عاصم باجوہ کا استعفی رد کر کے کپتان نےاحتسابی بیانیے کی دھجیاں بکھیر دیں

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کا استعفیٰ رد کیے جانے کے بعد کپتان کی اپنی ساکھ بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ سیاسی اور سماجی حلقے یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا پاکستان میں کرپشن کے الزامات پر انکوائری صرف سیاستدانوں کے خلاف ہی ہو سکتی ہے اور کیا اس ملک میں میں سابقہ جرنیل احتساب سے بالاتر ہیں۔ یاد رہے کہ تین ستمبر کے روزعاصم سلیم باجوہ نے خود پر لگائے گئے کرپشن کے الزامات کے بعد معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم چار ستمبر کے روز وزیراعظم عمران خان نے ان کا استعفیٰ مسترد کرکے انہیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کر دی۔ یوں وزیراعظم نے اپنے کرپشن مخالف بیانیہ کی بھی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں کیونکہ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے عاصم باجوہ پر لگائے گئے الزامات کی انکوائری تک کا بھی کوئی حکم جاری نہیں کیا۔
اس سے پہلے عاصم باجوہ نے احمد نورانی کے الزامات کو موثر انداز میں رد کرنے کے لئے چند روز کا وقت مانگا تھا۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بھی صحافیوں کو یہی بتایا تھا کہ عاصم باجوہ جند روز میں ایک پریس کانفرنس کر کے خود پر لگائے گئے الزامات کی وضاحت کریں گے۔ تاہم عاصم باجوہ نے آٹھ روز کی تیاری کے باوجود پریس کانفرنس کے ذریعے خود پر لگے الزامات رد کرنے کی بجائے ایک چار صفحوں کی پریس ریلیز جاری کردی جس میں انہوں نے ایک طرح سے خود پر لگائے گئے تمام الزامات کو قبول کیا لیکن اگر مگر اور آئیں، بائیں شائیں کے ساتھ۔ یہ پریس ریلیز جاری کرنے کے بعد عاصم باجوہ اگلے تین گھنٹوں میں دو مختلف ٹی وی چینلز پر بیٹھے اور کاشف عباسی، ارشد شریف اور شاہ زیب خانزادہ کے ٹاک شوز میں خود پر لگائے گئے الزامات کی وضاحت دینے کی کوشش کی۔
عاصم باجوہ اسٹیبلشمنٹ نواز سمجھے جانے والے نیوز چینل اے آر وائے کے دو ٹاک شوز میں شریک ہوئے اور دوستانہ سوالات کا سامنا کرتے ہوئے اپنا دفاع کیا۔ تاہم جیو ٹی وی پر شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں عاصم باجوہ دس منٹ بھی انکے جارحانہ سوالات کا سامنا نہ کر پائے اور باجوہ خاندان کی منی ٹریل کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات پر گڑبڑا گئے۔ جان چھڑوانے کے لیے انہوں نے یہ بہانہ بنا کر لائن منقطع کر دی کہ میں آپ کے سوال کا جواب پوچھ کر بتاتا ہوں۔ تاہم تھوڑی دیر بعد وہ واپس لائن پر تو آ گئے لیکن شاہ زیب کے کسی بھی سوال کا تسلی بخش جواب دینے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ شاہ زیب خانزادہ کا پروگرام ختم ہونے تک ایک بات واضح ہو چکی تھی کہ عاصم باجوہ کی چار صفحات کی پریس ریلیز اور ٹی وی پر ان کی گفتگو دونوں ان پر لگے الزامات کو دھونے میں ناکام رہے۔
یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ عاصم سلیم باجوہ نے خود پر پر لگنے والے الزامات کی وضاحت دینے میں آٹھ روز لگائے۔ تین ستمبر کو خود پر لگائے گئے الزامات کی وضاحتی پریس ریلیز میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ ‘احمد نورانی نے 27 اگست 2020 کو نامعلوم ویب سائٹ پر میرے بارے میں خبر شائع کی، جسے میں سراسر غلط اور جھوٹی قرار دیتے ہوئے مسترد کرتا ہوں۔’ انہوں نے کہا کہ ‘خبر میں الزام لگایا گیا کہ میں نے 22 جون 2020 کو بطور معاوں خصوصی اپنے غلط اثاثے ظاہر کیے اور میں نے اپنی اہلیہ کی بیرون ملک سرمایہ کاری ظاہر نہیں کی، میرے بھائیوں نے امریکا میں کاروبار کیے جن میں ان کی ترقی کا تعلق پاک آرمی میں میری ترقی سے ہے جبکہ میرے بھائیوں اور بچوں کی ملکیت میں موجود مختلف کمپنیاں، کاروبار اور جائیدادیں ظاہر کی گئیں اور ان کی ملکیت اور مالیت سے متعلق بے بنیاد الزامات لگائے گئے’۔
