اٹھائیسویں آئینی ترمیم کا معمہ

تحریر: مجیب الرحمٰن شامی
بشکریہ: روزنامہ دنیا

پاکستان کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں اٹھائیسویں ترمیم کا چرچا ہے۔ جہاں بھی دو‘ چار اہلِ سیاست یا صحافت اکٹھے ہوتے ہیں‘ یہ معاملہ زیر بحث آ جاتا ہے۔ ہر شخص پوچھتا ہے کہ آئین میں جو اٹھائیسویں ترمیم ہونے جا رہی ہے‘ اس کی ضرورت اور افادیت کیا ہے‘ اس سے بڑھ کر یہ کہ اس کا مسودہ کہاں تیار ہو رہا ہے‘ اور زمین ہموار کرنے کے لیے کیا کچھ کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے نکتہ وروں کو ہر واقعے کے پیچھے اٹھائیسویں ترمیم نظر آ جاتی ہے۔ انمول عرف پنکی نامی ”ہیروئین کوئین‘‘ پکڑی جاتی ہے تو اس کے پیچھے بھی اٹھائیسویں ترمیم کی تلاش شروع کر دی جاتی ہے۔ گاہکوں کی مبینہ لسٹ میں بڑے بڑے ناموں کی موجودگی کی خبریں گھڑی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ان پر دباؤ ڈال کر اٹھائیسویں ترمیم کے حق میں ہاتھ کھڑے کرا لیے جائیں گے۔ طرح طرح کی موشگافیوں کے باوجود کسی کے پاس کوئی مصدقہ خبر نہیں ہے کہ اٹھائیسویں ترمیم کی تفصیلات کیا ہیں اور اس سے کس کو کیا فائدہ پہنچانا اور کس کا کیا نقصان کرنا مقصودہے۔ بلاول بھٹو زرداری بااصرار کہتے ہیں کہ ان سے کسی شخص یا ادارے نے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی اس پر روشنی ڈالنے سے انکاری ہیں‘ اس کے باوجود بحث جاری ہے‘ اور اہلِ سیاست حسبِ توفیق و خواہش گرہیں لگاتے جا رہے ہیں۔
یہ درست ہے کہ کسی بھی ملک کا آئین کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہوتا کہ اس میں کوئی تغیر و تبدل نہ کیا جا سکے۔ ہر ملک کا آئین وہاں کے رہنے والے بناتے اور اس میں ترمیم کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اس میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ ہر آئین میں ترمیم کا طریقہ بھی درج ہوتا ہے۔ پاکستان کا آئین جسے 1973ء میں دستور ساز اسمبلی میں اتفاقِ رائے سے منظور کیا گیا تھا‘ اس کے اندر بھی ترمیم کا طریقہ درج ہے۔ واضح طور پر لکھ دیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی دو تہائی اکثریت سے کسی بھی شق میں تبدیلی کی جا سکے گی۔ یہ الگ بات کہ جب مارشل لا بہادر نے آ کر اسے سرد خانے میں ڈالا‘ تو ترمیم کا اختیار بھی حاصل کر لیا۔ چیف جسٹس انوار الحق کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے پہلی بار یہ حق مارشل لا کو عطا کیا تھا‘ جسے چیف جسٹس ارشاد حسن خان کی سربراہی میں قائم ہونے والی سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ اوّل اوّل اس کی دلیل یہ دی گئی تھی کہ1977ء کے انتخابات میں منظم دھاندلی کے خلاف جو تحریک چلائی گئی تھی‘ اس کے نتیجے میں مارشل لا نافذ کرنا پڑا۔ یہ تحریک مقننہ اور اس کی پیداوار انتظامیہ کے خلاف تھی‘ جبکہ مملکت کے تیسرے بڑے ادارے عدلیہ پر عدم اعتماد کا کوئی اظہار نہیں کیا گیا۔ اس کے خلاف کوئی تحریک چلی نہ ہی کوئی آواز اٹھی۔ مارشل لا بہادر نے انتظامیہ اور مقننہ کو ”ری پلیس‘‘ (Replace) کر دیا‘ سو ان اداروں کے جملہ اختیارات وہ استعمال کر سکیں گے۔ عدلیہ اس سارے معاملے سے الگ تھلگ رہی اس لیے اس کا وجود جوں کا توں ہے۔ وہ اپنے آئینی فرائض ادا کرتی رہے گی‘ اسے آئین نے ”جوڈیشنل ریویو‘‘ کا جو حق دیا ہے‘ وہ برقرار رہے گا اور وہ 1973ء کے دستور کے مطابق ”انتظامیہ اور مقننہ‘‘ کی جگہ لینے والی ملٹری کونسل کے فیصلوں اور اقدامات کا جائزہ لینے کی مجاز رہے گی۔ سپریم کورٹ نے اتفاقِ رائے سے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کو سندِ جواز عطا کرتے ہوئے جب معاملات کو یوں آگے بڑھایا‘ تو نتیجتاً اس کے لیے مشکلات پیدا ہو گئیں۔ مارشل لا بہادر نے پی سی او (عبوری دستوری حکم) جاری کر کے اپنے اختیارات میں اس طرح اضافہ کیا کہ عدلیہ کو بھی لپیٹ میں لے لیا‘ جو سلوک عدلیہ نے مقننہ اور انتظامیہ کے ساتھ روا رکھنے کا جواز فراہم کیا تھا‘ وہی عدلیہ پر لاگو کرتے ہوئے اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو نیا حلف لینے پر مجبور کیا گیا۔ کسی نے حلف لینے سے انکار کر دیا تو کسی کو حلف اٹھانے کی زحمت ہی نہ دی گئی‘ سو یوں اعلیٰ عدالتوں میں نئی تقرریوں کے لیے راستہ کشادہ ہو گیا۔ ڈھیر سارے جج پی سی او کی نذر ہو گئے۔ آئین میں ترمیم کا عدالت دہندہ حق استعمال کرتے ہوئے مارشل لا نے عدلیہ ہی کو بدل ڈالا۔ بعدازاں جب پارلیمنٹ منتخب ہو کر آئی تو اس میں یہ ترامیم پیش کر دی گئیں‘ پارلیمنٹ نے ان ترامیم میں کئی ترامیم کر کے انہیں گلے لگا لیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی یہ تجربہ دہرایا گیا‘ اور آئین میں تابڑ توڑ ترامیم کی گئیں۔ آئین بحال ہوا تو بھی اس میں ترمیمات کی جاتی رہیں۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے سائے میں جو ترامیم کی گئیں‘ انہیں اٹھارہویں ترمیمی بل کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ ترمیمی بل تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع تر اتفاقِ رائے کے ساتھ منظور ہوا تھا۔ اس کے تحت صوبائی خود مختاری میں جو اضافہ کیا گیا اور بعدازاں نیشنل فنانس کمیشن نے قومی آمدنی میں صوبوں کا حصہ جس طرح بڑھایا‘ اس پر بحث اب تک جاری ہے‘ لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جو کچھ کیا گیا‘ وہ صلاح مشورے اور افہام وتفہیم سے کیا گیا۔ پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتیں اس میں شریک رہیں۔
آئین میں چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم بھی سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع تر مشاورت کے بعد ممکن ہوئی۔ تحریک انصاف اور کئی دوسری جماعتیں اس کے خلاف آواز اٹھاتی رہیں لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے مل کر دو تہائی اکثریت کو ہمنوا بنا لیا‘ مولانا فضل الرحمن بھی اس میں شریک ہو گئے اور پی ٹی آئی کے کئی منحرفین بھی۔ ان ترامیم کے نتیجے میں پاکستان کی سیاست (منفی یا مثبت) جس طرح متاثر ہوئی آج تک اہلِ نظر اس پر نظریں لگائے ہوئے ہیں۔ عدالتی نظام اور نظم دونوں کا چہرہ بڑی حد تک تبدیل ہو چکا۔ ان کی صورت صاف پہچانی نہیں جاتی۔ سپریم کورٹ کے اختیارات کا ایک حصہ وفاقی آئینی عدالت کو مرحمت فرما دیا گیا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں میں تقرری اور تبادلے کے لیے سپریم جوڈیشل کمیشن کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جو کچھ ہوا‘ وہ دن دیہاڑے ہوا اور پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت ہی کے ذریعے ہوا۔
آئین میں اگر کسی کو مزید تبدیلی مطلوب ہے‘ مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات کا معاملہ ہے یا وسائل کی تقسیم کا‘ بلدیاتی اداروں کا استحکام و استقرار مطلوب ہے یا نئے صوبوں کی تشکیل ضروری سمجھی جا رہی ہے‘ تو اربابِ اختیار کو اپنی تجاویز واضح الفاظ میں قوم کے سامنے رکھنی چاہئیں۔ قومی سطح پر ان کا جائزہ لیا جائے‘ مختلف سیاسی جماعتیں ان پر غور کریں‘ اہلِ دانش بھی حرکت میں آئیں اور دستور میں دیے گئے طریق کار کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھایا جائے۔ ترمیمات ہوتی رہی ہیں اور ہو بھی سکتی ہیں لیکن اس وقت کسی کے پاس ایسا ڈنڈا نہیں ہے جس کے ذریعے وہ اپنی مرضی مسلط کر سکے۔ وسیع تر اتفاقِ رائے کے بغیر کی جانے والی کوئی ترمیم وفاقِ پاکستان کو کمزور کرے گی۔ برسر اقتدار جماعت مسلم لیگ (ن) پر لازم ہے کہ اس معمے کو حل کرے۔ افواہوں اور قیاس آرائیوں کا زہر ہمارے جسدِ سیاست کو ڈس رہا ہے۔

Check Also
Close
Back to top button