بھارتی اداکار نصیرالدین شاہ نے پاکستانیوں سے معذرت کیوں کی؟

بھارتی فلم انڈسٹری کے سینئر اداکار نصیرالدین شاہ نے پاکستان میں سندھی زبان سے متعلق بیان کو اپنی غلطی قرار دیتے ہوئے اس پر پاکستانی ناظرین سے معذرت کر لی ہے۔
نصیر الدین شاہ نے 5 جون کو بھارتی یوٹیوبر کو دیئے گئے انٹرویو میں برصغیر کی زبانوں پر بات کرتے ہوئے سندھی زبان سے متعلق بے بنیاد دعویٰ کیا تھا کہ اب سندھی زبان پاکستان میں نہیں بولی جاتی۔
نصیر الدین شاہ نے انٹرویو میں برصغیر کی ثقافت اور زبانوں پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں اردو کی طرح پنجابی زبان بھی زیادہ بولی جاتی ہے، پاکستان میں پشتو، بلوچی، دری اور سرائیکی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔
نصیر الدین شاہ نے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یقینا اب سندھی زبان پاکستان میں نہیں بولی جاتی، ان کی جانب سے پاکستان میں سندھی زبان نہ بولے جانے کے دعوے کے بعد جہاں پاکستانی شوبز شخصیات نے ان کے دعوے پر رد عمل دیا تھا، وہیں عام سوشل میڈیا صارفین نے بھی انہیں مخاطب ہوتے ہوئے انہیں سندھ آنے کی دعوت دی تھی تاکہ وہ یہاں آکر سندھی زبان بولنے والوں کو دیکھ سکیں۔
شوبز شخصیات اور سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کے بعد اب نصیر الدین شاہ نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اقرار کیا ہے کہ انہوں نے سندھی سے متعلق غلط بات کی۔ اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں وضاحت کی کہ ان کی جانب سے انٹرویو میں کہی گئی دو باتوں پر غیر ضروری تنازع کیا گیا، جس میں سے ایک بات ان کی غلطی تھی۔
ساتھ ہی نصیر الدین شاہ نے کہا کہ انٹرویو میں ان کی جانب سے مراٹھی ، فارسی زبان میں تعلق سے متعلق کہی گئی بات پر بھی تنازع کیا گیا جو کہ غلط تھا اور وہ اب بھی اپنی بات پر قائم ہیں۔
ان کے مطابق انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ مراٹھی زبان کے بہت سارے الفاظ فارسی سے لیے گئے اور اس میں کوئی غلط بات نہیں، نصیر الدین شاہ نے مزید لکھا کہ اردو زبان خود بھی فارسی، ترکی اور عربی زبان کا مرکب ہے جبکہ انگریزی میں بہت سارے الفاظ یورپی زبانوں کے ہیں اور اس معاملے پر وہ اب بھی قائم ہیں اور اسی حوالے سے ان پر کی جانے والی تنقید غیر ضروری ہے۔

Back to top button