پاکستان کی سری لنکا کو 5 کروڑ ڈالر کی نئی دفاعی کریڈٹ لائن کی سہولت کی پیشکش

دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کےلیے پاکستان نے سری لنکا کو 5 کروڑ ڈالر نئی کریڈٹ لائن کی پیش کش کی ہے۔
یہ اعلان وزیر اعظم عمران خان نے کیا جو سری لنکا کے اپنے دو روزہ سرکاری دورے کو مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے۔ کولمبو اور اسلام آباد سے دونوں ممالک کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقین نے سلامتی، دہشت گردی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق انٹیلی جنس کے اشتراک سے متعلق امور میں مضبوط شراکت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ دفاعی مکالمے میں عملے کی سطح پر ہونے والے مزاکرات میں اضافے نے سکیورٹی کے شعبے کے تعلقات کو وسعت دینے کا موقع فراہم کیا ہے۔کھیلوں کی سفارت کاری کو مستحکم کرنے کرتے ہوئے پاکستان سری لنکا میں کھیلوں کے فروغ کےلیے 5 کروڑ 20 لاکھ روپے فراہم کرے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے سری لنکا کی اسپورٹس کمیونٹی کے ساتھ ایک اجلاس میں شرکت بھی کی جہاں انہوں نے ‘عمران خان ہائی پرفارمنس اسپورٹس سینٹر’ قائم کرنے کا اعلان کیا۔ پاکستان نے سری لنکن ریزورٹ آف کینڈی کے یونیورسٹی آف پیراڈینیا میں ایشین تہذیب اور ثقافت کے مرکز کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ مشترکہ گفتگو میں کہا گیا کہ اس دورے میں دونوں فریقین کو بروقت موقع ملا ہے کہ وہ حال ہی میں ہونے والے سیکریٹری سطح کی دو طرفہ سیاسی مشاورتوں، مشترکہ اقتصادی کمیشن اجلاس، اور تجارت کی سیکریٹری سطح کی بات چیت کے دوران نشاندہی کیے گئے شعبوں میں اپنی باقاعدہ مشاورت کو فروغ دیں۔ پاکستان نے پاکستان – سری لنکا ہائر ایجوکیشن کوآپریشن پروگرام کے ایک حصے کے طور پر ادویات (ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس) کے شعبے میں 100 اسکالرشپ کا بھی اعلان کیا۔ اس دورے کے دوران وزیر اعظم نے صدر گوٹبیا راجپاکسا اور ان کے ہم منصب مہندا راجاپاکسا کے ساتھ وفد کی سطح پر ملاقاتیں کیں۔ وزیر اعظم خان نے سری لنکا کی سماجی و معاشی ترقی کےلیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
دونوں فریقوں نے ثقافتی روابط، انسانی وسائل کی ترقی اور صلاحیت و استقامت کے شعبے میں تعلیمی و تکنیکی تعاون کے فروغ کےلیے مصروفیات کا جائزہ لیا۔
دورے کے دوران دستخط ہونے والے مفاہمتی یادداشتوں میں یہ شامل ہیں
سیاحت میں تعاون سے متعلق مفاہمت نامہ، بورڈ آف انویسٹمنٹ کے درمیان مفاہمت نامہ، سری لنکا کے صنعتی ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ (آئی ٹی آئی) اور کراچی یونیورسٹی کے انٹرنیشنل سینٹر برائے کیمیکل اینڈ بایولوجیکل سائنسز کے درمیان ایم او یو، آئی ٹی آئی اور کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے درمیان تعاون کا ارادہ اور کولمبو یونیورسٹی اور لاہور اسکول آف اکنامکس کے درمیان ایم او یو۔
کولمبو میں منعقدہ پاک سری لنکا تجارتی اور سرمایہ کاری کانفرنس میں دونوں ممالک نے ایک ارب ڈالر کے دوطرفہ تجارتی ہدف کے حصول کے مقصد کو حاصل کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور پاکستان سری لنکا آزاد تجارتی معاہدے کو بڑھانے اور کی طرف کام کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
اس کے علاوہ وزیر اعظم عمران خان اور سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راجا پکسا نے مشترکہ طور پر سری لنکا پاکستان پارلیمانی دوستی ایسوسی ایشن کی تشکیل نو کا اعتراف کیا۔
دونوں فریقین نے چارٹر پر مبنی باڈیز کو بلانے کی ضرورت پر زور دیا اور علاقائی تعاون کو مستحکم کرنے کےلیے سارک عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
دونوں فریقین نے علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کےلیے اپنی مشترکہ وابستگی کی تصدیق کی جہاں وزیر اعظم خان نے بین الاقوامی قوانین کے مطابق تعمیری بات چیت کے ذریعے تمام بقایا تنازعات خصوصاً مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔
کاروبار میں آسانی کی شکل میں پیش کیے جارہے مواقع کی تلاش میں سری لنکا کے تاجروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے وزیر اعظم خان نے پاکستان سری لنکا تجارتی اور سرمایہ کاری کانفرنس کو بتایا کہ ممالک کے درمیان تجارتی رابطے غربت کے خاتمے کےلیے ناگزیر ہیں۔
انہوں نے تجارتی روابط قائم کرنے کی تجویز پیش کی جیسا کہ یورپی یونین کے ممبران میں موجود ہے جو ان کے مطابق برصغیر کی خوشحالی کےلیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا مشترکہ کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے دولت حاصل کرنے اور غربت کے خاتمے کےلیے دولت کا رخ موڑنے کے نظریے کو تلاش کرسکتے ہیں۔
دونوں وزرائے اعظم نے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے راستوں کی تلاش کےلیے منعقدہ کانفرنس میں اپنے کاروباری وفود کی قیادت کی۔
عمران خان نے سری لنکا کی جدید ترین سیاحت کی صنعت سے پاکستان کے سیکھنے کے ارادے کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی سیاحت کے متعدد دریافت ہونے والے مقامات تھے جن میں گندھارا تہذیب اور بدھ مت کی ٹریلز بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں شمولیت سے سری لنکا کےلیے گوادر سے وسط ایشین ریاستوں تک رابطہ قائم کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ انہوں نے تمام بقایا مسائل خصوصا مسئلہ کشمیر کے حل کےلیے بات چیت کےلیے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو پیش کش کی تھی لیکن پاکستان کو مثبت جواب نہیں ملا۔
پائیدار خوشحالی کےلیے انہوں نے کہا کہ ایک ارب 30 کروڑ افراد پر مشتمل جنوبی ایشیا کے خطے کو باہمی تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button