طالبہ سے زیادتی کے دو مجرموں کو 2-2 مرتبہ سزائے موت
راولپنڈی کی مقامی عدالت نے طالبہ زیادتی کیس کے دو مجرموں کو 2-2 مرتبہ سزائے موت اور 5-5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی جبکہ ایک مجرم کی بیوی کو جرم چھپانے پر 7 سال قید اور اضافی ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی ہے۔
راولپنڈی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے زیادتی کیس کی سماعت کی اور اس دوران مجرم بابر مسیح کی بیوی انیتا کو جرم چھپانے پر 7 سال قید اور ایک لاکھ روپے ہرجانہ کی سزا سنائی۔
راولپنڈی کی مقامی عدالت نے ریمارکس دیئے کہ طالبہ سے زیادتی انتہائی گھناؤنا جرم ہے، مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں ، مجرموں کو کڑی سزا دینا لازم ہے، ایسے مجرموں سے رعایت بچوں کے ساتھ بھی ناانصافی ہوگی۔
یاد رہے کہ مجرم بابر اور زینب آمنے سامنے پڑوسی تھے، بچی کا باپ کچہری میں گاڑیاں دھوتا ہے، 9 سالہ زینب اور اس کے والدین واقعے سے ایک سال قبل دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تھے، فیصلے کے بعد زینب کی والدہ عدالتی فیصلے سے مطمئن دکھائی دیں۔
گنجان آباد علاقے جھنڈا چیچی میں رواں برس 22 مارچ کو زینب گھر سے پیسے لے کر دکان پر چیز لینے جارہی تھی، مجرم بابر مسیح نے دھوکے سے اسے گھر بلایا اور کمرہ بند کر کے جبری زیادتی کی، اس کے بعد دوسرے مجرم عدنان نے بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر دونوں نے مل کر طالبہ کو قتل کیا۔
زیادتی کے مجرموں نے نعش چارپائی کے نیچے چھپا رکھی تھی ، واقعے کے بعد مجرم بابر گھر میں نشہ کر کے اسی پلنگ پر سو گیا، جس کے نیچے بیگ میں نعش چھپائی گئی تھی جبکہ اس کی بیوی گھر کو تالا لگا کر قریبی رشتہ داروں کے گھر چلی گئی تھی۔
