اربوں پتی ہونے کا الزام لگنے کے بعدعاصم باجوہ گہری مشکل میں

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی اور سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین عاصم سلیم باجوہ ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع ہونے کے بعد مشکل میں پھنستے نظر آتے ہیں جس میں فیکٹس اور فگرز کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے اور ان کی بیوی، بیٹوں اوربھائیوں کی بیرون ملک اربوں روپے کی جائیدادیں اور بزنس ایمپایئرز ہیں جو کہ عاصم باجوہ کی مختلف فوجی عہدوں پر ترقی کے ساتھ ساتھ بڑھیں۔ تاہم اہنے ردعمل میں عاصم سلیم باجوہ نے غیر ملکی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی اس تحقیقاتی رپورٹ کو شرانگیز اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔
فیکٹ فوکس میں شائع ہونے والی یہ رپورٹ معروف پاکستانی صحافی احمد نورانی نے تیار کی ہے جس کی بنیاد چار مختلف حکومتوں کی سرکاری دستاویزات پر مبنی تصدیق شدہ ریکارڈ یے۔ یاد رہے کہ گذشتہ ماہ جب حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کے معاونین خصوصی اور مشیران کے اثاثوں اور شہریت کی تفصیلات جاری کی تو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ان کا خوب چرچا ہوا۔ ان تفصیلات کے سامنے آنے کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سابق سربراہ عاصم سلیم باجوہ، جو کہ اب وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات اور سی پیک اتھارٹی کے سربراہ ہیں، کے اثاثہ جات پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔ مگر جب 27 اگست 2020 کو احمد نورانی کی عاصم سلیم باجوہ اور ان کے خاندان کے کاروبار کے بارے میں ایک مفصل تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی تو بس پھر سوالات اور تنقید کا ایک ایسا پنڈورا باکس کھل گیا جو کہ بند ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا اور ٹوئٹر پر مسلسل ‘عاصم باجوہ’ اور ‘باجوہ لیکس’ ٹرینڈ کر رہا ہے۔
احمد نورانی نے اپنی ہوشربا رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے ‘خاندان کی کاروباری سلطنت کا پھیلاؤ اور ان کی فوج میں اہم عہدوں پر ترقی، دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلیں۔’ احمد نورانی لکھتے ہیں کہ عاصم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کی ‘ چار ممالک میں 99 کمپنیاں، 130 سے زیادہ فعال فرینچائز ریسٹورنٹس، اور 13 کمرشل جائیدادیں ہیں جن میں سے امریکہ میں دو شاپنگ مال بھی شامل ہیں۔’ فیکٹ فوکس میں شائع ہونے والی رپورٹ میں احمد نورانی نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ’عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی بننے کے بعد جمع کروائی گئی اپنے اثاثہ جات کی فہرست میں اپنی بیوی کے پاکستان سے باہر بزنس کیپیٹل کا ذکر نہیں کیا۔ عاصم باجوہ نے معاون خصوصی بننے کے بعد 22 جون 2020 کو اپنے اثاثہ جات کی ڈیکلیریشن پر حلفیہ دستخط کیے اور اپنی اہلیہ کے نام پر ‘خاندانی کاروبار’ میں صرف 31 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری ظاہر کی۔ اس حلف نامے کے آخر میں عاصم باجوہ نے تصدیق کی کہ "میری، اور میری بیوی کی اثاثہ جات کی تفصیل نہ صرف مکمل اور درست ہے بلکہ میں نے اس میں کوئی چیز نہیں چھپائی”۔
اس تضاد پر جب فیکٹ فوکس نے عاصم سلیم باجوہ سے رابطہ کرکے ان کا موقف جاننا چاہا تو انہوں نے کسی قسم کا کوئی جواب نہیں دیا۔ رپورٹ کے مطابق عاصم باجوہ کی اہلیہ فرخ زیبا اپنے شوہر کے بھائیوں کے قائم کردہ باجکو گروپ کے تمام کاروباروں میں ان کے ساتھ برابر کی حصہ دار اور مالک ہیں۔ عاصم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کی چار ممالک میں 99 کمپنیاں، 130 سے زیادہ فعال فرینچائز ریسٹورنٹس، اور 13 کمرشل جائیدادیں ہیں. رپورٹ کے مطابق عاصم باجوہ کے بیٹوں نے بھی اس گروپ میں 2015 میں شمولیت اختیار کی اور پاکستان اور امریکہ میں مزید نئی کمپنیوں کی بنیاد اس وقت رکھی جب ان کے والد آئی ایس پی آر کے سربراہ تھے اور پھر بعد میں کمانڈر سدرن کمانڈ بلوچستان بن گئے تھے۔
فیکٹ فوکس کی تحقیقاتی رپورٹ میں امریکی حکومت کی سرکاری دستاویزات کے عکس بھی شامل کیے گے ہیں جن کے مطابق ‘عاصم باجوہ کی اہلیہ فرخ زیبا کی امریکہ میں تیرہ کمرشل جائیدادوں اور دو شاپنگ سنٹرز کی مشترکہ مالکہ ہیں اور تین ممالک میں 82 کمپنیوں میں ان کے سرمائے کی کل مالیت تقریباً چالیس ملین ڈالر ہے جس کی وہ عاصم باجوہ کے بھائیوں کے ساتھ برابر کی مالکن ہیں۔ احمد نورانی نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ پاکستان میں کاروباری کمپنیوں کے نظام کی نگرانی کرنے والے ادارے سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان یعنی ایس ای سی پی نے ‘اپنی آفیشل ویب سائٹ سے عاصم سلیم باجوہ کے بیٹوں کی ملکیتی کمپنیوں کا ڈیٹا غائب کرنا شروع کر دیا ہے۔’ ان کا دعویٰ ہے کہ ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر اس کاروباری ڈیٹا میں کی جانے والی تبدیلیوں کے مکمل شواہد انکے پاس موجود ہیں۔ صحافی احمد نورانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ایس ای سی پی کی ویب سائٹ سے عاصم باجوہ کے بیٹوں کی ملکیت کے بارے میں معلومات اتوار یکم اگست 2020 کو ہٹائی گئی تھیں جس دن کہ عید کی چھٹی تھی اور تمام دفاتر بند تھے۔ انھوں نے دعوی کیا: ’ایس ای سی پی کے پورے ادارے کو یہ بات معلوم ہے اور میرے پاس تمام ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں۔‘
