عسکری قیادت نے عدلیہ کو بھی وارننگ دے دی

عسکری قیادت نے فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے بعد یک زبان ہو کر جہاں ملک دشمن شرپسندوں کو انجام تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا ہے وہیں ان کے سہولتکاروں اور جعلی خبروں کے ذریعے انتشار پھیلانے والوں کو بھی واشگاف الفاظ میں پیغام دیا ہے کہ عسکری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو انجام تک پہنچانے میں رکاوٹ بننے والوں سے بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ تاہم یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  فارمیشن کانفرنس کے اعلامیہ میں کس کے لیے کیا پیغام ہے؟

تجزیہ کار و سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں 9 مئی واقعات میں ملوث افراد کو عدالتوں کے ذریعے ملنے والے ریلیف پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، میرے خیال میں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں عدلیہ کے لیے بھی پیغام ہے کہ وہ 9 مئی واقعات میں ملوث افراد کو کسی بھی طرح کی سہولت نہ دے، عدلیہ کا ڈاکٹر یاسمین راشد کو جناح ہائوس حملہ کیس سے ڈسچارج کرنا فوج اور حکومت کے لیے حیران کن تھا اور کافی حد تک پریشانی کا باعث بھی تھا۔انصار عباسی نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومین رائٹس واچ سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں کی جانب سے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، قانون کی بالادستی کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی نشان دہی کی گئی اور پی ٹی آئی اب اس پر پروپیگنڈا بھی کر رہی ہے تاہم فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں پاکستان کی افواج نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، غداروں کو ہر ملک میں سزا دی جاتی ہے، سابق وزیراعظم عمران خان کے لیے پیغام ہے کہ پاکستان کی افواج 9 مئی واقعات کو کبھی بھول نہیں سکتی، اور ان حملوں میں ملوث تمام افراد کو کوئی معافی نہیں دی جائے گی۔

دفاعی تجزیہ کار سید محمد علی کے مطابق فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیہ میں پاکستانی قوم، حکومت وقت، اپوزیشن جماعتوں، عالمی برادری اور پاکستان کے دشمنوں کے لیے خصوصی پیغام ہے۔قوم کے لیے پیغام ہے کہ پاکستان کی افواج اور کمانڈرز سپہ سالار جنرل عاصم منیر کے ساتھ ہیں، فوج میں کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں ہے، قوم کی مدد اور سپورٹ سے پاک فوج قومی سلامتی کا دشمنوں کے خلاف کردار ادا کر رہی ہے۔سید محمد علی نے کہا کہ فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیہ میں حکومت کے لیے پیغام ہے کہ فوجی تنصیبات اور شہدا کی یادگاروں پر حملہ کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے، داخلی یا کسی بیرونی دباؤ میں آئے بغیر ان حملوں میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دینی چاہیے۔

فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیہ میں اپوزیشن کے لیے پیغام ہے کہ وہ قومی سلامتی کا بیانیہ مرتب کریں اور سیاسی طرز عمل کا مظاہرہ کریں، کوئی بھی سیاسی رہنما، کارکنان یا گروہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہوگا تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا، اور کسی کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔عالمی برادری کے لیے پیغام ہے کہ پاک فوج اور قوم ایک صفحہ پر ہیں، ان کے درمیان کوئی مخمصہ نہیں ہے، پاکستان کے اندر لوگوں کو فوج کے خلاف کرنے کی کوشش کرنے والے کامیاب نہیں ہو سکتے، ایسے لوگوں کو سخت سزا ہو گی۔ بین الاقوامی برادری کے ذریعے ہیومین رائٹس کی آڑ میں پاکستانی حکومت پر پریشر ڈالنے کی کوشش کی بھی گئی تو وہ رائیگاں جائے گی۔

دشمنوں کے لیے کانفرنس کے اعلامیہ میں کیا پیغام ہے؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سید محمد علی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دشمنوں کی کوشش ہے کہ پاکستان کو اندرونی سطح پر کمزور کیا جائے، فوج اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کی جائے، عوام میں بے یقینی پیدا کی جائے، فارمیشن کانفرنس کے اعلامیہ میں دشمنوں کو پیغام دیا گیا ہے کہ دشمنوں کو کسی ایک بھی سازش میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، پاک فوج اور عوام ایک پیج پر ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔

تجزیہ کار ارشاد بھٹی کے مطابق فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اب تک 9 مئی واقعات میں ملوث افراد جن کی شناخت ویڈیوز سے ہو سکی ہے، ان کو گرفتار کیا گیا  ہے تاہم اب منصوبہ سازوں اور ماسٹرمائنڈ کے خلاف کارروائی ہو گی، تمام شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں، اب کارروائی کا وقت ہے۔ حملوں میں ملوث افراد کے خلاف آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی۔ 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے اور ملزمان کو بچانے کی کوشش کرنے والوں سے بھی سختی سے نمٹا جائے گا۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث کسی فرد کو کوئی معافی نہیں ملے گی، انسانی حقوق کی فرضی کہانیاں جھوٹ ہیں اور اعلامیہ میں ان کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ اعلامیہ میں واضح کیا گیا کہ ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے والے ملک دشمنوں سے بھی سختی سے نمٹا جائے گا۔ عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور پاک فوج کے خلاف جعلی پراپیگنڈا کیا گیا ہے، اس سب کا مقصد سیاسی اہداف حاصل کرنا ہے۔

Back to top button