طیارہ حادثہ: پائلٹ نے ائیر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایات پر عمل نہیں کیا

فرانسیسی ایئر سیفٹی آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ پی کے-8303 پرواز کے بلیک باکس کا ڈیٹا کامیابی سے ڈاؤن لوڈ کریا گیا ہے وہیں سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے پی آئی اےکو لکھے ایک خط میں کہا کہ پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول کی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔
خیال رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کا مسافر طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی کے گنجان آباد علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جس میں عملے کے ارکان بھی شامل تھے جب کہ 2مسافر معجزاتی طور پر بچ گئے تھے۔
سی اے اے عہدیدار افتخار احمد کے پی آئی اے کے سیفٹی اینڈ کوالٹی انشورنس ڈپارٹمنٹ کو لکھے گئے خط میں ’ایئر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایات پر عمل درآمد نہ ہونے کی نشاندہی کے ساتھ کہا گیا کہ ’پرواز کے تحفظ کے خاطر اس قسم کا واقعہ دوبارہ نہ ہونے کو یقینی بنایا جائے‘۔ اس پر پی آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ قومی ایئر لائن ضوابط کے مطابق اس کا جواب دے گی۔
دوسری جانب پاکستان ایئر لائنز پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے اس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے حوالے سے مختصر تفصیلات جاری کرنا جاری تفتیش اور تحقیقات کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔
سی اے اے کے خط میں کہا گیا کہ ڈیوٹی پر موجود کنٹرولر نے پی کے 8303 کے پائلٹ کے حوالے سے عدم تعمیل کی رپورٹ تیار کی ہے جس میں کہا گیا کہ پائلٹ کو 2 مرتبہ طیارے کی رفتار اور اونچائی کے بارے میں خبردار کیا گیا لیکن اس نے عمل نہیں کیا۔ خط میں مزید کہا گیا کہ پی کے-8303 کو 25 ناٹیکل مائلز کے کنٹرول زون میں داخلے کے وقت 3 ہزار فٹ کی بلندی پر کلیئر کردیا گیا تھا لیکن مکلی پر طیارہ 5 ہزار فٹ کی بلندی پر دیکھا گیا۔ خط کے مطابق ’یہی بات پائلٹ کو بھی بتائی گئی جس نے رپورٹ کیا کہ آسانی سے اتر جائیں گے تاہم 10 ناٹیکل مائلز پر پائلٹ کو ایک مرتبہ پھر بلندی کم کرنے کے کے انتباہ کےساتھ چکر لگانے کا کہا گیا جسے اس نے قبول نہیں کیا‘۔
کنٹرولر کی بات کا ذکر کرتے ہوئے خط میں کہا گیا کہ ’جب جہاز رن وے25 ایل کو چھونے سے 7 ناٹیکل مائل پر تھا اس کی بلندی 5 ہزار 200 فٹ تھی جو طے شدہ معیار سے زائد تھی‘۔ کنٹرولر کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے پائلٹ کو 2 مرتبہ ہدایت کی کہ اس راہ کو چھوڑ کر 180 کے زاویے پر بائیں جانب مڑے لیکن اس نے اس پر عمل نہیں کیا اور اپنی صوابدید پر رن وے 25 ایل کی طرف بڑھتا گیا‘۔ کنٹرولر نے کہا کہ ’میں نے 5ناٹیکل مائل پر ایک مرتبہ پھر جہاز کو خبردار کیا جو 3 ہزار 500 فٹ کی بلندی سے گزر رہا تھا جب کہ 4 ناٹیکل مائیل پر جہاز کو زمین سے 13 سو فٹ کی بلندی پر دیکھا گیا اور اس کی رفتار 250 ناٹ تھی، بعد ازاں جہاز کو 210 ناٹ کی رفتار کے ساتھ رن وے کے دہانے سے گزرتا ہوا دیکھا گیا‘۔ سی اے اے کا کہنا تھا کہ طیارے کو رن وے سے اٹھایا گیا اور رن وے 25 ایل پر دوبارہ اترنے کی کوشش میں ماڈل کالونی پر کریش ہوگیا۔
اپروچ ٹاور جہاز کے اترنے کے آغاز سے لے کر 5 ناٹیکل مائلز تک ڈیل کرتا ہے اور اترنے کی حتمی کوشش کے بعد اسے مقامی ٹاور (اس کسی میں کراچی کے ٹاور) کے حوالے کرتا ہے، مقامی ٹاور لینڈنگ گیئرز وغیرہ کےلیے جہاز کو آنکھوں سے دیکھتا ہے اور لینڈنگ کے حوالے سے ہدایت دیتا اور زمین پر اترنے کے بعد پائلٹ کو زمینی کنٹرول کے حوالے کردیا جاتا ہے جو پائلٹ کو پارکنگ سے متعلق رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ تاہم یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اپروچ ٹاور نے جہاز کو کراچی کے ٹاور کے حوالے کیوں نہیں کیا جہاں سے خود دیکھا جاتا کہ جب طیارہ پہلے لینڈنگ کےلیے آیا تو اس کے لینڈنگ گیئرز کھلے ہوئے تھے یا نہیں۔
دوسری جانب فرانسیسی بیورو آف انکوائری اینڈ اینالسز فار سول ایوی ایشن سیفٹی (بی ای اے) نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ طیارے کے بلیک باکس کے 32 عناصر فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (ایف ڈی آر) اور کاک پٹ وائس ریکارڈر (سی وی آر) کے ڈیٹا کو کامیابی سے ڈاؤن لوڈ کرلیا گیا ہے۔ قبل ازیں ادارے نے کہا تھا کہ اے اے آئی بی کے صدر کی موجودگی میں ان کی لیبارٹری میں تکنیکی کام کا آغاز ہوگیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button