عدالت سے بری ہونے کے بعد مریم انتخابی سیاست کے لئے تیار

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور انکے شوہر کیپٹن محمد صفدر کی سزائیں کالعدم قرار دیے جانے کے بعد مریم کے الیکشن لڑنے اور پارلیمانی سیاست میں حصہ لینے پر عائد پابندی ختم ہو گئی ہے جس سے ناصرف مسلم لیگ نواز کو سیاسی فائدہ ہوا ہے بلکہ شریف خاندان کی اندرونی سیاست میں بھی نواز شریف کی سیاسی وارث اور انکا دھڑا مضبوط ہو گیا یے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی بریت سے عمران خان کا شریف مخالف کرپشن کا بیانیہ بھی فارغ ہو گیا ہے کیونکہ عدالت نے نواز شریف کی بیٹی کو باعزت بری کیا ہے اور ان پر عائد کردہ تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی بریت کے بعد نواز شریف کی بریت کا راستہ بھی ہموار ہوگیا ہے اور ان کی جلد وطن واپسی کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

یاد رہے کہ عدالت سے بری ہونے کے بعد مریم نواز اب قومی اور صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑ سکتی ہیں اور جیت کر وزارت اعلٰی اور وزارت عظمٰی کی دوڑ میں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔سیاسی مخالفین ایک عرصے سے مسلم لیگ ن میں سے ش نکلنے کی ناکام پیش گوئیاں کرتے رہے ہیں، تاہم اب تک خاندان نے اختلاف رائے کو بھی کبھی سیاسی اختلافات میں بدلنے نہیں دیا، بلکہ مریم نواز اسلام آباد ہائی کورٹ سے اپنی بریت کے فیصلے کے فورا بعد اپنے چچا شہباز شریف سے ملنے سیدھی وزیراعظم ہاوس پہنچیں اور دونوں نے جذباتی انداز میں ایک دوسرے کو مبارک باد دی اور مٹھائی بھی کھلائی۔

اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق فوجی اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کے حوالے سے کسی حد تک مختلف نظریے کے باوجود نواز شریف اور شہباز شریف کے مابین مثالی تعلقات نظر آتے ہیں جس کا ایک بڑا ثبوت شہباز گروپ کے مفتاح اسماعیل کی جگہ نواز گروپ کے اسحاق ڈار کا وفاقی وزیر خزانہ بنا ہے۔ نواز شریف شروع سے ہی اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنانا چاہتے تھے لیکن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ان کو سکیورٹی کلیئرنس نہیں مل رہی تھی۔ اسحاق ڈار کی وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ لندن سے ایک ہی جہاز میں وطن واپسی اور وزارت خزانہ کا حلف اٹھانے سے یہ عندیہ بھی مل گیا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف کے تعلقات میں بھی بہتری آ رہی ہے اور بہت جلد وہ بھی پاکستان واپس پہنچ جائیں گے۔

تاہم اس سب کے باوجود کچھ سیاسی پنڈت سمجھتے ہیں کہ دونوں خاندانوں میں سیاسی وراثت کی ایک مخاصمت چل رہی ہے چونکہ شہباز شریف نے اپنے بیٹے حمزہ شہباز کو سیاسی وارث کے طور پر تیار کیا ہے جبکہ نواز شریف نے مریم نواز کی تربیت اپنی سیاسی وارث کے طور پر کی ہے۔ جتنا عرصہ مریم نواز انتخابی سیاست سے باہر تھیں، انکے اور حمزہ شہباز کے مثالی تعلقات تھے۔ تاہم اب لیگی حلقوں کی جانب سے ایسی باتیں سننے میں آ رہی ہے کہ شاید حمزہ شہباز مستقبل میں پنجاب کی وزارت اعلی کے امیدوار نہ رہیں اور مریم نواز کسی صوبائی اسمبلی کے حلقے سے ضمنی الیکشن لڑنے کے بعد وزارت اعلی پنجاب کی امیدوار بن جائیں۔ لیکن مریم نواز کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ ابھی انتخابی سیاست کی طرف نہیں آئیں گی اور پارٹی کو مضبوط کرنے پر فوکس کریں گی تاکہ اگلے انتخابات سے پہلے مسلم لیگ نواز کی پوزیشن بہتر بنائی جا سکے۔

شریف خاندان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 40 سالوں سے شریف خاندان کو جانتے ہیں، جس کی بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ شہباز شریف اور نواز شریف میں ایشوز پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے، مگر اختلافات نہیں ہو سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ ’ن (نواز شریف) اور ش (شہباز شریف) کی بات نہیں کیونکہ جو فیصلہ ن کا ہوتا ہے وہ سب ہی مانتے ہیں۔‘ سلمان غنی نے کہا کہ مریم نواز بریت کے عدالتی فیصلے کے بعد سب سے پہلے چچا شیباز کے پاس ہی گئیں کیونکہ وہ ان کی والد کی جگہ ہیں اور خاندان میں مشرقی روایات بہت مستحکم ہیں۔ سلمان غنی نے کہا کہ ویسے بھی اپنے والد کی وفات کے بعد شہباز شریف اپنے بڑے بھائی نواز شریف کو والد کا درجہ دیتے ہیں اور ان کا ہر حکم بجا لاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج اگر شہباز شریف وزارت عظمی پر فائز ہیں تو یہ بھی نواز شریف کی وجہ سے ہے۔

پارٹی میں مریم نواز کے کردار پر بات کرتے ہوئے سلما غنی کا کہنا تھا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد مریم نواز باہر نہ نکلتیں تو پارٹی سٹینڈ نہ کر پاتی۔ تب مریم ہی پارٹی کی آواز بنیں اور انہوں نے مردانہ وار اینٹی اسٹیبلشمنٹ تحریک چلائی۔ سلمان غنی کے مطابق بریت کے بعد مریم نواز کا سیاسی قد کاٹھ مزید بڑھ جائے گا کیونکہ وہ پارلیمانی سیاست میں بھی ایکٹو ہو جائیں گی۔حمزہ شہباز اور مریم کا موازنہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میدان اس کا ہوتا ہے جو میدان میں کردار ادا کرتا ہے۔‘

لیکن دوسری جانب ایسے سیاسی تجزیہ کار بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ابھی مریم نواز پارلیمنٹ سے باہر ہیں اور اسی لیے انکے اور حمزہ شہباز کے مفادات کا فوری ٹکراؤ ممکن نہیں۔ لیکن جب مریم نواز انتخابی میدان میں اتریں گی تو ان کا سامنا حمزہ شہباز سے ہی گا۔ وجہ یہ ہے کہ مرکز میں شہباز شریف وزیراعظم ہیں لہذا نواز شریف کی سیاسی وارث کو پنجاب کی پگ دینا پارٹی کی ضرورت ہو گی تاکہ الیکشن 2013 سے پہلے اس کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کی جا سکے۔

سینیئر صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی بریت سے یہ ضرور ہوا ہے کہ اب نواز شریف کو اگر عدالتوں سے ریلیف نہیں بھی ملتا تو ان کے لیے یہ باعث اطمینان ہو گا کہ مریم نواز کی شکل میں ان کی جانشین موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بریت کے فیصلے کے بعد مریم نواز کھل کر سیاست کرتی نظر آئیں گی اور اگر عام انتخابات کے بعد نواز شریف کی سیاست آگے نہیں بڑھ پاتی تو مریم نواز کو مسلم لیگ ن کی ٓصدارت بھی مل سکتی ہے۔

Back to top button