عدلیہ کانام لے کر صحافیوں کی گرفتاری پر سپریم کورٹ برہم

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینئر صحافی عامر میر اور وی لاگر عمران شفقت کی ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتاری کے معاملے میں اعلیٰ عدلیہ کو بلاوجہ ملوث کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی جانب سے دائر کی گئی ایک آئینی درخواست کی سماعت کے بعد جاری کیے گے عدالتی حکمنامے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے یہ تاثر دینے کی کوشش کیوں کی اعلیٰ عدلیہ آزادی اظہار کو یقینی بنانے کی بجائے صحافیوں پر جبر کے واقعات میں حکومت اور ریاست کی معاون اور مددگار بنی ہوئی ہے؟
سپریم کورٹ نے آئین پاکستان کے آرٹیکل (3)184 کے تحت دائر کردہ پٹیشن کی سماعت کے بعد عامر میر اور عمران شفقت کیس میں 20 اگست 2021 کو جو حکم نامہ جاری کیا ہے اس میں بنیادی نکتہ یہ اٹھایا گیا ہے کہ دونوں سینیئر صحافیوں کی گرفتاری کے بعد ایف آئی اے نے جو پریس ریلیز جاری کی اس میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ یہ لوگ عدلیہ کی تضحیک میں ملوث ہیں مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ انہوں نے کس طرح عدلیہ کہ تضحیک کی۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم نامے میں ایف آئی اے حکام سے پوچھا کہ یہ تاثر کیوں دیا جا ریا ہے کہ صحافیوں کے ساتھ زیادتی میں عدلیہ بھی حکومت اور ریاست کی معاون بنی ہوئی ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی میں کیس کی سماعت کرنے والے دو رکنی بنچ نے عامر میر اور عمران شفقت کی ایف آئی اے کے ہاتھوں 7 اگست 2021 کو گرفتاری سے متعلق پٹیشن کی سماعت کے بعد جاری کردہ اپنے حکم نامے میں لکھا کہ عدالت عظمی میں پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے موجودہ اور سابق صدر کی جانب سے ایک درخواست جمع کروائی گئی ہے جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت اور اس کے ماتحت اداروں کی جانب سے شہریوں کو آئین پاکستان میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ملک بھر میں صحافی حضرات کو ہراساں کیا جاتا ہے، دھمکیاں دی جاتی ہیں اور ان پر جان لیوا حملے کیے جاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے حملہ آور کبھی قانون کی گرفت میں نہیں آتے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 میں صحافیوں کو اظہار رائے کی جو آزادی دی گئی ہے اسے یقینی بنانے کے لیے جن اداروں کو ذمہ دار اور نگہبان ٹھہرایا گیا ہے، وہی اس گھناونے فعل میں ملوث ہیں۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں لکھا ہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے صحافیوں کو گرفتار کرنے کے بعد جاری کردہ پریس ریلیز میں یہ موقف دیا گیا کہ انہیں اس وجہ سے گرفتار کیا گیا کہ یہ عدلیہ کی تضحیک میں ملوث ہیں۔ تاہم ایف آئی اے نے ایسا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا جس سے ثابت ہو کہ آخر ان صحافیوں نے کس طرح عدلیہ کے وقار کو مجروح کیا جس وجہ سے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے تحریر کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جناح کے پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ لیکن ایف آئی اے کی جانب سے ان دو صحافیوں کی گرفتاری کے بعد جاری کردہ پریس ریلیز سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کے خلاف بنائے گئے کیسز دراصل عدلیہ کی ایما پر قائم کیے گئے۔ یعنی یہ بے بنیاد تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ عدلیہ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کی بجائے ان کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ جسٹس فائز عیسی نے لکھا کہ سنیئر صحافیوں کی گرفتاری اور پریس ریلیز میں دیئے گئے منفی تاثر سے ثابت ہوتا ہے کہ ایف آئی اے نے اپنی حدود اور قوانین سے تجاوز کرتے ہوئے انسانی حقوق اور انصاف کی فراہمی سے متعلق عدلیہ پر شہریوں کے اعتماد کو متزلزل کرنے کی کوشش کی۔ اس صورتحال میں عدلیہ کی عزت قدر و منزلت اور عوام کا اس ادارے پر اعتماد مجروح ہوا اور عدلیہ کو بھی ایف آئی اے کا معاون سمجھا گیا جو کہ حقائق کے سراسر منافی ہے۔ جسٹس عیسی نے اپنے حکم نامے میں لکھا کہ ڈی جی ایف آئی اے، جن کی باقاعدہ منظوری اور مرضی کے بغیر ایف آئی اے یہ پریس ریلیز جاری نہیں کر سکتا تھا اور جنہوں نے آج دن تک اس پریس ریلیز کو واپس بھی نہیں لیا، انہیں نوٹس جاری کیا جاتا ہے کہ وہ بتائیں کہ آخر انہوں نے کس طرح یہ پریس ریلیز جاری کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ ڈی جی ایف آئی اے اپنا تحریری جواب ذاتی طور پر پیش ہو کر جمع کروائیں اور وضاحت کریں کہ انہوں نے اپنی پریس ریلیز میں عدلیہ کو کیوں ملوث گیا اور اگر ڈی جی نے یہ پریس ریلیز جاری نہیں کروائی تو انہوں نے اسے واپس کیوں نہیں لیا۔ عدالتی حکم نامے میں ڈی جی ایف آئی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے جواب کے ساتھ کیس کی سماعت کے موقع پر عدالت کے روبرو حاضر ہوں اور ساتھ ہی صحافیوں کے خلاف مقدمات کا تمام ریکارڈ بھی لے کر آئیں۔ ڈی جی ایف آئی اے کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملک کے تمام صحافیوں کے خلاف دائر کردہ تمام کیسز کا ریکارڈ عدالت کے روبرو پیش کریں۔ پیش کیے جانے والے ریکارڈ میں صحافیوں کے خلاف مقدمات کی نوعیت اور متنازعہ مواد کا ٹرانسکرپٹ بھی پیش کیا جائے جس سے یہ ثابت ہو کہ ان صحافیوں نے واقعی کوئی قابل دست اندازی جرم کیا ہے۔
