طالبان نے اب تک پاکستان کے کونسے 3 مطالبات تسلیم نہیں کیے؟

پاکستانی سیکیورٹی حکام نے تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات میں امن معاہدے کے لیے تین شرائط پیش کی ہیں جن کے مطابق طالبان کو آئین پاکستان کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنا ہو گا، ہتھیار پھینکنے ہوں گے اور ملک واپسی پر اپنے شناختی کارڈ بنوانا ہوں گے، یعنی انہیں اپنی شناخت ظاہر کرنا ہوگی۔ تاہم ابھی تک طالبان نے ان تینوں میں سے کوئی ایک مطالبہ بھی تسلیم نہیں کیا اور اس بارے میں مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد دونوں فریقین نے ایک ماہ کی عارضی فائر بندی کا اعلان کیا ہے جس کے دوران متنازع معاملات پر بات چیت جاری رہے گی اور ایک حتمی معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی تحریک طالبان کے ساتھ جتنے معاہدے ہوئے ہیں وہ ناکام رہے اور ان کے بعد فوجی آپریشن کیے گئے۔ اس مرتبہ کپتان حکومت نے ایک ماہ کے دوران دو کالعدم تنظیموں سے معاہدے کیے ہیں جن میں تحریک لبیک کے ساتھ حتمی معاہدہ طے پایا ہے جبکہ تحریک طالبان کے ساتھ عارضی معاہدہ ہوا ہے لیکن یہ دونوں معاہدے عوامی حلقوں اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے شدید تنقید کی زد میں ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ریاست پاکستان نے ٹی ٹی پی گرفتار جنگجوؤں کی رہائی پر بھی آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
ماضی میں شدت پسندوں کے خلاف سخت کاروائی کے حامی وزیر فواد چودھری نے بتایا ہے کہ ‘تحریک طالبان سے مذاکرات کی تین شرطیں رکھی گئی ہیں، جن میں پاکستان کے آئین کو تسلیم کرنا، ہتھیار پھینکنا اور پاکستان کے شناختی کارڈ بنوانا یعنی اپنی شناخت ظاہر کرنا شامل ہے۔’ اس سوال پر کہ کیا تمام طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے جا رہے ہیں اور کیا ’ہارڈ کور دہشتگردوں‘ کے لیے بھی مفاہمت کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے، فواد نے کہا کہ طالبان کے تمام 12 گروپس سے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ تحریک طالبان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے اہم نکات میں دونوں جانب سے کمیٹیوں کے قیام پر اتفاق ہوا ہے جو مذاکراتی عمل آگے بڑھائیں گی۔ فریقین کی جانب سے ایک ماہ کی یعنی 9 نومبر سے 9 دسمبر تک فائر بندی ہو گئی یے جس میں توسیع کی جا سکتی ہے، افغان طالبان یعنی امارات اسلامی افغانستان ان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہی ہے۔
حکومتی وزیر کی جانب سے بتائے گے ٹی ٹی پی کے بارہ دھڑوں میں بظاہر وہ گروہ شامل ہیں جو تحریک طالبان سے علیحدہ ہو گئے تھے یا انھوں نے اپنے دھڑے قائم کیے تھے اور پھر اگست 2021 میں ان تمام دھڑوں کا انضمام ہو گیا تھا۔
یاد رہے کہ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد افغان طالبان کی طرز پر پاکستان میں بھی تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد ڈالی گئی تھی جو بعد ازاں خوفناک دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہی۔ اس تنظیم کے سربراہ نیک محمد، بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود، مولانا فضل اللہ، خان سید سجنا اور دیگر کمانڈر رہے ہیں۔ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد تنظیم میں اختلافات بڑھتے گئے جس وجہ سے یہ تنظیم دھڑا بندی کا شکار ہو گئی تھی۔ اس کی ایک ڈرون حملے میں موت کے بعد ملا فضل اللہ کو کو ٹی ٹی پی کا امیر بنایا گیا تھا جو کچھ برس بعد ایک اور امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے۔ تحریک طالبان کے موجودہ سربراہ کمانڈر نور ولی محسود ہیں جو بے نظیر بھٹو شہید کے قتل بارے ایک کتاب لکھ چکے ہیں۔ یاد رہے کہ محترمہ کی شہادت کا الزام تحریک طالبان پر عائد ہوا تھا۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں طالبان سے۔مذاکرات کے لیے قائم ہونے والی حکومتی کمیٹی کے رکن اور جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا یوسف شاہ نے بتایا کہ جب مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو تمام گروپ عام طور پر ایک ہی پیج پر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سال 2013 میں جب انھوں نے طالبان سے مذاکرات شروع کیے تھے تو اس وقت بھی یہ تمام گروپ ایک ہی پیج پر تھے اور ان تمام کی بات سنی جاتی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نھیں ہے کہ حکومت پاکستان ان کالعدم تنظیموں سے مذاکرات کرنے جا رہی ہے بلکہ اس طرح کے معاہدے اور مذاکرات کوئی ایک درجن کے قریب پہلے بھی ہو چکے ہیں جن میں کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا۔