فیکٹ فوکس کی تحقیقات کے مطابق عاصم سلیم باجوہ کے بھائی ندیم باجوہ نے امریکہ کی معروف فوڈ چین پاپا جونز کا پہلا ریسٹورنٹ 2002 میں قائم کیا۔ اسی سال عاصم باجوہ کی جنرل پرویز مشرف کے اسٹاف آفیسر کے طور پر تعیناتی ہوئی۔ ندیم باجوہ، جس نے اپنے کاروباری سفر کا آغاز پاپا جونز پیزا ریسٹورنٹ میں بطور ڈیلیوری ڈرائیور کیا تھا، اب ان کے بھائیوں اور عاصم باجوہ کی اہلیہ اور بچوں کی چار ممالک میں 99 کمپنیاں اور 130 فرینچائز ریسٹورنٹس ہیں جن کی موجودہ مالی حثیت چالیس ملین ڈالر یا 670 کروڑ پاکستانی روپے بنتی یے۔
رپورٹ کے مطابق عاصم باجوہ کی بیوی اور بھائیوں نے 52 اعشاریہ 2 ملین ڈالر یعنی 874 کروڑ پاکستانی روپوں سے زائد کی سرمایہ کاری سے دو انٹرنیشنل فوڈ چینز کے تین ممالک میں 174 فرینچائز ریسٹورنٹ قائم کیے اور امریکہ میں 14 اعشاریہ 5 ملین ڈالر یعنی 243 کروڑ روپوں کی کمرشل اور رہائشی جائیدادیں بنائیں۔ یوں ایک ہزار ایک سو انیس کروڑ کی سرمایہ پاکستان سے باہر کی گئی۔ اس وقت باجوہ خاندان کی بیرون ملک 133 فرینچائزز فعال ہیں۔
فیکٹ فوکس کی رپورٹ کے مطابق جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی اہلیہ اور ان کے بیٹوں نے پاکستان اور امریکہ میں مختلف کاروباروں میں شمولیت اختیار کی، ان کی اہلیہ کی امریکہ کینیڈا اور متحدہ عرب امارات میں چلنے والے کاروباروں اور ان بزنسز کی پراپرٹیز میں برابر کی ملکیت ہے۔ لیکن عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی بننے کے بعد جمع کروائی گئی اپنے اثاثہ جات کی فہرست میں اپنی بیوی کے پاکستان سے باہر بزنس کیپیٹل کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ متعلقہ کالم باقاعدہ "نہیں ہے” لکھا۔
یاد رہے کہ باجوہ خاندان چھ بھائیوں اور تین بہنوں پر مشتمل ہے جن کا تعلق جنوبی پنجاب کے ایک چھوٹے سے شہر کے خوشحال مگر مڈل کلاس گھرانے سے تھا۔ ان کے والد محمد سلیم باجوہ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے۔ انھوں نے 1950 کے اوائل میں سرکاری نوکری شروع کی اور پھر 1960 میں صادق آباد میں قائم ملت ہسپتال نامی ایک نجی ہسپتال میں نوکری کر لی۔ انہیں 25 نومبر 1974 کو کراچی ایکسپریس میں سفر کے دوران نامعلوم افراد نے قتل کر دیا تھا۔ اس وقت سلیم باجوہ کے اثاثہ جات میں زرعی زمین، صادق آباد شہر میں کچھ دوکانیں، ایک دواساز کمپنی میں شیئرز اور ایک گھر تھا۔ سلیم باجوہ کے بڑے دو بیٹے تنویر اور طالوت والد کیطرح ڈاکٹر بن گئے اور پنجاب کے مختلف شہروں میں پریکٹس کی۔ تیسرے بیٹے عاصم باجوہ نے 1984 میں فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ دو بھائی ندیم اور فیصل پنجاب یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کر کے 1990 کی دہائی کے اوائل میں امریکہ چلے گئے۔سب سے چھوٹا بھائی عبدالمالک بھی 2002 میں امریکہ چلا گیا۔