انہوں نے کہا کہ ’18 سال میں میرے بھائیوں نے بیرون ملک محنت سے تقریباً 7 کروڑ ڈالر کے اثاثے اور فرنچائز خریدیں، ان 7 کروڑ ڈالر میں سے تقریباً 6 کروڑ ڈالر بینک سے قرض اور دیگر مالیاتی سہولیات کی کمپنیوں سے حاصل کیے گئے۔’ان کا کہنا تھا کہ ’18 سال میں میرے بھائیوں اور میری اہلیہ کی اس بزنس میں نقد سرمایہ کاری 74 ہزار ڈالر رہی جس میں سے میری اہلیہ کی سرماریہ کاری 19 ہزار ڈالر تھی، میرے پانچوں بھائیوں کی ساڑھے 54 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کا مکمل ریکارڈ موجود ہے جبکہ باقی سرمایہ کاری منافع میں سے کی گئی۔’
عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ ‘میرے دو بھائی ڈاکٹر، ایک بھائی امریکی بینک میں نائب صدر، ایک بھائی 2002 میں کاروبار کے آغاز سے قبل امریکی ریسٹورنٹ آپریٹنگ کمپنی میں کنٹرولر اور ایک پارٹنر رہا، کیا اتنے اہم عہدوں پر موجود لوگ 54 ہزار ڈالرز کی بچت نہیں کرسکتے، جبکہ یہ بھی مدنظر رہے کہ ان کاروباروں میں کم از کم 50 دیگر سرمایہ کار بھی شامل تھے۔’اپنے بچوں کے کاروبار سے متعلق لگائے گئے الزامات کے حوالے سے عاصم باجوہ نے کہا کہ ‘میرے ایک بیٹے پر الزام لگایا گیا کہ اس نے سی اون بلڈرز اینڈ اسٹیٹ کمپنی بنائی، میرے بیٹے کی کمپنی نے اپنے قیام سے اب تک کوئی کاروبار نہیں کیا اور یہ کمپنی غیر فعال ہے۔’ باجوہ نے کہا کہ ‘میرے ایک بیٹے پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس کے نام ہمالیہ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہے، میرے بیٹے کے پاس اس کمپنی کے صرف 50 فیصد شیئرز ہیں، یہ کمپنی بہت چھوٹی ہے جس نے تین سال میں 5 لاکھ روپے سے بھی کم منافع کمایا۔’
چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے کہا کہ ‘یہ بات درست ہے کہ میرے ایک بیٹے کے نام پر موچی کورڈوینرز کمپنی موجود ہے، لیکن یہ ایک چھوٹی کمپنی ہے جس نے 5 سال میں مکمل نقصان اٹھایا ہے۔’ انہوں نے کہا کہ ‘میرے ایک بیٹے پر الزام لگایا گیا کہ اس کے نام کرپٹن کمپنی ہے جو معدنیات کا کام کرتی ہے اور یہ کمپنی اس وقت رجسٹرڈ کی گئی جب میں بلوچستان میں تعینات تھا، لیکن کسی نے یہ معلوم کرنے کی زحمت نہیں کی کہ یہ کمپنی ایف بی آر میں 2019 میں رجسٹرڈ ہوئی اور اب تک اس نے کوئی کاروبار نہیں کیا، اس کاروبار نے اب تک کوئی بینک اکاؤنٹ بھی نہیں کھلوایا۔’عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ ‘میرے ایک بیٹے کے نام ایڈوانس مارکیٹنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی چلانے کا الزام لگایا گیا ہے لیکن ایک بار پھر کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ کمپنی بھی غیر فعال ہے اور اس نے بھی کوئی کاروبار نہیں کیا۔’ عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ ‘مجھ پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ میرے بیٹوں کی ملکیتی کمپنی سی اون منیجمنٹ گروپ امریکا میں ایک گھر کی مالک ہے، اگر صحافی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرتے تو پتہ چلتا یہ چھوٹا سا گھر میرے دو بیٹوں نے اپنے ذرائع سے سستے داموں صرف 31 ہزار ڈالر میں خریدا۔’ انہوں نے کہا کہ ‘یہ الزام بھی لگایا گیا کہ سی اون ناتورا نامی کمپنی بھی میرے دو بیٹوں نے قائم کی، تاہم یہ کمپنی بھی ہمیشہ غیر فعال رہی ہے’۔
