عامر لیاقت مسلسل بونگیاں اورچولیں کیوں مارتے ہیں؟

مسلسل بونگیاں اور چولیں مارنے والے نام نہاد عالم دین اور تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت نے مریم نواز کی تضحیک کی کوشش میں ہندو دیوی کی توہین کرنے پر شدید عوامی ردعمل کے بعد گھٹنے ٹیکتے ہوئے ہندو برادری سے معافی مانگ لی ہے اور اپنی توہین آمیز ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دی یے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ عامر لیاقت نے کوئی بونگی ماری ہو اور پھر اس پر معافی مانگ لی ہو۔ وہ پچھلے کئی برسوں سے مسلسل اپنی گفتگو اور ٹویٹس کے ذریعے لوگوں کی تضحیک کے واقعات میں رسوا ہوئے ہیں جس کے بعد انہیں ہر مرتبہ معافی مانگنا پڑی۔ تاہم ہم وہ بن گیا اور چولیں مارنے سے باز نہیں آتے جس کی بنیادی وجہ یہ الزام ہے کہ وہ نشہ کرنے کے بعد ہائی ہو جاتے ہیں اور پھر انہیں چولیں مارنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
ایک ایسی ہی کھچ عامر لیاقت نے 24 فروری کو اپنی ٹوئٹ کے ذریعے ماری جب انہوں نے مریم نواز کا حوالہ دیتے ہوئے ایک ہندو دیوی کی تصویر شیئر کی اور ’دوسرا روپ‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کیا۔ عامر لیاقت نے مذکورہ ٹوئٹ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے 21 فروری کو پریس کانفرنس میں کہے گئے جملوں کے بعد کی تھی۔ مریم نواز نے ضمنی انتخابات پر بات کرتے ہوئے حکمران جماعت کے ارکان کےلیے کہا تھا کہ ‘وہ 2018 کی طرح انہیں پتلی گلی سے نہیں نکلنے دیں گی، اور ھکومت والے اب ان کا دوسرا روپ دیکھیں گے’۔
مریم نواز کی جانب سے ’دوسرا روپ‘ کا لفظ استعمال کرنے کے بعد عامر لیاقت نے ٹویٹ کرتے ہوئے ایک ہندو دیوی کی تصویر شیئر کی اور ساتھ میں مریم نواز کا ‘دوسرا روپ’ والا بیان بھی ڈال دیا۔ لیکن عامر لیاقت کی جانب سے مریم نواز کے بیان پر ہندو دیوی کی تصویر شیئر کیے جانے پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان پر نہ صرف ایک خاتون کی تضحیک کرنے بلکہ ہندو مذہب کے پیروکاروں کی توہین کرنے کا الزام بھی لگا دیا گیا۔
شدید عوامی رد عمل کے بعد عامر لیاقت کو مجبوراً اپنی ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنا پڑی، عامر نے اپنی مریم نواز اور دیوی والی تصویر ڈیلیٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہندو کمیونٹی کے جذبات مجروح ہونے پر میں معافی کا خواست گار ہوں۔ میرا مقصد ہر گز ایسا نہیں تھا، لیکن میں نے اپنا ٹویٹ ہٹا دیا ہے، میں تمام مذاہب کی عزت کرتا ہوں اور یہی میرے دین کی تعلیمات ہیں، میں ایک بار پھر معذرت کرتا ہوں۔‘
عامر لیاقت کی اس ٹویٹ کو سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ زیادہ تر صارفین کا مؤقف تھا کہ اس طرح انہوں نے ہندو برادری کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔ تاہم عامر لیاقت کی جانب سے معذرت کے باوجود بعض صارفین نے وزیرِ اعظم عمران خان سے عامر لیاقت کی بونگیوں کا نوٹس لینے کی درخواست کی ہے۔ دوسری جانب عامر لیاقت نے سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں وزیراعظم عمران خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فردوس عاشق اعوان، شہباز گل اور عثمان ڈار جیسے ہارے ہوئے لوگوں کو حکومتی عہدے بانٹنے میں مصروف ہیں جبکہ منتخب رکن اسمبلی ان کو نظر نہیں آتے۔ شاید عامر لیاقت کا اشارہ اپنی جانب تھا جنہیں کراچی سے پی ٹی آئی کا رکن قومی اسمبلی ہونے کے باوجود کوئی حکومتی عہدہ نہیں ملا۔
کئی سوشل میڈیا صارفین یہ سوال اٹھاتے بھی نظر آئے کہ کیا عامر لیاقت پر پاکستان میں لاگو توہینِ مذہب کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا؟۔ جہاں عامر لیاقت کو۔لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا، وہیں پاکستان ہندو کونسل کے صدر کمار ڈاکٹر رمیش واکوانی نے بھی عامر لیاقت کی ٹوئٹ کی شدید مذمت کی۔ ہندو کونسل کے صدر نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ‘ایک شخص جو مذہبی اسکالر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ ان کے شرمناک عمل کی مذمت کرتے ہیں جو دیگر مذاہب کا احترام کرنا بھی نہیں جانتے’۔ ڈاکٹر رمیش واکوانی نے عامر لیاقت حسین سے مذکورہ ٹوئٹ فوری طور پر ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور ساتھ ہی کہا تھا کہ صورت دیگر ان کے پاس توہین مذہب ایکٹ کے تحت سخت کارروائی کے مطالبے سمیت ملک بھر میں مظاہرہ کرنے کا حق موجود ہے۔
پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کےلیے کام کرنے والے سماجی کارکن کپل دیو نے عامر لیاقت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ایک موجودہ ممبر قومی اسمبلی اور تحریک انصاف کے رکن ہیں جو ایک ہندو دیوی کی تصویر کو ن لیگ کی رہنما مریم نواز کے خلاف محض سیاسی نکتہ چینی کےلیے استعمال کر رہے ہیں۔’
دوسری طرف انسانی حقوق کی وکیل اور قانونی ماہر ربیعہ باجوہ نے کہا کہ پاکستان میں لاگو توہینِ مذہب کے قوانین کے اندر ہر مذہب کے افراد کے مذہبی احساسات اور جذبات کو مجروح کرنے کے خلاف سزا موجود ہے۔ ‘تعزیراتِ پاکستان کے قانون 295 اے کے مطابق اگر کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے مذہبی جذبات کر مجروح کیا جائے یا ان کے مذہبی عقائد کا مذاق اڑایا جائے تو اس کے خلاف توہینِ مذہب کے قوانین کے تحت قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے الزامات کی صورت میں مجسٹریٹ کو شکایت درج کروانا ہوتی ہے جس کے بعد قانونی کارروائی کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔
