کیا واقعی عمران خان بھی پنکی کے کسٹمرز میں شامل تھے؟

ملکی سیاست اور عدالتی نظام ایک بار پھر ایک ایسے متنازع مقدمے کے گرد گھومنے لگے ہیں جس میں الزامات، سیاسی بیانیے، پولیس مؤقف اور اپوزیشن کے دعوے آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کے عدالت میں دئیے گئے بیان نے نہ صرف قانونی حلقوں بلکہ سیاسی میدان میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ عدالت میں انمول پنکی نے دعویٰ کیا کہ اس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ “بنی گالا کے ایک بندے” کا نام لے، جبکہ دوسری جانب پولیس نے اس الزام کو ایک “خطرناک اسٹنٹ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمہ تفتیش کا رخ موڑنے اور سیاسی ماحول کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس معاملے نے اس وقت مزید سیاسی رنگ اختیار کر لیا جب پاکستان تحریک انصاف نے حکومت پر الزام لگایا کہ انمول پنکی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا واقعی پنکی پر عمران خان پر الزامات عائد کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے؟ دباؤ کون ڈال رہا ہے اس کا مقصد کیا ہے؟آیا یہ واقعی ایک مجرمانہ کیس ہے یا پھرآنے والے دنوں میں پاکستان کی جاری سیاسی کشمکش کا نیا بابثابت ہو گا؟


خیال رہے کہ ملک بھر کے سیاسی و قانونی حلقوں میں ان دنوں انمول عرف پنکی کیس موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیشی کے دوران ملزمہ انمول عرف پنکی نے ایک ایسا بیان دیا جس نے سیاسی ماحول میں نئی ہلچل پیدا کر دی۔ ملزمہ نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ پولیس اس سے اپنی مرضی کا بیان دلوانا چاہتی ہے اور اس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ “بنی گالا کے ایک بندے” کا نام لے۔ انمول پنکی کے مطابق اس کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور اسے دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر اس نے مطلوبہ بیان نہ دیا تو اس کی فیملی کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب پولیس حکام نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ کیس کی تفتیش سے وابستہ ایک پولیس افسر کے مطابق انمول پنکی ایک “شاطر منشیات فروش” ہے جو تفتیش اور عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے کیلئے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ ملزمہ کا عدالت میں دیا گیا بیان ایک “خطرناک اسٹنٹ” ہے جس کا مقصد مخصوص سیاسی جماعت کو پولیس کے خلاف استعمال کرنا اور تفتیش کا رخ موڑنا ہے۔تفتیشی افسر کے مطابق انمول پنکی اس سے قبل بھی مختلف سیاسی شخصیات پر الزامات لگا چکی ہے، تاہم پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ کے خلاف مضبوط شواہد موجود ہیں اور کیس قانونی بنیادوں پر آگے بڑھ رہا ہے۔

تاہم یہ معاملہ اس وقت مزید سیاسی رنگ اختیار کر گیا جب پاکستان تحریک انصاف نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ انمول عرف پنکی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے حکومتی اتحاد پر سیاسی انتقام اور مخالفین کے خلاف مقدمات بنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایک مبینہ منشیات فروش کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنا حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے۔انہوں نے اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق انمول پنکی کیس اب محض ایک فوجداری مقدمہ نہیں رہا بلکہ یہ سیاسی بیانیے اور ریاستی اداروں پر اعتماد کے مسئلے سے بھی جڑتا جا رہا ہے۔ایک طرف حکومت اور پولیس اسے ایک مجرمانہ کیس قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف اپوزیشن اسے سیاسی انجینئرنگ اور دباؤ کی مثال کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حساس مقدمات میں شفاف تحقیقات اور عدالتی نگرانی انتہائی ضروری ہوتی ہے تاکہ حقیقت اور سیاسی پروپیگنڈے میں فرق واضح ہو سکے۔پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ میں کئی ایسے مقدمات سامنے آ چکے ہیں جہاں قانونی کارروائی اور سیاسی بیانیہ ایک دوسرے میں گڈمڈ ہوتے دکھائی دیے، اور یہی صورتحال اس کیس کو بھی غیر معمولی اہمیت دے رہی ہے۔

Back to top button