باجوہ کا کہنا تھا کہ ‘یہ بے بنیاد الزام بھی عائد کیا گیا کہ میرے 2 بھائیوں کی کمپنی سلک لائن انٹرپرائزز پرائیوٹ لمیٹڈ کو سی پیک کے ٹھیکے دیے گئے، کمپنی رحیم یارخان میں صنعتوں کو افرادی قوت فراہم کرتی ہے۔’ انہوں نے کہا کہ ‘میرے ایک بیٹے نے امریکا میں چھوٹا گھر بینک قرض کے ذریعے لیا ہے، گھر کی 80 فیصد رقم کی ادائیگی ابھی باقی ہے، میرے بیٹوں کی عمریں 33، 32 اور 27 سال ہیں، میرے بیٹوں نے امریکا کی بڑی یونیورسٹیز سے بزنس ڈگری حاصل کی ہے اور امریکا میں بہت اچھی تنخواہوں پر نوکریاں کر رہے ہیں۔’یعنی عاصم سلیم باجوہ نے اپنے وضاحتی بیان میں کسی بھی کمپنی کی موجودگی اور اپنے بیٹوں کی ملکیت ہونے کی تردید نہیں کی۔ اپنے تردیدی بیان میں انہوں نے مذید کہا کہ 22 جون 2020 کو اپنی اہلیہ کے اثاثے اپنے ڈکلیئریشن میں چھپانے کا الزام بنیادی طور پر غلط ہے کیونکہ اس وقت میری اہلیہ بیرون ملک کسی کاروبار میں سرمایہ کار یا شیئرہولڈر نہیں رہی تھیں، میری بیوی نے یکم جون 2020 کو بیرون ملک کی تمام کمپنیوں سے سرمایہ نکال لیا تھا اور امریکا کی سرکاری دستاویز میں اس کا ریکارڈ موجود ہے۔’
عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ ’ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ کمپنی امریکی کمپنیوں کی لیژن آفس تھی اور ایس ای سی پی میں کمپنی کے نام تبدیلی کا عمل مکمل کیا گیا، لیکن یہ بس دفتری کارروائی تھی کیونکہ امریکا میں میری اہلیہ کا کاروباری مفاد ختم ہوچکا تھا۔’ دراصل یہ ایک وضاحت کر کے عاصم باجوہ نے احمد نورانی کے اس الزام کا جواب دینے کی کوشش کی یے کہ عید کے روز ایس ای سی پی کے دفاتر کو کھلوا کر عاصم سلیم باجوہ کے بھائیوں اور بیٹوں کی ملکیتی کمپنیوں کے ریکارڈ میں ہیر پھیر کی گئی۔
عاصم باجوہ نے احمد نورانی کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘حقیقت دیکھی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مجھ پر الزامات میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے لگائے گئے۔’ ان کا کہنا تھا کہ ‘2002 سے یکم جون 2020 تک 18 برسوں میں میری اہلیہ نے امریکا میں میرے بھائیوں کی کمپنیوں میں تقریباً 19 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی، جو 18 سال تک میری تنخواہ میں سے بچائی گئی رقم کے ذریعے کی گئی جو کہ قابل احتساب ہے اور اس عرصے میں ایک بار بھی اسٹیٹ بینک کے کسی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔’باجوہ نے کہا کہ ‘باجکو گلوبل منیجمنٹ کا پیزا چین پاپا جونز میں کوئی ملکیتی مفاد نہیں، اور خبر میں غلط الزام لگایا گیا کہ باجکو 99 کمپنیوں کی مالک ہے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹر نے اپنی دی گئی لسٹ میں کئی کمپنیوں کا نام ایک سے زائد بار لیا، کیونکہ امریکا میں بائیو گروپ کی صرف 27 اور متحدہ عرب امارات میں 2 فعال کمپنیاں ہیں۔’
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے سنگین کرپشن کے الزامات کے باوجود عاصم سلیم باجوہ کے استعفی کو رد کیا جانا انصاف اور احتساب کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترادف ہے۔
