شیما کرمانی مقبول گانوں کا ’’ری میک‘‘ کیوں نہیں چاہتیں؟

مقبول کلاسیکل ڈانسر شیما کرمانی نے کہا ہے کہ پسوڑٰی سمیت کسی بھی مقبول گانے کا ری میک نہیں بنانا چاہئے، میں نے ابھی تک بھارتی ’’پسوڑی‘‘ کو نہیں سنا ہے، اس لیے ’’ری میک‘‘ پر کوئی رائے نہیں دے سکتی ہوں۔
پاکستانی گانے ’پسوڑی‘ کو 2022 کے آغاز میں ’کوک اسٹوڈیو سیزن 14‘ کے تحت جاری کیا گیا تھا، گانے میں علی سیٹھی اور شے گل نے آواز کا جادو جگایا تھا جبکہ شیما کرمانی نے گانے کی ویڈیو میں رقص کیا تھا۔
’پسوڑی‘ اتنا مقبول ہوا کہ وہ 2022 میں گوگل پر سب سے زیادہ سرچ کیا جانے والا گانا تھا جبکہ اس نے دیگر بھی کئی ریکارڈز اپنے نام کیے
’پسوڑی‘ کی مقبولیت کے بعد حال ہی میں بالی وڈ فلم ’ستیہ پریم کی کتھا‘ میں اس کے ’ریمیک‘ ’پسوڑی نو‘ کو شامل کیا گیا تھا، جسے اریجیت سنگھ اور تلسی کمار نے گایا تھا، بھارتی ریمیک پر خود بھارتی لوگ بھی برہم دکھائی دیئے جبکہ پاکستانی شائقین نے بھی اس پر ناراضی کا اظہار کیا۔
بھارتی ریمیک پر اگرچہ شے گل بھی اپنا ردعمل دے چکی ہیں اور انہوں نے مداحوں کو ریمیک گانے والے گلوکاروں پر تنقید سے منع کیا تھا، اب شیما کرمانی نے بھی اس پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی کسی بھی مقبول گانے کے ریمیک کے حق میں نہیں رہیں۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق بھارتی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے شیما کرمانی نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک بھارتی گانا نہیں سنا، اس لیے وہ اس پر اپنی رائے نہیں دے سکتیں لیکن ان کا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ کسی بھی مقبول گانے کا ریمیک نہیں بنایا جانا چاہئے۔
شیما کرمانی کا کہنا تھا کہ جب پہلے بنائے گئے کلاسیکل گانے کی دھن بہت اچھی ہے تو اس کی دھن دوبارہ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ ان کا ذاتی خیال ہے کہ مقبول پرانے گانوں کا ریمیک نہیں بنایا جانا چاہئے، انہوں نے ’پسوڑی‘ میں پرفارمنس کرنے کے حوالے سے بتایا کہ انہیں علی سیٹھی نے راضی کیا، کلاسیکل ڈانسر اور سماجی رہنما ہیں، اس لیے وہ گانوں میں رقص نہیں کرتیں اور خصوصی طور پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے منصوبوں میں وہ ایسا بلکل نہیں کرتیں لیکن علی سیٹھی نے انہیں ’پسوڑی‘ میں ڈانس کرنے پر راضی کیا۔
ڈانسر کے مطابق انھوں نے علی سیٹھی کو اپنے سامنے بڑا ہوتے دیکھا ہے اور ان کی والدہ سے ان کی گہری دوستی رہی ہے، اس لیے وہ انہیں گانے میں پرفارمنس کرنے کا کہتے رہے۔
شیما کرمانی کا کہنا تھا کہ علی سیٹھی نے انہیں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ انہیں پرفارمنس کرنی پڑے گی اور پھر جب انہوں نے انہیں گانے کی موسیقی بھیجی تو انہیں گانا سمجھ نہیں آیا لیکن انہیں اس کی دھن بہت پیاری لگی، جس کے بعد ہدایت کار اور پروڈیوسر نے انہیں گانے کا خیال سمجھایا تو وہ پرفارمنس کے لیے راضی ہوگئیں۔
گلوکارہ نے کہا کہ ملک میں مشکلات ضرور ہیں لیکن وہ بھی ہار نہیں ماننے والیں، ابتدائی طور پر وہ ایک دہائی تک پاکستان کی واحد کلاسیکل ڈانسر رہیں اور انہوں نے تنگ نظر گروپوں، جماعتوں اور عہدیداروں کی سختیاں بھی برداشت کیں، اس وقت بھی کلاسیکل ڈانس کے حوالے سے حالات زیادہ بہتر نہیں، کراچی جیسے شہر میں ہی صرف ایک تھیٹر ہے۔

Back to top button