدرسے کے نام پر تمام مدارس کو بدنام نہیں کرنے دیں گے۔
مدرسے کا نام لینے پر ایوان میں شور شرابا شروع ہوگیا جس پر شہریار آفریدی نے کہا کہ میں نے کسی مدرسے کا نام نہیں لیا۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ سارے معاشرے میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں کہیں اچھے لوگ بھی نہیں ہوتے، مدارس نے جو کچھ کیا ہے ہم ان کی قدر کرتے ہیں۔ شفقت محمود نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مدارس کا معیار ایسا ہے کہ دنیا کے لوگ اپنے بچے یہاں بھیجتے ہیں لیکن جہاں جہاں کوئی برائی ہے ہم نے اس برائی کو برا کہنا ہے۔
اسعد محمود نے کہا کہ آپ ایک مدرسے کی وجہ سے تمام مدارس کوشک کی نگاہ سے نہیں دکھا سکتے، شہریار آفریدی نے غلط بیانی کی ہے، اس ایک مدرسے کو منظر عام پر لایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار نے بھی ایک الزام لگایا تھا، چوہدری نثار نے کہا تھا کہ 98 فیصد مدارس اچھے ہیں لیکن 2 فیصد مدارس دہشت گردی سے منسلک ہیں، انہوں نے کبھی نہیں بتایا کہ وہ دو فیصد مدارس کون سے ہیں۔
جے یو آئی ف کے رہنما نے کہا کہ شہریار آفریدی نہیں دکھا سکتے کہ وہ کون شخص ہے، اس شخص کے حوالے سے وفاق المدراس سے رابطہ کیا جائے، ہم خود تحقیقات کر کے اس مدرسے کو منظر عام پر لائیں گے لیکن اس طرح کسی کا نام لے کر سارے مدارس کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