2007 میں جب اس وقت کے ملٹری ڈکٹییٹرجنرل(ر) پرویز مشرف نے عاصم باجوہ کو برگیڈئیر کے عہدہ پر ترقی دی تو باجوہ فیملی کے تمام کاروباروں کو ‘باجکو گلوبل مینیجمنٹ ایل ایل سی‘ نامی ایک کمپنی کے زیرِ سایہ لایا گیا اور اس کمپنی کو ریاست اوہایو میں رجسٹر کروایا گیا جبکہ 2008 میں لاہور میں اس کمپنی کا مددگار دفتر قائم کیا گیا۔ باجکو گلوبل مینیجمنٹ ایل ایل سی کی رجسٹریشن دستاویزات، جو کہ امریکی ریاست اوہایو کے سیکریٹری آف سٹیٹ کے ریکارڈ کا حصہ ہیں، سے یہ بات سامنے آتی ہی کہ عاصم باجوہ کی اہلیہ فرخ زیبا باجکو گروپ کے تمام کاروباروں میں اپنے شوہر کے پانچ بھائیوں کے ساتھ برابر کی حصہ دار اور مالک ہیں۔ عاصم سلیم باجوہ کے بیٹوں نے باجکو گروپ میں 2015 میں شمولیت اختیار کی اور پاکستان اور امریکہ میں باجکو گروپ کےعلاوہ مزید نئی کمپنیوں کی بنیاد اس وقت رکھی جب عاصم باجوہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر اور پھر کمانڈر سدرن کمانڈ بلوچستان تھے۔ یاد ریے کہ فرخ زیبا ایک ہاوس وائف ہیں اور ظاہری طور پر انہیں کوئی کاروباری تجربہ نہیں ہے۔
فیکٹ فوکس نے جب باجکو گروپ کے صدر عبدالمالک باجوہ سے انکے اور انکے بھائیوں کے بارے میں اور عاصم سلیم باجوہ سے ان کی بیوی کے کاروباروں کے حوالے سے سوالات پوچھے تو کوئی جواب تو نہیں دیا گیا مگر باجکو گروپ کی ویب سائٹ منظرِ عام سے غائب کر دی گئی جو بعد ازاں پھر مکمل طور پر نئی تفصیلات کے ساتھ بحال کی گئی۔ باجکو گروپ کی ویب سائٹ پر دی جانے والی کاروباری تفصیلات میں پاپا جونز پیزا ریسٹورنٹ کی امریکہ اور کینیڈا میں صرف 58 شاخوں کی تفصیلات دی گئی جبکہ رئیل اسٹیٹ کے شعبہ میں سرمایہ کاری کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ اپ ڈیٹ ہونے کے بعد مذکورہ ویب سائٹ پر پہلی طرف رئیل اسٹیٹ میں کی گئی سرمایہ کاری کو جزوی طور پر منظرِ عام پر لایا گیا یے۔ باجکو گروپ کے صدر عبدالمالک باجوہ، جو کہ عاصم سلیم باجوہ کے بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں، نے اپنے ٹوئیٹر اکاونٹ پر یہ وضاحت دی ہی کہ باجکو گروپ کے کاروبار سے عاصم باجوہ اور ان کے بیٹوں کا کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔ لیکن فیکٹ فوکس کی رپورٹ کے مطابق حقائق اس دعوٰی سے بالکل مختلف ہیں۔ فیکٹ فوکس نے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے جو سرکاری دستاویزات حاصل کیئں وہ اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ عاصم سلیم باجوہ کا ایک بیٹا باجکو گروپ کمپنیز سے منسلک ہے۔ مزید برآں عاصم باجوہ کی بیوی، فرخ زیبا باجکو گلوبل مینیجمنٹ کمپنی جس کے زیرِ سایہ باجکو گروپ کمپنیز اپنا کاروبار کرتی ہیں، میں عاصم سلیم باجوہ کے پانچ بھائیوں کے ساتھ برابر کی شراکت دار ہیں اور امریکہ، کینیڈا اور دیگر غیر ملکی کمپنیوں میں 84 عدد کمپنیوں کی ملکیت رکھتی ہیں۔
فیکٹ فوکس کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب عاصم سلیم باجوہ کے خاندانی کاروبار کے متعلق سوالات پوچھے گئے تو یکدم سوشل میڈیا پر ایک مہم کا آغاز کیا گیا جس کے تحت سوالات پوچھنے والوں کا تعلق انڈین انٹیلی جینس ایجنسی را سے جوڑا گیا اور عاصم باجوہ کے خاندان کے کاروبار پر سوال اٹھانے کو سی پیک پر حملہ اور ہندوستان کی سازش قرار دیا گیا۔