دفاعی تجزیہ کار عامر رانا کاکہنا ہے کہ ان مذاکرات اور معاہدوں کی ناکامی کا ذمہ دار فریقین ایک دوسرے کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا حکومت طالبان کے بارے میں کہتی ہے طالبان اپنی قوت بڑھانے کے لیے وعدے کرتے ہیں جبکہ طالبان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حکومت ان وعدوں کی پاسداری نہیں کرتی۔ اس مرتبہ جو فرق سامنے آیا ہے اس میں افغان طالبان کی ثالثی شامل ہے۔ عامر رانا کے مطابق اس وقت پاکستان ریاست کا یہ خیال ہو سکتا ہے کہ اس سے دو مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد میں تحریک طالبان کے لوگ سرنڈر کر سکتے ہیں یعنی ہتھیار ڈال سکتے ہیں اور دوسرا یہ کہ کم ازکم ٹی ٹی پی کے دھڑوں میں تفریق پید ہو سکتی ہے۔ طالبان کے امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ افغان طالبان اس عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن یہ بات بعید از امکان ہے کہ افغان طالبان پاکستانی طالبان کو دباؤ میں لائیں گے یا ان کے لیے راستے بند کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اس معاملے کو پارلیمان میں لے جائے اور اس میں وسیع بنیاد پر طریقۂ کار وضع کر کے کوششیں کی جائیں تو اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ دیرپا اتفاق ہو جائے، بصورت دیگر انھیں اس طرح ان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے افغان طالبان جس طرح داعش کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں یا انھیں افغانستان سے نکالنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، اس طرح کی کارروائی کا ٹی ٹی پی کے لوگوں کے خلاف امکان نہیں ہے۔ یاد رہے کہ جب سے ٹی ٹی پی یا اس سے جڑے گروپ متحرک ہوئے ہیں تب سے اب تک ان کے ساتھ تیرہ مرتبہ مذاکرات اور معاہدے ہو چکے ہیں اور تمام ناکام رہے ہیں۔ ان میں نمایاں معاہدے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دور میں ہوئے اور ان معاہدوں اور مذاکرات کے بعد بڑے فوجی آپریشن کیے گئے تھے۔
2008 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں تحریک طالبان کے ساتھ سکیورٹی اداروں نے جو معاہدہ کیا تھا اس میں طالبان پر یہ شرائط عائد کی گئی تھیں کہ املاک کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ نہیں ہوں گے، ریاستی اداروں، سکولوں کالجوں اور عمارتوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ دوسری جانب طالبان کی جانب سے یہ شرائط تھیں کہ ان کے کارکنوں کو رہا کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمات کو ختم کیا جائے یا عدالتوں میں جو مقدمات ہیں انھیں نمٹایا جائے اور یہ بھی کہا گیا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں شریعت نافذ کی جائے۔ اس وقت حکومت نے پاٹا ریگولیشن کی جگہ پر شریعت ریگولیشن نافذ کردیا تھا اور اس وقت شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد کو رہا کیا گیا تاکہ وہ لوگوں کو اس کے لیے راضی کرے کہ معاہدہ ہوا ہے اور وہ اب حکومت اور آئین کے پابند ہوں گے۔ لیکن اس کے برعکس صوفی محمد نے اس وقت جمہوری نظام کو کفری نظام قرار دیا، جس سے حالات خراب ہوئے۔ جب طالبان نے خون خرابہ کیا تو سوات میں فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا تھا۔
پیپلزپارٹی کے بعد نواز لیگ برسر اقتدار آئی تو طالبان کی جانب سے دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں۔ اس دوران 2013 میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیا اور اس کے لیے حکومتی کمیٹی قائم کی گئی، جس کی سربراہی وزیر اعظم کے خصوصی مشیر برائے قومی امور عرفان صدیقی کر رہے تھے۔ اس کمیٹی میں مولانا سمیع الحق کا نام شامل تھا لیکن ان کی جگہ مولانا یوسف شاہ مذاکرات میں شرکت کرتے رہے۔ اس کے علاوہ سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی، میجر ریٹائرڈ محمد عامر، رستم شاہ مہمند شامل تھے۔ اس بارے مولانا یوسف شاہ نے بتایا کہ طالبان نے کچھ قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جس کو تسلیم کرنے کی بجائے آپریشن ضرب عضب شروع کر دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف امن معاہدے پر راضی تھے لیکن ادارے ایک پیج پر نہیں آ رہے تھے اور ان میں دوریاں پائی جاتی تھیں جس وجہ سے مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔
مولانا یوسف شاہ کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ امن مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں کیونکہ ادارے بھی معاہدہ چاہتے ہیں اور حکومت بھی تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے طالبان سے مذاکرات کیے تھے تب طالبان کے تمام دھڑوں کی نمائندگی تھی اور تمام دھڑے مذاکرات کے لیے راضی تھے، اب بھی تمام دھڑے ایک پیج پر نظر آتے ہیں اور کوئی اختلاف نظر نہیں آ رہا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں بھی تحریک طالبان کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی معاہدہ زیادہ عرصہ نہیں چل پایا جس کی بنیادی وجہ طالبان کی جانب سے دہشت گردی کی کارروائیاں تھیں۔ لہذا حالیہ مذاکرات کے بعد ہونے والے معاہدے کا مستقبل بھی تاریک ہی نظر آتا ہے۔
