کیا اگلے الیکشن الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے ہوں گے؟


حالیہ ضمنی الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کے دوران وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے انتخابی عمل کو شفاف، سہل اور جدید بنانے کے لئے مقامی سطح پر ایک جدید الیکٹرانک مشین تو تیار کر لی ہے لیکن اس حوالے سے قانون سازی کے علاوہ ان مشینوں کو نادارا ور الیکشن کمیشن کے ساتھ منسلک کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں جدید مشینوں کی بھی ضرورت ہوگی جو کہ نا ممکن نظر آتا ہے لہذا آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک مشینوں کا استعمال ابھی ممکن نہیں۔
یاد رہے کہ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماتحت ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس یا این آئی ای نے ووٹ ڈالنے کے لیے مقام سطح پر ایک جدید الیکٹرانک مشین تیار کر لی ہے، جس کو استعمال کر کے شفاف، کم خرچ اور سہل طریقے سے انتخابات منعقد کروائے جا سکتے ہیں۔ این آئی ای کے ڈائریکٹر جنرل عبدالمجید سومرو نے بتایا کہ الیکٹرانک ووٹ کاسٹنگ مشین کے پروٹوٹائپ یعنی نمونے کی تیاری ان کے ادارے کی بڑی کامیابی ہے، جسے مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاہم انتخابات میں قابل استعمال بنانے کے لیے اس میں کچھ مزید خصوصیات کا اضافہ کرنے کی ضرورت بھی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ عام انتخابات میں استمعال کرنے کے لیے الیکٹرانک ووٹ کاسٹنگ مشین کو نادرا اور الیکشن کمیشن آف پاکستان سے منسلک کرنا ضروری ہو گا لیکن واضح رہے کہ پروٹوٹائپ کو اس حالت میں انتخابات کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
خیال رہے کہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے پاکستان میں تیار کردہ الیکٹرانک ووٹ کاسٹنگ مشین کی خوشخبری سنائی ہے۔ فواد کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹ کاسٹنگ مشین وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں تیار کی گئی ہے جن کا مقصد ملک میں شفاف اور دھاندلی سے پاک انتخابات کو ممکن بنانا ہے۔ یہ خبر عام ہونے کے بعد سوال پوچھا جا رہا ہے کہ پاکستان نے الیکٹرانک ووٹ کاسٹنگ مشین بنا تو لی ہےلیکن اس کا عملی استعمال کب تک ممکن ہو سکے گا؟ پاکستان میں آئندہ عام انتخابات 2023 میں ہونا ہیں تو کیا دو یا ڈھائی سال بعد ہونے والے الیکشنز میں ووٹرز الیکٹرانک ووٹ کاسٹنگ مشین کے ذریعے ووٹ ڈال سکیں گے؟
اس حوالے سے این آئی ای کے سربراہ عبدالمجید سومرو کا خیال تھا کہ الیکٹرانک ووٹ کاسٹنگ مشین کو قابل عمل بنانے میں ابھی وقت درکار ہو گا بلکہ اس بات کا انحصار پوری طرح اس بات پر ہو گا کہ حکومت اس سلسلے میں کتنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ماضی میں بعض مخصوص حلقوں کے انتخابات میں ووٹنگ مشین استعمال کرنے کے تجربات کرتا رہا ہے جو بہت کامیاب ثابت نہیں ہوئے۔ ماضی میں استعمال ہونے والی ووٹنگ مشینیں چین سے حاصل کی گئیں تھیں اور الیکشن کمیشن کے بعض ذرائع کے مطابق ان میں معلومات کے غیر محفوظ ہونے کے امکانات موجود تھے۔ تاہم حکام کا کہنا ہےکہ این آئی ای کی پیش کردہ الیکٹرانک ووٹ کاسٹنگ مشین پوری طرح پاکستانی ہے اور اس میں بعض بہت بنیادی چیزوں کے علاوہ تمام مصنوعات مقامی استعمال کی گئی ہیں اس لیے اس مشین کے سے معلومات کے غیر محفوظ ہونے کا کوئی امکان موجود نہیں ہو گا۔ حکام کے مطابق ووٹنگ مشین کے پروٹوٹائپ کو پوری طرح محفوظ بنایا گیا ہے اور اس میں ووٹر کی شناخت ظاہر ہونا، ووٹ کے گم یا غلط ہونے کے امکانات بالکل موجود نہیں ہیں۔
تاہم رازداری اور مزید تحفظ کا انحصار بڑی حد تک اس سافٹ وئیر پر ہو گا جو اس مشین کو نادرا یا الیکشن کمیشن سے منسلک کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ این آئی ای میں الیکٹرانک ووٹ کاسٹنگ مشین سے متعلق پراجیکٹ کے سربراہ کامران بھٹی کا ماننا ہے کہ اگر حکومت دلچسپی لے تو آئندہ دو ڈھائی سال میں مشین کے استعمال کو قابل عمل بنانا ممکن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک تصور پیش کر دیا ہے اب اگر پوری سنجیدگی کے ساتھ کام ہوتا ہے تو دو سال میں ہم اس مشین کو انتخابات میں استعمال کے قابل بنا سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس مشین کو اس قابل بنانا ہو گا کہ اس میں ووٹرز کا ڈیٹا موجود ہو اور ووٹ ڈالے جانے کے بعد نتیجہ جہاں ہم چاہتے ہیں وہاں پہنچ جائے۔یہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے الیکٹرانک ووٹ کاسٹنگ مشین کو جی پی ایس یا کسی دوسرے طریقے سے نادرا کے ڈیٹا بنک اور الیکشن کمیشن سے بھی منسلک کرنا ہو گا۔ لیکن ہمیں اتنے بڑے ڈیٹا تک رسائی اور اس کا استعمال ممکن بنانے کے لیے مخصوص سرورز بھی درکار ہوں گے۔کامران بھٹی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کسی مشین کا پروٹوٹائپ لیباریٹری یا تحقیقی ادارے کی ورکشاپ میں بنایا جاتا ہے اور پروٹوٹائپ کو عملی میدان میں استعمال سے قبل تجارتی سطح تک پہنچانا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عام انتخابات کے لیے لاکھوں کی تعداد میں الیکٹرانک ووٹ کاسٹنگ مشینوں کی ضرورت ہو گی، اور اتنی بڑی تعداد کوئی تحقیقاتی ادارہ تیار نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے چھوٹا موٹا کارخانہ لگانا پڑے گا اور کافی بڑی تعداد میں انجینیئرز اور ماہر کاریگروں کو تربیت بھی دینا ہو گی۔
یاد رہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان بھر میں تقریباً ایک لاکھ پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے تھے، جبکہ ہر پولنگ سٹیشن میں ایک سے زیادہ پولنگ بوتھ ہوتے ہیں۔سال 2023 میں متوقع انتخابات میں پولنگ سٹیشنز کی تعداد میں اضافے کے امکانات موجود ہیں تو ایسے میں پاکستان کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی تمام نشستوں کے انتخابات کے لیے ڈھائی سے تین لاکھ الیکٹرانک ووٹ کاسٹنگ مشینوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔اتنی بڑی تعداد میں مشینوں کی تیاری کسی کارخانے میں ہی ممکن ہو سکتی ہے اور اس سارے پراجیکٹ کے لیے کثیر رقم کی بھی ضرورت پڑے گی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ الیکٹڑانک ووٹنگ متعارف کروانے سے نہ صرف دھاندلی کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہو گی بلکہ انتخابات پر اٹھنے والا خرچہ بھی کم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹ کاسٹنگ مشین متعارف کروانے سے پہلے اس سلسلے میں قانون سازی بھی کرنا ہو گی جو الیکشنز ایکٹ 2017 میں ترمیم یا نئے قانون کے ذریعے ممکن ہو سکے گی۔تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سلسلے میں قانون سازی پر کوئی زیادہ وقت نہیں لگے گا کیونکہ تمام سیاسی جماعتیں اس کے حق میں ہیں۔ کنور دلشاد نے کہا کہ بھارت 2000 کے اوائل سے انتخابات میں الیکٹڑانک ووٹنگ مشینیں استعمال کر رہا ہے۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینز، یعنی ای وی ایم کے بارے میں وقتًا فوقتاً انڈیا کی سیاسی جماعتیں آواز اٹھاتی رہی ہیں۔
ٹیکنولوجسٹ کہتے ہیں کہ کا انڈیا کی ووٹنگ مشینوں کو ہیک کیا جا سکتا ہے بلکہ 2014 کے عام انتخابات میں ان مشینوں کے ذریعے دھاندلی کی گئی تھی۔انڈیا کی عدالتوں میں ان ووٹنگ مشینوں کے استعمال کے خلاف کئی کیس بھی زیر سماعت ہیں، لیکن بھارت کا الیکشن کمیشن ان دعووں اور خدشات کوسختی سے مسترد کرتا رہا ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ یہ مشینیں مکمل طور پر فول پروف ہیں۔انڈیا کے انتخابات میں لگ بھگ 16 لاکھ مشینیں استعمال ہوتی ہیں۔ ایک مشین پر زیادہ سے زیادہ 2000 ووٹ ریکارڈ کیے جاتے ہیں اور ووٹنگ کے بعد ان مشینوں کو پرانے طرز پر سیل کر کے ان پر ایک سیریل نمبر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ مشینیں پھر کاؤنٹنگ سنٹر پر حکام اور پولنگ ایجنٹوں کی موجودگی میں کھولی جاتی ہیں۔ بھارت میں اب تک تین پارلیمانی اور 113 اسمبلی انتخابات ای وی ایم کے ذریعے منعقد کیے جا چکے ہیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ کے استعمال سے ایک پارلیمانی نشست کا نتیجہ محض پانچ گھنٹے میں سامنے آ جاتا ہے۔ اس سے پہلے ووٹوں کی گنتی میں چالیس گھنٹے تک لگ جاتے تھے۔محقیقن نے 2017 میں ریاستی انتخابات کے حوالے سے کی گئی ایک تحقیق سے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ ووٹنگ مشینز کے استعمال سے انتخابی دھاندلی کے واقعات تقریباً ختم ہو گئے۔ اس سے غریب اور کمزور طبقے ووٹ ڈالنے کے لیے باہر آنے لگے اور انتخابات میں مقابلہ پہلے سے بڑھا۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت پاکستان اگلے الیکشن سے پہلے الیکٹرونک ووٹنگ سسٹم فائنل کر پاتی ہے یا نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button