عمار جان پنجاب حکومت کے لیے خوف کی علامت کیوں؟


27 نومبر کو مال روڈ پر طلبہ تنظیموں کے احتجاج کی قیادت کرنے کی پاداش میں پنجاب حکومت نے ماہر تعلیم اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن عمارعلی جان کو خوف کی علامت اور عوام کو ہراساں کرنے کا عادی قرار دے دیا ہے۔
عمار جان کو30 دن کے لئے کوٹ لکھپت جیل میں نظر بند کرنے کے لئے گرفتار کرنے کی ناکام کوششوں کی بھرپور مذمت کی جارہی ہے۔ طلبہ تنظیموں کے مظاہرے میں شرکت کے بعد عمار علی جان کو گلبرگ میں پولیس نے گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے ساتھیوں کی مزاحمت کے باعث عمارعلی جان گرفتاری سے بچ کر نکل گئے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ڈی سی لاہور کے نوٹیفیکیشن اور عمار علی جان کو 30 دن تک حراست میں رکھنے کے حکم نامے کی مذمت کی ہے۔ سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک جمہوری ملک میں اس طرح کے اقدامات قابل مذمت ہیں۔ اپنے حق کے لیے احتجاج شہریوں کا بنیادی حق ہے لیکن پرامن اور پڑھے لکھے افراد کو بھی مجرموں کی طرح خوفزدہ کرنے اور گرفتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
یاد رہے کہ لاہور میں مال روڑ پر 27 نومبر بروز جمعہ طلبہ تنظیموں نے یونینز بحال کرنے کے لیے احتجاج کیا تھا۔ اس احتجاجی مظاہرے میں دیگر طلبہ رہنماؤں اور تنظیموں کے عہدیداروں کے ساتھ ایف سی کالج کے سابق لیکچرارعمار علی جان بھی شریک ہوئے جس کے بعد ڈپٹی کمشنر لاہور نے امن عامہ میں خلل کے الزام پر عمار علی جان کو کوٹ لکھپت جیل میں نظر بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ مظاہرے میں شرکت کرنے والے عوامی پارٹی کے رہنما فاروق طارق کے مطابق عمار علی جان کو گلبرگ میں پولیس نے گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے ساتھیوں کی مزاحمت کے باعث انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکا اور عمارعلی جان گرفتاری سے بچ کر نکل گئے اور اپنا موبائل فون بھی بند کردیا مگر پولیس ان کی گرفتاری کے لیےچھاپے مار رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ طلبہ کا حق مانگنا ان کا جرم بن گیا۔ پہلے انہیں ایف سی یونیورسٹی انتظامیہ کے ذریعے انتقام کا نشانہ بنایاگیا اور اب انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
عمار علی جان کے ساتھی اور سماجی کارکن حیدر کلیم کے مطابق طلبہ مارچ کا پروگرام اختتام کے قریب تھا جب پولیس نے عمار کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کیا۔ ہمیں کچھ ہی دیر پہلے ڈپٹی کمشنر کا حکم نامہ ایک صحافی کے ذریعے موصول ہوا تھا اس لیے عمار سمیت ہم چار افراد گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔ لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کچھ لوگ ہمارا پیچھا کرتے رہے۔ انھوں نے بتایا کہ گلبرگ مین بولیوارڈ پر جب رش کے باعث گاڑی کی رفتار کم ہوئی تو موٹر سائیکلوں پر سوار چار افراد نے ہمیں رکنے کا اشارہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس دوران پولیس کی ایک وین آ گئی۔ پہلے تو ہم نے کافی دیر گاڑی کے دروازے نہیں کھولے لیکن پھر زبردستی ایک شیشہ نیچے کر کے دروازہ کھول لیا گیا جس کے بعد مجھے بھی نیچے اترنا پڑا۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ اس دوران عمار کی اہلیہ سمیت انھیں اور حیدر علی بٹ کو بھی ذد و کوب کیا گیا۔ عمار علی جان کے ایک بیان کے مطابق اس دوران پولیس کے ساتھ ہمارے مذاکرات ہوئے اور کیونکہ وہاں خاصا مجمع اکھٹا ہو گیا تھا، اس لیے انھوں نے ہمیں جانے کی اجازت دی اور دو گھنٹے بعد پولیس سٹیشن آنے کو کہا۔عمار کے مطابق اب پیر کے روز ان کے وکلا عدالت سے رجوع کریں گے۔ عمار علی جان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری ہونے والا حکم نامہ ان کے لیے حیرانی کا باعث اس لیے بھی ہے کیونکہ انھوں نے اس مارچ سے قبل ضلع انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کر کے یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ ریاست کے خلاف کوئی بات نہیں ہوگی اور مارچ پُر امن ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ مارچ کے دوران کوئی ایسی بات نہیں کی گئی اور ہم نے آئین میں لکھی ہوئی بات ہی کی ہے اور طبقاتی نظام تعلیم کو ختم کرنے کی بات کی ہے، یا تو آپ آئین کو ہی بدل دیں۔انھوں نے کہا حزبِ مخالف کے جلسوں میں تو ہر طرح کی زبان جائز ہے صرف اس لیے کہ وہ بااثر ہیں اور ہم عام لوگ مظاہرہ کر رہے ہیں اس لیے یہ ہمارے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کے ایک حکم نامے کی روشنی میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے لاہور کے علاقے گلبرگ کے مین بولیوارڈ پر عمار علی جان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ڈی سی لاہور کے حکم نامے پر 26 نومبر کی تاریخ درج ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ وہ ڈی آئی جی آپریشنز کی جانب سے موصول ہونے والے خط اور دیگر ثبوت کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عمار علی جان ‘نقصِ امن ‘ کا باعث بن سکتے ہیں اس لیے انھیں ایم پی او آرڈینینس کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں لیا جائے۔ ڈی آئی جی آپریشنز کے خط میں عمار علی جان کو عوام کو ہراساں کرنے کا عادی اور خوف کی علامت بھی قرار دیا گیا۔ ایس ایس پی آپریشن لاہور ملک جمیل ظفر کے مطابق انہیں عمار علی جان کی ایک ماہ نظر بندی کے احکامات موصول ہوئے ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
اس واقعے کے بعد کئی لوگوں نے اپنے ٹویٹس میں عمار کی حمایت کی۔ صحافی عاصمہ شیرازی نے لکھا کہ کیا ہم مارشل لا میں رہ رہے ہیں؟ یہ کیسی جہموریت ہے؟ مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ کیمبرج کے پی ایچ ڈی عمار علی جان کی گرفتاری قابل مذمت ہے۔۔۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ایسے اقدامات سے پاکستان واپس آنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس فروری میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن ارمان لونی کی ہلاکت کے بعد مظاہرے میں شرکت کرنے پر عمار علی جان کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد انھیں ضمانت پر رہائی مل گئی تھی۔گذشتہ سال ہی لاہور کی ایک عدالت نے طلبہ یکجہتی مارچ میں شرکت کرنے والے سماجی کارکن عمار علی جان کو عبوری ضمانت دی تھی۔ پر غداری کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button