محسن نقوی کے دورہ ایران کا اصل مقصد کیا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات، اور خطے میں جنگ کے خطرات کے بیچ پاکستان ایک بار پھر سفارتی سرگرمیوں کے مرکز میں دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے وقت پاکستان نے خاموش مگر متحرک سفارتکاری کے ذریعے خود کو ایک اہم رابطہ کاراور عالمی طاقتوں کیلئے ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر منوایا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا تہران کا حالیہ دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں نہ صرف پاک ایران تعلقات بلکہ ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات کی بحالی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے جبکہ سینئر صحافی اعزاز سید کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق محسن نقوی ایک اہم پیغام لے کر ایران گئے ہیں۔

اعزاز سید کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس دورے کا مقصد ایران کو قائل کرنا اور امریکا و ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو کسی مثبت اور منطقی نتیجے تک پہنچانے میں کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں سفارتی روابط کو متحرک رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور محسن نقوی کا دورۂ تہران بھی انہی کوششوں کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ اپنا دورۂ چین مکمل کر چکے ہیں، جبکہ امریکا کی خواہش تھی کہ چین کے دورے سے قبل ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے میں پیش رفت ہو جو نہیں ہو سکی تھی تاہم اب بھی امریکہ چاہتا ہے کہ وہ جلد از جلد معاہدہ کر کے اس جنگ سے نکل جائے۔

دوسری جانب بعض دیگر مبصرین کے مطابق ایرانی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اور امریکی کانگریس کی سطح پر بھی اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کا اعتراف اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان خطے میں ایک نئے سفارتی کردار کے ساتھ ابھر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوششیں واقعی ایران اور امریکہ کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لا سکیں گی، یا یہ خطے کی پیچیدہ سیاست میں ایک اور مشکل امتحان ثابت ہوں گی؟

مبصرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدہ تعلقات اور تعطل کا شکار امن مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی دو روزہ سرکاری دورے پر تہران پہنچے جہاں انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران ایئرپورٹ پر ایران کے وزیر داخلہ نے پاکستانی وفد کا استقبال کیا، جبکہ بعد ازاں ہونے والی ملاقاتوں میں پاک ایران تعلقات، علاقائی صورتحال اور ایران و امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ملاقات میں خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے “تعمیری کردار” کو سراہا گیا۔ ایران کے وزیر داخلہ نے امریکی تنازع کے حل کیلئے سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کی بھی تعریف کی۔

سفارتی مبصرین کے مطابق محسن نقوی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد کا فقدان بدستور موجود ہے اور خطے میں جنگ بندی و مذاکرات کے امکانات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔یہ دورہ سید عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران کے چند روز بعد ہوا ہے، جسے علاقائی سفارتکاری میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اس وقت ایک ایسے ثالث یا سہولت کار کے طور پر سامنے آ رہا ہے جو بیک وقت تہران، واشنگٹن، بیجنگ اور خلیجی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی کوششوں کو عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل ہو رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی کانگریس کے رکن جیک برگمین کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور سید عاصم منیر کے نام بھیجا گیا تعریفی خط بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔اس خط میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو “حقیقی ریاستی بصیرت” قرار دیتے ہوئے ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کو سراہا گیا۔ مبصرین کے مطابق امریکی سیاسی حلقوں سے اس نوعیت کے مثبت اشارے پاکستان کی سفارتی کامیابی تصور کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کیلئے یہ کردار ایک موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ ایک طرف اسلام آباد اپنی عالمی ساکھ بہتر بنانے اور خطے میں امن کے ضامن کے طور پر ابھرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان پیچیدہ تنازعات اس عمل کو نہایت حساس بنا دیتے ہیں۔پاکستان کی سفارتی حکمت عملی بظاہر یہ ہے کہ وہ کسی ایک فریق کے بجائے “رابطہ کار” یا “سہولت کار” کے طور پر کردار ادا کرے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد سازی میں جزوی کامیابی بھی حاصل کر لیتا ہے تو یہ نہ صرف اسلام آباد کیلئے بڑی سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ خطے میں پاکستان کے اثر و رسوخ میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سیاست انتہائی پیچیدہ اور غیر یقینی ہے، جہاں کسی بھی وقت حالات نئی سمت اختیار کر سکتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کی موجودہ سفارتی سرگرمیوں کو خطے کے مستقبل کیلئے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

Back to top button