عزیز الرحمان کے کسی فعل کے ذمہ دار نہیں

جمعیت علما اسلام نے مدرسے کے طالب علم سے بدفعلی کرنے والے ملزم مفتی عزیز الرحمن سے متعلق کہا ہے کہ جے یوآئی اس شخص کے کسی قول و فعل کی ذمہ دارنہیں، ایسے افراد کو واقعی سزا ملنی چاہیے، جے یو آئی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کرے گی۔ جمعیت علما اسلام لاہور کے ترجمان حافظ غضنفر عزیز نے جے یو آئی کا موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجرم کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے، یہ جرم انتہائی قابل مذمت ہے، ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سزا کا مطالبہ کرتے ہیں، جمعیت علماء اسلام کا اس شخص کے کسی قول و فعل سے کوئی تعلق نہیں ہے، مجرم کو سزا دلانے کے لیے اداروں سے مکمل تعاون کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جے یو آئی کو کسی بھی فرد کی طرف سے مفتی عزیز الرحمن سے متعلق کوئی شکایات نہیں کی گئی تھی۔اسی ضمن میں وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی حافظ طاہر محمود اشرفی نے بھی کہا ہے کہ کسی ایک فرد کے انفرادی فعل کو مسجد اور مدرسے سے نہ جوڑا جائے، جس طرح کسی کالج اور یونیورسٹی میں ہونے والے ایسے کسی واقعہ کی ذمہ داری اس ادارے پرنہیں ڈالی جاسکتی اسی طرح مساجد اور مدارس کے خلاف بھی پراپیگنڈا بند ہونا چاہیے جبکہ اس واقعہ کی فرانزک تحقیقات کروائی جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جامعہ منظورالاسلامیہ اور وفاق المداس العربیہ کی طرف سے نہ صرف مفتی عزیزالرحمن سے اظہار لاتعلقی کیا جاچکا ہے بلکہ ان سے تمام ذمہ داریاں بھی واپس لی جاچکی ہیں۔دوسری طرف نوجوان طالب علم کوبدفعلی کانشانہ بنانے والے عمررسیدہ مفتی عزیزالرحمن اوران کے تین بیٹوں کی گرفتاری کے لئے پولیس نے مختلف مقامات پرچھاپے مارے ہیں تاہم ابھی تک کسی ملزم کو گرفتارنہیں کیاجاسکا ہے۔پولیس کے مطابق مفتی عزیز الرحمٰن کی گرفتاری کے لیے ٹاؤن شپ کے علاقہ میں چھاپہ مارا گیا، ملزم اپنے تینوں بیٹوں سمیت پہلے ہی وہاں سے فرار ہوگیا، لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

Back to top button