تاہم احمد نورانی کی تیارکردہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق رہائشی جائیدادوں کے علاوہ، باجوہ خاندان کے ملکیتی کاروباروں نے پچھلے چھ سالوں میں تیرہ کمرشل پراپرٹیز بھی خریدیں۔ پچھلے چند سالوں میں باجکو گروپ نے ونچر فنڈنگ اور انٹرنشنل انوسٹمنٹ کمپنیز بھی قائم کیں۔ ‘باجکو’ نام کے علاوہ، باجکو گروپ کے زیرِ اثر ہی جالکو، ایس بی گلوبل انوسٹمنٹس، بی آر وی ہولڈنگ اور ‘بی آر وی’ کے نام سے مختلف کمپنیاں انوسٹمنٹس اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں قائم کی گئیں۔ عاصم سلیم باجوہ تین بیٹے محمد، یوشع اور عازب مائننگ، شعبہِ تعمیرات، مارکیٹنگ، مشروبات، رئیل اسٹیٹ، فیشن اور کاسمیٹکس بنانے والی مختلف کمپنیوں کے بلا شرکتِ غیرے مالک ہیں۔ یہ کمپنیاں پاکستان میں کاروبار کرتی ہیں اور تین کمپنیاں امریکہ میں کاروبار کرتی ہیں جو کہ رئیل اسٹیٹ کے شعبہ سے منسلک ہیں۔ عاصم باجوہ کے بیٹوں کے یہ کاروبار عاصم باجوہ کی بیوی اور انکے بھائیوں کے مشترکہ کاروبار باجکو گروپ سے علاوہ ہیں۔ بیٹوں یہ تمام کاروبار تب قائم کیے جب عاصم باجوہ یا تو ڈی جی آئی ایس پی آر تھے یا کمانڈر سدرن کمانڈ تھے۔ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کی اہلیہ فرخ زیبا پاکستان میں موجود باجکو گروپ کے کاروبار باجکو ٹیلی کام اور فاسٹ ٹیلی کام میں برابر کی حصہ دار ہیں ۔ یہ خاندان محنت اور افرادی قوت کی فراہمی کے شعبہ سے بھی منسلک ہے۔ اس شعبہ میں ان کی کمپنی کا نام سِلک لائن انٹرپرائزز ہے جس کے مالک عاصم سلیم باجوہ کے بھائی ڈاکٹر تنویر، ڈاکٹر طالوت اور ڈاکٹر طالوت کا بیٹا ہیں۔ مزدور اور افرادی قوت فراہم کرنے والی یہ کمپنی عاصم باجوہ کے پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر بھائیوں نے اس وقت قائم کی جب عاصم بلوچستان میں کمانڈر سدرن کمانڈ تھے۔ ڈاکٹر طالوت کے بیٹے عمار سلیم باجوہ رائے عامہ جانچنے کیلئے سروے کروانے والی کمپنی ٹرانسنڈنٹ کے بھی مالک ہیں۔ اس حوالے سے کہ کیا یہ کمپنی ٹرانسنڈنٹ تب بنی جب وہ ڈی جی آئی ایس پی آر تھے، لیکن عاصم باجوہ نے اس سلسلے میں کوئی جواب نہیں دیا۔
باجکو گروپ سے ہٹ کر جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے تین بیٹے پاکستان میں درج ذیل کمپنیوں کے مالک ہیں: کریپٹون جو کہ مائننگ کے شعبہ سے منسلک ہے، ہمالیہ واٹرز مشروبات کی کمپنی ہے، جبکہ موچی کارڈوینرز اور ایملز ایلیور فیشن اور کاسمیٹکس بنانے والی کمپنیاں ہیں۔ ایڈوانسڈ مارکیٹنگ نامی کمپنی مارکیٹنگ سے منسلک ہے۔ سائن بلڈرز اینڈ اسٹیٹس اور سائن بلڈرز ایل ایل پی ایل ایل پی ایل ایل پی رئیل اسٹیٹ کی کمپنیاں ہیں۔ سائن بلڈرز اینڈ اسٹیٹس کروڑوں مالیت کے فارم ہائوسز ڈویلپ کرتی ہے۔ یہ تمام کمپنیاں 2015 کے بعد قائم کیں گئیں جب عاصم سلیم باجوہ ڈی جی ٓائی ایس پی آر تھے اور پھر کمانڈر سدرن کمانڈ۔
جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے دو بڑے بیٹوں یوشع سلیم باجوہ اور محمد سلیم باجوہ نے امریکہ بھی کمپنیز قائم کیں ہیں جن میں سے ایک ہائپر ڈرائیو سولوشنز کے نام سے ہے جو کہ 2015 میں قائم کی گئی جب عاصم سلیم باجوہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے عہدے پر تھے۔ اس کے علاوہ سائن مینیجمنٹ گروپ نام کی کمپنی 2018 میں قائم کی گئی جب عاصم سلیم باجوہ کمانڈر سدرن کمانڈ تھے اور سائن نیچرا نام کی کمپنی 2020 میں قائم کی گئی۔ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے ایک بیٹے کا نام اپنے چچا عبدالمالک باجوہ کے نام کے ساتھ باجکو گروپ کی متحدہ عرب امارات میں سات رجسٹرڈ شدہ کمپنیوں میں سے تین کی رجسٹریشن دستاویزات میں موجود ہے۔ یہ کمپنیاں 2015 اور 2016 میں قائم کیں گئیں جب عاصم سلیم باجوہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے عہدے پر فائز تھے اور ایک کمپنی 2019 میں قائم کی گئی جب عاصم سلیم باجوہ کور کمانڈر سدرن کمانڈ کوئٹہ تھے۔ عاصم باجوہ کے بیٹے یوشع باجوہ کا نام 2018 سے باجکو گروپ کی امریکہ میں قائم پانچ مختلف کمپنیز کے سالانہ گوشواروں میں بطور آتھورائزڈ ایجنٹ کے منظرِ عام پر آنا شروع ہوا۔ عاصم باجوہ کی والدہ فضیلت مآب کئی دہائیوں سے شیریکس لیبارٹریز نامی فارماسیوٹیکل کمپنی میں شیئرز رکھتی ہیں جن کی موجودہ تعداد پانچ ہزار شئیرز ہے جو کہ کمپنی کے کل شیئرز کا پانچ فیصد ہیں۔ آیف بی آر کے ریکارڈ کے مطابق یہ شئیرز کبھی بھی انکے نام سے ڈیکلیئر نہیں کیے گئے۔
عاصم باجوہ کی فوج میں مختلف اہم عہدوں پر تعیناتیوں کے دوران ان کے خاندان نے جو مختلف کمپنیاں بنائیں، انکے ذریعے مختلف انوسٹمنٹس کیں اور جائیدادیں خریدیں، انکی عددی تفصیل کے مطابق 1984 سے 2001 کے دوران جب وہ فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ سے لیفٹیننٹ کرنل بنے تو اس دوران باجوہ خاندان نے نہ تو کوئی قابلِ ذکر سرمایہ کاری اور نہ ہی کوئی ملکیتی کمپنی بنائی۔ لیکن 2002 سے 2008 کے دوران ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے ساتھ اسٹاف آفیسر اور پھر کمانڈر ٹرپل ون بریگیڈ رہنے کے دوران باجوہ خاندان نے تقریبا 16 ملین ڈالرز کی لاگت سے 53 پیزا فرینچائزز قائم کیں۔ اس دوران امریکہ میں بیس، پاکستان میں دو اور کینیڈا میں چار کمپنیاں رجسٹر کروائی گئیں۔
2009 سے 2012 کے دوران عاصم باجوہ بطور بریگیڈیر ایک کور کمانڈر کے سٹاف آفیسر اور پھر میجر جنرل کے عہدے پر ترقی کے بعد جی او سی ڈیرہ اسماعیل ڈسٹرکٹ کمانڈر تعینات رہے۔ اس عرصے کے دوران باجوہ خاندان نے 7 اعشاریہ 5 ملین ڈالر کی لاگت سے 25 مذید فرینچائزز قائم کیں۔ اس کے علاوہ امریکہ میں پانچ اور کمپنیاں قائم کی گیئں جبکہ ایک رہائشی جائیداد خریدی گئی۔
