صدرعلوی کپتان اورآرمی چیف میں رابطہ بحال کرنے کے لیے کوشاں


باخبر ذرائع کے مطابق صدرعارف علوی نے ایوان صدر میں سابق وزیراعظم عمران خان سے ہونے والی ایک اہم ملاقات میں اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کی قیادت کے مابین بڑھتے ہوئے فاصلے کم کرنے کے لیے فوجی قیادت سے رابطہ کر لیا ہے۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ سے معاملات بہتر کیے بغیر پی ٹی آئی کے لیے اپنی سیاست آگے بڑھانا اور دوبارہ اقتدار میں واپس آنا ممکن نہیں ہوگا اس لیے ضروری ہے کہ موجودہ فوجی قیادت بالخصوص جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ تعلقات بہتر کیے جائیں۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ صدرعارف علوی نے یہ ٹاسک ملنے کے بعد عسکری قیادت سے رابطوں کا آغاز کر دیا ہے اور ان کی ایوان صدر میں ایک اہم ترین خاکی شخصیت سے ملاقات بھی ہو چکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بظاہر تو عمران نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور جنرل باجوہ مخالف بیانیہ اپنا رکھا ہے لیکن حالیہ دنوں انہیں کچھ ایسی اہم ترین معلومات ملی ہیں جن کے بعد کپتان نے جنرل باجوہ بارے اپنی پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ باخبر ذرائع کہتے ہیں کہ پہلے عمران خان کا یہ خیال تھا کہ جنرل قمر باجوہ 28 نومبر کو ریٹائر ہو جائیں گے لہذا ان کے خلاف بولنے اور بات کرنے کا انہیں سیاسی نقصان کم اور فائدہ زیادہ ہو گا۔ لیکن اب انہیں ایوان صدر سے جو اطلاعات ملی ہیں وہ آرمی چیف کے عہدے میں کم از کم ایک برس کی ممکنہ توسیع کا اشارہ دیتی ہیں۔ ایسے میں فوجی قیادت کے حوالے سے عمران خان نے اپنی پالیسی میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی لئے اب وہ پچھلے چند دنوں سے اسٹیبلشمنٹ کے لیے نیوٹرل کا لفظ بھی استعمال نہیں کر رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اس بات کا یقین ہو چکا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن میں اپنے خلاف دائر کردہ فارن فنڈنگ اور توشہ خانہ کیسز میں نااہل ہونے جا رہے ہیں اس لیے سیاسی منظر نامے سے آؤٹ ہونے سے بچنے کی خاطر بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات درست کرنا بہت ضروری ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق ابھی تک ایوان صدر کی طرف سے ان دو طرفہ رابطوں کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ دوسری طرف وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اور انکے بیٹے مونس الٰہی بھی اس وقت عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ روکنے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ سابق وزیر دفاع پرویز خٹک پہلے ہی اس نظریہ کے حامی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو ساتھ لے کر چلا جائے۔ خٹک کی جانب سے بھی عمران خان کو یہی مشورہ دیا جا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کشیدگی پی ٹی آئی کے مفاد میں نہیں اور ایسا نہ ہو کہ فارن فنڈنگ کیس میں پوری جماعت پر پابندی عائد کر دی جائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو عمران کے اسٹیبلشمنٹ سے جارحانہ رویے پر خوش نہیں لیکن عمران کے منہ پر یہ بات کہنے کی جرأت چند ایک میں ہی ہے۔ تاہم، پارٹی میں کچھ ایسے تیز طرار لوگ بھی ہیں جو نہ صرف اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے عمران کے موقف کی حمایت کرتے ہیں بلکہ ان کو غلط معلومات بھی دیتے رہتے ہیں تاکہ کشیدگی بڑھتی رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حال ہی میں ہونے والے پارٹی کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصل واوڈا نے عمران خان کو خبردار کیا کہ کچھ لوگ آستین کا سانپ بن کر عمران خان کو نااہل قرار دلوانے کی کوششیں کر رہے ہیں اور اپنے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جب عمران خان ملٹری قیادت کیخلاف بات کرتے ہیں تو اس سے پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اور عمران کے حامی بے قابو ہو جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ ناخوشگوار بیانات اور ٹرینڈز کی حمایت کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے ٹرینڈز ادارے کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں لیکن شاید ہی کسی پارٹی رہنما نے پارٹی کے سوشل میڈیا کارکنوں اور حامیوں کی مذمت کی ہو۔ اس کی بجائے، ایسے لوگوں کو عمران خان کے سوشل میڈیا کے مجاہدین قرار دیا جاتا ہے۔اگرچہ پی ٹی آئی قیادت خود کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کیخلاف ایسے بیہودہ ٹوئٹر ٹرینڈز سے دور رکھتی آئی ہے لیکن لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد فوج کیخلاف ہونے والے پروپیگنڈے کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ 178ٹوئٹر اکائونٹس کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے۔

پی ٹی آئی کی قیادت میں سے کچھ لوگوں میں اس بات کا احساس پایا جاتا ہے کہ پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم اور کارکنوں کو شتر بے مہار کی طرح نہیں چھوڑا جا سکتا کہ وہ بس کسی بھی ریاستی ادارے کیخلاف سرخ لکیر پھلانگتے پھریں۔ تاہم، ایسی کوئی بھی پالیسی عمران خان کی منظوری کے بغیر عمل میں نہیں لائی جا سکتی جو پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم کو اپنی سیاست اور مقبولیت کیلئے بیحد اہم سمجھتے ہیں۔

Back to top button