طالبان کو واپس بلانے والوں کا احتساب کب ہو گا ؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار وجاہت مسعود نے کہا ہے کہ سچ ٹکڑوں میں بیان نہیں کیا جاتا سوال یہ ہے کہ جن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیۓ تھی وہ کب اور کس کی اجازت سے پاکستان واپس آئے ؟ 80 ہزار پاکستانی شہریوں اور فوجی جوانوں کے قاتلوں سے گٹھ جوڑ کرنے والوں کی جواب دہی کب ہو گی؟ اپنے ایک کالم میں وجاہت مسعود لکھتے ہیں کہ صدر سکندر مرزا نے 7 اکتوبر 1958ءکو پاکستان میں پہلا ملک گیر مارشل لا نافظ کرتے ہوۓ لکھا کہ ، ‘’میں گہرے غور و فکر کے بعد اس افسوسناک نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر میں نے موجودہ حالات میں ناگزیر قدم نہ اٹھایا تو میں اپنے فرض سے غفلت کا مرتکب ہوں گا۔
ٹھیک بیس روز بعد ایوب خان بھی ‘ اس نتیجے پر پہنچے کہ ملک کو تباہی سے بچانے کےلئے سکندر مرزا کی رخصتی ضروری ہے۔ دس برس بعد ایوب خان نے ٹھیک انہی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اقتدار یحییٰ خان کے سپرد کر دیا۔ یحییٰ خان کو الوداعی تقریر کرنا نصیب نہیں ہوا تاہم چھ برس بعد 5 جولائی 1977 ء کو جنرل ضیا الحق نے ملک کو ’خانہ جنگی‘ سے بچانے کیلئے ’نوے روز‘ کیلئے اقتدار سنبھال لیا۔ گیارہ برس بعد جہاز کے حادثے کے بعد نئی قیادت کو کسی اعلان کی ضرورت نہیں تھی۔ نوشتہ دیوار یہ تھا کہ انتقال اقتدار کی بجائے شراکت اقتدار جاری رہے گی۔ ایک اور عشرہ گزرا تو 12 اکتوبر کی رات پرویز مشرف نے اپنی آمد کو منتخب حکومت کے اقدام کا ردعمل قرار دیا تھا۔
یہ ردعمل 9 برس تک جاری رہا۔ تب چیف جسٹس افتخار چوہدری کی عبا کی اوٹ سے جنرل کیانی نمودار ہوئے جنہوں نے سیاسی مداخلت سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ اس اعلان کی حقیقت میجر جنرل اطہر عباس نے بیان کی تھی. وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ گزشتہ چھ برس کی ہنگامہ آرائی کے کچھ پہلو تو نومبر 2022 میں بادلِ نخواستہ رخصت ہونے والے جنرل صاحب بیان کر رہے ہیں۔ پس پردہ وحشت کے کچھ مناظر محترم عرفان صدیقی تاریخ کے سپرد کر رہے ہیں۔ اس دوران منتخب نمائندوں کا ایک خاص اجلاس منعقد ہوا۔ ادھر ادھر سے خبر نکلی ہے کہ اس مجلس میں ایک بھلے مانس نے فرمایا کہ ’جھوٹ کی بنیاد پر سیاسی بیانیہ مرتب کرنا بھی ہمارے مسائل کا ایک بنیادی سبب ہے‘۔ صاحب کیسا جھوٹ؟ آمریت کی دیوار جھوٹ کی بنیاد پر اٹھائی جاتی ہے اور اس دروازے اور کھڑکی کے بغیر دیوار کے سائے میں سچ کے پودے پر پتے اور پھول نہیں آتے ۔
سچائی بیان کرنے والوں پر وطن فروشی اور قوم دشمنی کے الزام لگائے جاتے ہیں۔ آج ہمارے ملک میں ٹریڈ یونین باقی ہے اور نہ طلبا یونین کا کوئی نشان۔ صحافت جابر سلطان کا منظور شدہ بیان ہے۔ ملکی معیشت اور تمدنی ارتقا پر غور کرنے والے اہل سیاست کے گلے میں نا اہلی کا طوق لٹک رہا ہے۔ دانش کا نام لینا اپنے پیچھے بلا لگانے کے مترادف ہے۔ سنا ہے کہ مذکورہ مجلس میں معیشت کا بھی کچھ ذکر ہوا ہے۔ معیشت کا حال یہ ہے کہ کل ملکی برآمدات 30 ارب ڈالر کے برابر ہیں اور توانائی کے شعبے میں درآمدات کا حجم بھی اتنا ہی ہے۔ نیز یہ کہ ہم ہر برس تیس ارب ڈالر کی مالیت کا صاف پانی بحیرہ عرب میں غرق کر رہے ہیں . آخر میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ سچ ٹکڑوں میں بیان نہیں کیا جاتا۔ قوم پوچھتی ہے کہ جن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی مقصود ہے وہ کب اور کس کی اجازت سے پاکستان آئے نیز یہ کہ 80 ہزار پاکستانی شہریوں اور فوجی جوانوں کے قاتلوں سے گٹھ جوڑ کرنے والوں کی جواب دہی کب ہو گی؟
