صدر علوی خود کو بے عزت کروانے پر بضد کیوں ہیں؟

عام انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر نئی رسہ کشی شروع ہوگئی ہے، صدر عارف علوی کی جانب سے کسی بھی وقت الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔اگر ایسا ہوا تو ملک میں ایک بار پھر آئینی بحران کا خطرہ پیدا ہوجائے گا۔ ذرائع کے مطابق صدر عارف علوی کو اپنی قانونی ٹیم، اٹارنی جنرل اور ماہر قانون یہ بات واضح طور پر بتا چکے ہیں کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد وہ الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کرسکتے۔تجزیہ کاروں کے مطابق صدر پاکستان نے آئین سے وفاداری اور آئین کا پابند ہونے کا حلف لیا تھا لیکن بدقسمتی سے وہ اپنی پارٹی اور عمران خان کے وفادار بن رہے ہیں،
مبصرین کے مطابق صدر علوی پر پی ٹی آئی کا دباؤ ہے کہ آپ ہر حال میں90 روز میں الیکشن کروائیں،تاہم انہیں کسی عمرانڈو کی بجائے صدر پاکستان کے طورپر ایکٹ کرنا چاہئے کیونکہ صدر کے پاس یہ قانونی اہلیت نہیں ہے کہ وہ الیکشن شیڈول کا اعلان کریں.
سینئر صحافی سلیم بخاری کے مطابق صدر عارف علوی کو اٹک جیل سے پیغام بھیجا گیا ہے کہ یوتھیوں سے بچنا ہے تو الیکشن کی تاریخ کا اعلان کریں. اس کے بعد عارف علوی نے مشاورت شروع کی ہے تاہم دوسری جانب مقتدر حلقوں نے صدر کو پیغام بھجوا دیا ہے کہ آپ محتاط رہیں،اب چیزیں آپ کے ہاتھ میں نہیں ہیں، تاریخ دینا اب الیکشن کمیشن کا کام ہے، آپ پنگے بازی کریں گے تو آپ کی بات بالکل نہیں مانی جائے گی، کیا سپریم کورٹ کے 14 مئی کو الیکشن کرانے کے اصرار پر عمل ہو گیا تھا، اگر ایسا کام آپ کریں گے جس پر عمل نہیں ہونا تو اس سے آپ کے عہدے کی بھی تضحیک ہو گی اور آپ کی ساکھ بھی برباد ہو گی اس لئے بہتر یہی ہے کہ آپ خاموشی سے اپنا وقت پورا کریں۔
سلیم بخاری کے مطابق صدر مملکت کی آئینی مدت اب پوری ہوچکی چونکہ ابھی ان کا متبادل نہیں آیا ،اسی وجہ سے یہ عہدہ جاری رکھے ہوئے ہیں جب سے آئینی ترامیم کا بل پاس ہوا ہے ان کے پاس کچھ بھی اختیار نہیں ہیں اگر تو وہ کوئی کام آئین وقانون کے مطابق کریں تو اچھا ہے لیکن اگر کوئی کام وہ کسی پارٹی کو خوش کرنے کیلئے کریں تو یہ ان کے عہدے و آئین کے خلاف جائے گا۔
سلیم بخاری کے مطابق صدر عارف علوی کی مدت ملازمت اب پوری ہوچکی ہے، اب ان کا کام ہے کہ وہ ایک عبوری صدر کے طور پر کام کریں اور جس طرح قانون کےتقاضے ہیں وہ پورے کریں، ان کوچاہئے کہ وہ آئین و قانون کا تقدس پامال نہ کریں اور جس طرح ایک عبوری صدر کے اختیارات ہوتے ہیں ان کے مطابق اپنا وقت پورا کریں۔
سلیم بخاری کے مطابق صدر علوی کو اٹک جیل سے ایک پیغام وصول ہوا ہے کہ اگر آپ نے اپنے آپ کو پی ٹی آئی کے کارکنان کے غیض و غضب سے بچانا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے کارکنان کو خوش کرنا ہوگا اسی وجہ سے آپ الیکشن کی تاریخ کا اعلان کردیں،انہوں نے قانون دانوں سے مشاورت شروع کردی ہے لیکن میرے خیال کے مطابق یہ کام الیکشن کمیشن کا ہے کیوںکہ جو انہوں نے کہا ہے کہ ہم حلقہ بندیوں میں ایک ماہ کی کمی کررہے ہیں اور الیکشن جو ہیں وہ جنوری میں یا فروری کے شروع میں کروائیں گے اگر تو الیکشن صاف شفاف طریقے سےہوسکتے ہیں تو یہ کوئی زیادہ عرصہ نہیں ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ عبوری صدر بوریا بستر اٹھائیں اور پی ٹی آئی سیکرٹریٹ منتقل ہوجائیں، تاریخ دینے کی کوشش عدم استحکام اور بے یقینی پیدا کریگی، آئینی منصب کی آڑ میں ایک اور 9 مئی کی تیاری دکھائی دے رہی ہے، عارف علوی 9ستمبر کے بعد صدر مملکت نہیں رہے، عبوری صدر الیکشن کی تاریخ کیسے دے سکتا ہے۔دوسری طرف تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا تعین کرنا صدر کا استحقاق ہے، آرٹیکل 48(5) صدر کی جانب سے قومی اسمبلی کی تحلیل کی صورت میں صدر مملکت کو انتخابات کے انعقاد کیلئے 90 روز کی مدت کے اندر کی کسی تاریخ کے تعین کا پابند بناتا ہے، دوسری جانب نگراں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی کا کہنا ہے انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کریگا، ایسا الیکشن چاہتے جسے سب تسلیم کریں۔