جسٹس قاضی جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے اپنے حکم نامے میں لکھا کہ درخواست گزار کی جانب سے یہ شکایت کی گئی ہے کہ صحافیوں کو آزادانہ کام کرنے اور اپنا کیریئر آگے بڑھانے کی اجازت نہیں دی جا رہی جو کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 18 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ خیال رہے کہ آرٹیکل 18 کسی بھی شہری کو قانونی پیشہ اختیار یا ذریعہ روزگار اختیار کرنے کی کھلی اجازت دیتا ہے۔ لہذا اگر کوئی بھی میڈیا ہاؤس یا ٹی وی چینل کسی صحافی کو آزادانہ رپورٹنگ کی وجہ سے اس کی نوکری سے فارغ کرتا ہے تو یہ آئین کے آرٹیکل 18 کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔ حکم نامے میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کے چیئرمین کو اپنا تحریری جواب جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے جس میں مکمل وضاحت کے ساتھ بتایا جائے کہ آج تک آزادانہ صحافت کرنے کی وجہ سے صحافیوں کو نوکریوں سے نکالنے والے ٹی وی چینلز کے مالکان کے خلاف پیمرا نے کیا ایکشن لیا۔ پیمرا کو یہ بھی کہا گیا یے کہ عدالت کو بتایا جائے کہ وہ آزادی صحافت اور ٹی وی چینلز پر تمام سیاسی جماعتوں بشمول حکمران جماعت اور اپوزیشن جماعتوں کی یکساں اور مساوی کوریج یقینی بنانے کے لیے کیا کردار ادا کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ ایف آئی اے کے ہاتھوں متاثرہ صحافیوں کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ہم لوگ اخبارات اور ٹیلی ویژن کے لیے کام کرتے تھے لیکن خبر کو دیانت داری سے رپورٹ کرنے کی وجہ سے ’بیرونی قوتوں‘ کی ایما پر ہمیں ملازمتوں سے فارغ کردیا گیا۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ اُن ’طاقتور افراد‘ کی جانب سے کوئی رسمی شکایت نہیں کی گئی تھی بلکہ واٹس ایپ کال پر ہمارے آجر اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز کو دھمکی دی گئی کہ اگر انہوں نے ہمیں نوکریوں سے نہ نکالا تو ادارے کی انتظامیہ کو سنگین نتائج بھگتا پڑسکتے ہیں اور چینل بھی بند ہوسکتا ہے۔ متاثرہ صحافیوں کا کہنا تھا کہ ملازمتوں سے نکالے جانے کے بعد ہم میں سے اکثر نے یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا رخ کیا لیکن یہاں بھی ہمیں ہراسانی، اٹھائے جانے، تشدد، ڈرانے، گولییاں مارنے اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ ہمیں اغوا کرنے، تشدد کرنے یا گولی مارے جانے کی خبریں بھی مین اسٹریم میڈیا میں شائع کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر کچھ اخبارات نے ایسا کیا تو انہیں سرکاری اشتہارات سے محروم کردیا گیا۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ آج پاکستان میں میڈیا کی صورتحال اتنی خراب ہوگئی ہے کہ جن ریاستی اداروں کو ہمارا تحفظ کرنا تھا وہ ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرواتے ہیں۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ ہم پاکستانی شہری ہیں لیکن آزادانہ طور پر کام کرنے سے قاصر ہیں، ہم سے ہمارے بنیادی حقوق چھین لیے گئے ہیں۔ درخواست میں الزام لگایا گیا کہ ہمارے موبائل فونز اور کمپیوٹرز غیر قانونی طور پر چھین لیے گئے جس میں ہماری ذاتی معلومات اور خفیہ ذرائع سے ملنے والے اطلاعات تھیں جو آئین کی دفعہ 13 کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست گزاروں کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے گھروں میں گھس کر اسلحہ تان کر تشدد کر کے اور اٹھا کر ہماری عزت اور رازدی اور آئین کی دفعہ 14 کی خلاف ورزی جاری ہے اور ہم سے معلومات اگلوانے کے لیے ہم پر تشدد بھی کیا گیا۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ ہماری زندگی ناقابل برداشت ہوگئی ہے اور ہمیں سچ بولنے اور شائع کرنے سے روکا جارہا ہے کیوں کہ کروا سچ کچھ طاقتور لوگوں کے لیے پریشان کن ہوسکتا ہے۔ اس آئینی درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ ہمارے بنیادی حقوق یقینی بنانے کے لیے کارروائی کی جائے اور جو افراد اور ادارے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور ملک میں آزادی صحافت کا منظر نامہ خراب کرنے کا سبب بن رہے ہیں ان کے خلاف مناسب ایکشن لیا جائے۔ سپریم کورٹ نے یہ حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اور سیکرٹری داخلہ سمیت کئی سینئر افسران کو 26 اگست کو اسلام آباد میں طلب کرلیا ہے اور انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ آئینی پٹیشن میں لگائے گے الزامات اور اٹھائے گئے سوالوں کے جوابات تحریری صورت میں لے کر حاضر ہوں۔
