ضیاء الحق نے ذاتی مفاد کے لیے فلسطینوں کا قتل عام کیا

تاریخی حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ جنرل ضیا الحق نے 1970 میں اردن میں ہزاروں فلسطینی مجاہدین کا قتل عام پاکستانی ریاست کی مرضی کے بغیر ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے لئے کیا تھا تا کہ شاہ حسین کو خوش کیا جا سکے۔
پاکستانی عوام اور فوجی اسٹیبلشمنٹ اگرچہ ہمیشہ سے مظلوم فلسطینیوں کی حامی رہی ہے تاہم دسمبر 1970 میں فلسطین کی ہمسایہ عرب ریاست اردن میں موجود بریگیڈیئر ضیا الحق نے اردن حکمران کے شاہ حسین کی خواہش پر اپنے مینڈیٹ اور قومی و پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے تجاوز کرتے ہوئے فلسطینی فدائین کے خلاف گرینڈ آپریشن کی قیادت کرکے ہزاروں مجاہدین کو شہید کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی فلسطینی حریت پسند جنرل ضیاء الحق کے نام سے نفرت کرتے ہیں۔ بعد ازاں ضیاء کی بربریت کی گواہی اردن کے شاہی خاندان کے اہم رکن نے بھی دی جن کا کہنا تھا کہ ضیاء الحق دراصل شاہ حسین کے دوست اور ہم راز تھے اور شاہی خاندان اس جنگ میں ان کی مدد کا بہت شکر گزار تھا جس میں وہ تقریباً اردنی فوج کی قیادت کر رہے تھے۔
1970 میں 16 ستمبر سے لے کر 27 ستمبر تک جاری رہنے والی اور بلیک ستمبر کہلانے والی جنگ بارے کئی مبصرین نے لکھا ہے کہ شاہ حسین کو اس جنگ میں فیصلہ کن مشورے دینے والے ضیا الحق تھے جن کی مدد سے اردنی فوج نے جنگ جیتی۔ تاہم ضیا نے ایسا کرکے اپنی قومی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے انحراف کیا۔
سرکاری طور پر یہ جنگ 16 ستمبر سے 27 ستمبر تک جاری رہی جس کے بعد چھوٹے پیمانے پر جھڑپیں اگلے برس جولائی تک چلتی رہیں۔ سابق سی آئی اے افسر بروس ریڈیل سمیت کئی تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ اس جنگ میں تین سے چار ہزار فلسطینی فدائین کی شہادت ہوئی جبکہ 600 کے قریب شامی فوجی مارے گئے اور اردن کو 537 فوجیوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دوسری طرف کے بیانیے کو دیکھیں تو فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ فدائی کو بہت بڑی تعداد میں جانی نقصان اٹھانا پڑا جن کی تعداد 20 سے 25 ہزار کے لگ بھگ تھی۔طارق علی اپنی کتاب دا ڈوئیل میں نامور اسرائیلی جنرل موشے دایان سے منسوب بیان دہراتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’شاہ حسین نے 11 دن میں جتنے فلسطینی ہلاک کیے اتنے تو اسرائیل 20 برسوں میں بھی نہیں شہید کر سکتا۔
تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کے خلاف 1967 میں ہونے والی چھ روزہ جنگ میں شکست کے بعد اردن میں حالات کافی نازک تھے۔ مصر اور شام کے ساتھ اردن نے اس جنگ میں بھاری نقصان اٹھایا تھا اور وہ بیت المقدس یعنی یروشلم، غزہ اور غرب اردن کے علاقوں سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ایسے میں فلسطینی ’فدائین‘ نے غرب اردن کے ساتھ واقع علاقوں میں اپنے موجودگی قائم کر لی اور وقتاً فوقتاً اسرائیلی قبضے میں لیے گئے سرحدی علاقوں پر کامیاب حملے کیے جس کے نتیجے میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا جس کے باعث انھیں شامی اور عراقی حمایت بھی ملنے لگی۔اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اردن کے سربراہ شاہ حسین نے اپنے پاکستانی دوست بریگیڈئیر ضیاالحق سے مدد مانگی جو اُس وقت عمان میں پاکستانی سفارتخانے میں ڈیفنس اتاشی کا فرض نبھا رہے تھے۔ مصنف اور محقق طارق علی اپنی کتاب دا ڈوئیل میں لکھتے ہیں کہ ضیا الحق امریکہ سے اپنی ٹریننگ مکمل کر کے ملک واپس آئے تو انھیں اردن بھیج دیا گیا جس نے حال میں ہی چھ روزہ جنگ میں خفت اٹھائی تھی۔اسی بات کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی سی آئی اے کے سابق عہدیدار بروس ریڈیل اپنی کتاب ’واٹ وی ون‘ میں لکھتے ہیں کہ ضیا الحق اردن تین سال قبل آئے تھے اور ان کی ذمہ داری تھی کہ پاکستانی اور اردنی فوج کے درمیان عسکری امور پر باہمی تعلقات بڑھائیں اور اردن میں ہونے والے واقعات کی رپورٹ وطن واپس بھیجیں۔لیکن بریگیڈیئر ضیا الحق نے اپنے دیے گئے مینڈیٹ سے بڑھ کر بھی ذمہ داریاں نبھائیں جن کا تذکرہ اردن میں اُس وقت موجود سی آئی اے کے افسر جیک او کونل نے اپنی کتاب ’کنگز کونسل‘ میں کیا۔
جیک او کونل، جنھوں نے خود لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کی غرض سے دو سال گزارے تھے، لکھتے ہیں کہ سنہ 1970 میں جب شامی افواج اردن پر چڑھائی کی غرض سے ٹینک لے کر آ گئیں اور اردن کو امریکہ کی جانب سے امداد کے بارے میں کوئی جواب نہ ملا تو شاہ حسین کی پریشانیوں میں اضافہ ہوا۔ اس گھمبیر صورتحال کو دیکھتے ہوئے شاہ حسین نے اپنے ’دوست‘ ضیا الحق سے درخواست کی کہ وہ شامی محاذ کا دورہ کریں اور انھیں زمینی صورتحال سے آگاہ کریں۔ جیک او کونل لکھتے ہیں کہ جب ضیاالحق سے اردنی حکام نے حالات کے بارے میں معلوم کیا تو انھوں نے جواب میں کہا کہ ’حالات بہت خراب ہیں۔‘بروس ریڈیل اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اس موقع پر ضیا الحق نے شاہ حسین کو مشورہ دیا کہ اردنی فضائیہ کو شامی فوج کے خلاف استعمال کیا جائے اور ’یہی وہ فیصلہ ثابت ہوا جس کے باعث اردن جنگ جیتنے میں کامیاب ہوا۔بلیک ستمبر میں ضیاالحق کے کردار کے بارے میں سب سے اہم گواہی شاہ حسین کے بھائی اور اس وقت کے ولی عہد شہزادہ حسن بن طلال نے بروس ریڈیل سے بات کرتے ہوئے دی۔ بروس ریڈیل لکھتے ہیں کہ شہزادہ حسن بن طلال نے اپریل 2010 میں انھیں بتایا کہ ضیاء الحق شاہ حسین کے دوست اور ہم راز تھے اور شاہی خاندان اس جنگ میں ان کی مدد کا بہت شکر گزار تھا جس میں ان کی موجودگی اتنی ضروری تھی کہ وہ تقریباً فوج کی قیادت کر رہے تھے۔ بروس ریڈیل کے مطابق ضیاالحق کا یہ فعل پاکستان میں حکام کو ناگوار گزرا کیونکہ یہ واضح تھا کہ ضیاالحق نے ’اردنی فوج کے ساتھ فلسطینیوں کے خلاف لڑ کر اپنی سفارتی ذمہ داریوں اور احکامات سے تجاوز کیا۔
لیکن ان خدمات کا صلہ ضیاالحق کو شاہ حسین کی جانب سے کی گئی سفارش کی صورت میں ملا جنھوں نے پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ضیاالحق کے بلیک ستمبر کی جنگ کے کارناموں سے آگاہ کیا جس کے بعد وزیر اعظم بھٹو نے ضیاالحق کو بریگیڈئیر سے میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی۔بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کے سابق مشیر راجہ انوار اپنی کتاب ’دا ٹیررسٹ پرنس‘ میں وزیراعظم بھٹو کے غلط فیصلوں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اگر شاہ حسین اس موقع پر ضیاالحق کی سفارش نہ کرتے تو حد درجہ ممکن تھا کہ ضیاالحق کا فوجی کرئیر بطور بریگیڈئیر ہی ختم ہو جاتا۔ لیکن شاہ حسین کی سفارش نے شاید وزیراعظم بھٹو کو یہ عندیہ دیا کہ ضیاالحق ان کے ساتھ اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ بھٹو غلط فہمی کا شکار ہوگئے اور بالآخر ضیا کے ہاتھوں پھانسی کے پھندے پر چڑھا دیئے گئے۔