2012 سے 2016 کے دوران عاصم باجوہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے عہدے پر تعینات رہے۔ اس دوران باجوہ خاندان نے 22 اعشاریہ 5 ملین ڈالرز کی مالیت کی 75 فرینچائزز قائم کیں۔ امریکہ میں چونتیس، پاکستان میں تین اور متحدہ عرب امارات میں چھ کمپنیاں قائم کیں۔ اس کے علاوہ امریکہ میں اس خاندان نے 3 اعشاریہ 16 ملین ڈالر کی لاگت سے سات کمرشل اور دو رہائشی جائیدادیں خریدیں۔ عاصم باجوہ کے بیٹوں نے باجکو گروپ سے علاوہ امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں کمپنیاں قائم کرنا بھی اس عرصے میں شروع کیا۔
2017 سے 2020 کے دوران عاصم باجوہ پہلے آئی جی آرمز اور پھر کمانڈر سدرن کمانڈ تعینات ہوئے۔ اس دوران باجوہ خاندان نے 6 اعشاریہ 3 ملین ڈالرز سے اکیس فرینچائزز قائم کیں، اس وقت قائم ہونے والی فرنچائزز میں سے کچھ چند ماہ پہلے بند ہوئیں۔ امریکہ میں سترہ، پاکستان میں سات، متحدہ عرب امارات میں ایک نئی کمپنی کا قیام ہوا۔ اسی طرح 7 اعشاریہ 5 ملین ڈالرز کی لاگت سے امریکہ میں چھ کمرشل اور دو رہائشی جائیدادیں خریدی گئیں۔ اسی دوران عاصم باجوہ کے بیٹوں نے پاکستان میں کمپنیاں قائم کیں اور امریکہ میں جائیدادیں خریدنا شروع کیا۔ ان چھ کمرشل جائیدادوں میں سے ایک پر کمرشل سنٹر تعمیر ہونے کے بعد اس عرصے میں قائم کی گئی کمرشل اور رہائشی جائیدادوں کی کل قیمت گیارہ اعشاریہ دو ملین ڈالرز ہو گئی۔ اسی عرصے میں عاصم باجوہ کے بڑے بیٹے نے امریکہ اور پاکستان میں کمپنیاں بنانے اور جائیدادیں خریدنی شروع کیں۔ اس دوران امریکہ میں خریدی گئی دونوں رہائشی جائیدادیں عاصم باجوہ کے بیٹے یوشع سلیم باجوہ نے خریدیں۔
لیفٹینٹ جنرل عاصم باجوہ کے ستمبر 2019 میں فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد سے باجکو گروپ نے کسی قسم کی کوئی نئی کمپنی نہیں بنائی البتہ ان کے بیٹوں نے امریکہ میں ایک اور پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کی ایک کمپنی قائم کی۔
تاہم احمد کی یہ تحقیقاتی رپورٹ فیکٹ فوکس میں شائع ہونے کے بعد عاصم سلیم باجوہ نے اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔ ٹوئٹر پر ڈالے گئے ایک لائن کے ردعمل میں عاصم سلیم باجوہ نے لکھا ہے کہ ایک نامعلوم ویب سائٹ پر میرے اور میرے خاندان کے خلاف چلائی گئی شر انگیز خبر جھوٹ کا پلندہ ہے اور میں اس کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔ تاہم ان کے اس رد عمل پر ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر عاصم سلیم باجوہ کے ہاتھ صاف ہیں تو وہ اپنے اور اہنے خاندان کے خلاف شائع رپورٹ میں دئیے گئے فیکٹس اور فگرز کو باقاعدہ طور پر قانونی کارروائی کے ذریعے رد کریں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
