عدالت کا پلاٹ کیس میں کپتان کے بہنوئی کے خلاف فیصلہ

وزیراعظم عمران خان نے اپنے بہنوئی عبدالاحد کے جس ساڑھے چار کنال رہائشی پلاٹ پر قبضہ چھڑوانے کے لئے عمر شیخ جیسے بدنام زمانہ پولیس افسر کو سی سی پی اور لاہور لگایا تھا، اس پلاٹ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے عمران خان کے موقف، وزیراعلیٰ پنجاب کے زبانی احکامات، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے متنازع اقدامات اور پولیس ایکشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ یوں مخالف پارٹی کا موقف درست ثابت ہوا کے عمران خان کا بہنوئی پولیس کو استعمال کرکے اس کے ملکیتی پلاٹ پر قابض ہونا چاہتا تھا۔
وزیر اعظم کے بہنوئی کے متنازع پلاٹ کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے تہلکہ خیز فیصلے نے یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ آیا عبدالاحد وزیراعظم کی پوزیشن کو استعمال کرتے ہوئے مالک اور قابض یعقوب کھوکھر کے پلاٹ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب، سی سی پی اور اور ضلعی انتظامیہ سمیت ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے اس بات کا خیال رکھے بغیر کہ مذکورہ پلاٹ سے متعلق بائیس کیسز مختف سول عدالتوں میں زیرالتو اہیں، کیوں محض وزیراعظم کو خوش کرنے کے لئے یعقوب کھوکھر سے پلاٹ چھین کر عبد الاحد کے قبضے میں دے دیا۔ خیال رہے کہ یہ سب کرنے کے باوجود حکومتی مشینری اور سی سی پی او عمر شیخ اس پلاٹ کا انتقال وزیراعظم کے بہنوئی کے نام کروانے میں ناکام رہے اور اب لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے نے ان کے تما تر اقدامات کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے جج مسٹر جسٹس جواد حسن اور مسٹر جسٹس مسعود عابد نقوی پر مشتمل ڈویژن بنچ کے اس فیصلے کے بعد وزیراعظم عمران خان کے حکم کے خلاف یعقوب کھوکھر کو بڑی فتح حاصل ہوئی ہے۔ ہائیکورٹ نے کمشنر آصف بلال لودھی کا حکم غیر قانونی قرار دے دیا ہے جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کے بہنوئی عبد الاحد کو یہ پلاٹ دلوانے کے لئے پولیس کا پی آئی اے سوسائٹی کے پلاٹ پر قبضہ غیرقانونی قرار پایا ہے۔ یاد رہے کہ پولیس نے 29 فروری 2020کو پلاٹ پر قبضہ کر لیا تھا تاکہ اسے عبد الاحد کو دلوادیا جائے۔ تاہم لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے پلاٹ پر قبضے کی درخواست غیر قانونی، بےایمانی اور بدنیتی پر مبنی قرار دے دی گئی ہے۔ مذکورہ فیصلے میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے زبانی احکامات بھی غیر قانونی قرار دئیے گئے ہیں۔ فیصلے میں قرار دیا گیا کہ چونکہ اس پلاٹ سے متعلق 22مقدمات سول کورٹس میں زیرالتوا ہیں، لہذا اس پلاٹ کا قبضہ وزیراعظم کے بہنوئی کو دلوانے کے لئے کمشنر لاہور حکم نہیں دے سکتا۔ فیصلے کے مطابق پلاٹ کا قبضہ دلوانے کے معاملے میں حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے آئین کے آرٹیکل چار، پانچ اور تئیس کی خلاف ورزی قرار دی گئی ہے۔کمشنر، ڈپٹی کمشنر، پولیس سمیت تمام حکومتی بھی اقدامات کالعدم قرار دیے گئے ہیں۔ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے تمام اس پلاٹ سے متعلق 22 سول کیسز پر بھی حکم جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ متعلقہ عدالت ان سول کیسز پر چار ماہ میں فیصلہ سنائے۔
