ڈالر کی تنزلی سے موبائل فونز، گاڑیاں کتنے سستے ہونگے؟

ملک کی کاروباری مارکیٹ کا آغاز مثبت رہا، کاروبار کے آغاز کے پہلے ایک گھنٹے میں ڈالر 15 روپے سستا ہوا لیکن دن بھر کی ٹریڈنگ کے بعد ڈالر دوبارہ اوپر آیا اور پانچ روپے مزید مہنگا ہو گیا۔انٹر بینک میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قیمت میں 10.55 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی اور امریکی کرنسی کی قیمت 275.44 روپے پر بند ہوئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت میں 10 روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔
ڈالر کی قیمت میں کمی کے بعد یہ سوال زبان زدِ عام ہے کہ کیا امریکی کرنسی کی قدر میں کمی کے بعد گاڑیوں اور موبائل فون کی قمیتوں میں کمی ہوگی یا نہیں؟ وی نیوز نے معاشی ماہرین، آٹو موبائل مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن اور موبائل فون ڈیلر ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے استفسار کیا کہ ڈالر کی قدر میں کمی سے گاڑیوں اور موبائل فون کی قمیتوں میں کتنی کمی ہوگی؟
معاشی امور پر رپورٹنگ کرنے والے سینیئر رپورٹر مہتاب حیدر نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈالر کی نسبت روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا تو یقیناً گاڑیوں اور موبائل کی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی۔معاشی ماہر خرم شہزاد نے اس حوالے سے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موبائل فون اور گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی متوقع نہیں، اس کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ یہی ہے کہ ڈالر کی قیمت برقرار یا مزید کم ہوتی نظر نہیں آ رہی جس کی بنا پر یہ کہنا مشکل ہے کہ کمی آ سکتی ہے۔
ماہر معیشت ڈاکٹر خاقان نجیب نے وی نیوز کے استفسار پر بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے معطل ہونے کی وجہ سے ڈالرز کی قلت رہی ہے۔ جس کی وجہ سے آٹو پارٹس، موبائل فون کے آلات یا پھر گاڑیاں اور موبائل فون درآمد کرنے پر پابندی رہی ہے، اب پاکستان میں ڈالر کی قدر میں کمی ہوگی اور روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا تو درآمد کی جانے والی اشیا کی قیمتوں میں کمی ضرور آئے گی اور اس کا اثر موبائل فون اور گاڑیوں کی قیمتوں پر بھی ضرور پڑے گا۔
معاشی امور پر گہری نظر رکھنے والے ماہر معیشت ڈاکٹر سلمان شاہ نے گاڑیوں اور موبائل فون کی قیمتوں میں کمی کے متعلق وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گاڑیوں اور موبائل کی قیمتوں میں کمی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک درآمدات پر عائد پابندیاں ختم نہیں ہوتیں، پاکستان میں ڈالر کی کمی کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان آٹو مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل عبد الوحید خان نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس وقت گاڑیوں کی پروڈکشن نہیں ہو رہی، اس وقت ڈالر کی قدر میں کمی کا گاڑیوں کی قیمتوں پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، ڈالر کے ریٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہے گا، جب تک ڈالر کا ریٹ ایک جگہ رک نہیں جاتا تب تک گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی سے متعلق کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
کار ڈیلر ایسوسی ایشن اسلام آباد کے صدر اظہر اخلاق نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں کمی سے لوکل گاڑیوں کی قیمتوں میں خاص فرق نہیں پڑتا جبکہ امپورٹڈ گاڑیوں کی قیمتوں پر کافی فرق پڑتا ہے، تاہم حکومت نے امپورٹڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی بڑھا دی ہے۔
موبائل مارکیٹ راولپنڈی کے صدر منیر بیگ نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کی قدر میں کمی سے موبائل فون کی قیمتوں میں کمی ہوتی نظر نہیں آ رہی، پاکستان میں استعمال ہونے والے بیشتر موبائل فون بیرون ملک سے درآمد کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ڈالر کی قدر میں کمی برقرار رہتی ہے اور 250 تک آ جاتا ہے تو ایسے میں نئے درآمد ہونے والے آئی فون اور سام سنگ کے مہنگے فونز کی قیمتوں پر واضح فرق پڑے گا، آئی فون 40 سے 50 ہزار روپے سستا ہو جائے گا جبکہ سام سنگ کے فون بھی 25 سے 30 ہزار روپے تک سستے ہونے کی امید ہے۔