دوسری جانب یعقوب کھوکھر کا کہنا ہے کہ پوری حکومتی مشینری میرے پلاٹ کا قبضہ وزیر اعظم عمران خان کے بہنوئی کو دلوانے کے لئے متحرک تھی،مجھے حکومت کی طرف سے جان کا خطرہ ہے۔
خیال رہےکہ گذشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہوں نے لاہور میں قبضہ مافیا کو لگام دینے کے لیے عمر شیخ کو سی سی پی او لاہور لگایا ہے۔وزیر اعظم کاکہنا تھا کہ اقتدارمیں آکر کئی بار آئی جی پنجاب سے اپنے بہنوئی کے پلاٹ سے قبضہ چھڑانے کی بات کی لیکن قبضہ برقرار رہا اور ایک دن قبضہ مافیا نے بہنوئی کے برابر والے پلاٹ کے مالک کو گولی مار دی،اس واقعے کے بعد میں نے عمر شیخ کو بطور سی سی پی او لاہور لانے کا فیصلہ کیا جنہوں نے آتے ہی قبضہ مافیا کے کارندوں کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے بہنوئی عبدالاحد کے والد قومی ائیرلائنز پی آئی اے میں کام کرتے تھے، جنہیں 1984 میں پی آئی اے سوسائٹی میں پلاٹ نمبر85 اے ون الاٹ کیا گیا اور اس سے ملحقہ پلاٹ نمبر84 اے ون نجمہ سلطانہ کے نام ہے جس کا مختار نامہ عام یعنی جنرل پاور آف اٹارنی مسلم لیگ ن کی سرگرم ورکر کوثر جاوید المعروف بی بی وڈیری کے پاس ہے، بی بی وڈیری کا بیٹا عمران جاوید پی پی 107 لاہور سے الیکشن میں بھی حصہ لے چکا ہے۔ بی بی وڈیر ی نے محمد یوسف کو مختار خاص یعنی سپیشل پاور آف اٹارنی بنادیا تھا، جس کے بعد ان پلاٹوں کو خالی کرانے کی کوشش کی گئی اور 29 فروری 2020کو پولیس اور محکمہ کوآپریٹو نے ان دونوں پلاٹوں کا قبضہ دلوادیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول محمد یوسف نے اسی سوسائٹی میں عاشق بھلی نامی شخص سے ایک اور پلاٹ کا مختار خاص حاصل کرلیا جو مبینہ طور پر قبضوں میں ملوث یعقوب کھوکھر کے زیر قبضہ ہے اور اس پلاٹ کا قبضہ لینے کی کوشش میں محمد یوسف کو 24 اگست 2020 میں قتل کردیا گیا۔ محمد یوسف کی اہلیہ نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا، جس کا الزام بعد میں یعقوب کھوکھر اور ان کےبیٹوں پر لگایا گیا ، سی سی پی اولاہور عمر شیخ نے چارج سنبھالنے کے فوری بعد دو افراد کو گرفتار کرلیا۔ اس بارے میں وزیر اعظم کے بہنوئی عبدالاحد کا کہنا ہے کہ یوسف کے قتل کے بعد انہیں بھی دھمکیاں دی گئیں اور کہا گیا کہ پی آئی اے سوسائٹی کا نائب صدر خالد جھارا خطرناک آدمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ باقی پلاٹوں کا قبضہ بھی چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن انہیں پلاٹ کا قبضہ ملنے کے بعد عدالت سے پھر حکم امتناعی دے دیا گیا جس کی وجہ سے ابھی تک پلاٹ ان کے نام نہیں ہوسکا۔
لاہور ہائیکورٹ کے درکنی ڈویژن بینچ کے حالیہ فیصلے کے بعد وزیراعظم عمران خان، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار، لاہور کی ضلعی انتظامیہ اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی سبکی ہوئی ہے ساتھ ہی یہ تاثڑ بھی مل رہا ہے کہ وزیراعثم کے بہنوئی کے پلاٹ پر قبضہ نہیں ہوا بلکہ وہ یعقوب کھوکھر کے پلاٹ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تاہم اس پلاٹ تنازعے سے متعلق 22 سول کیسز کا آئندہ چار ماہ میں فیصلہ ہونے کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
