عمرانڈو شہباز گل گرفتاری کے خوف سے کہاں چھپے ہوئے ہیں؟

سابق وزیراعظم عمران خان کے بد زبان چیف آف سٹاف شہباز گل گرفتاری کے خوف سے سیاسی منظر نامے سے غائب ہیں اور پچھلے دو ہفتوں سے سروسز ہسپتال میں مریض بن کر چھپے ہوئے ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز گل کو پتہ لگ چکا ہے کہ انہیں بھی اعظم سواتی کی طرح فوج کے خلاف بدزبانی کرنے پر نشان عبرت بنانے کا فیصلہ ہو چکا ہے لہٰذا وہ کسی صورت سیکیورٹی اداروں کے ہتھے نہیں چڑھنا چاہتے اور اسی لیے بیمار بن کر سروسز ہسپتال لاہور میں چھپے بیٹھے ہیں۔ شہباز گل کے خوف کا یہ عالم ہے کہ چند روز پہلے جب گورنر پنجاب نے وزیر اعلٰی چوہدری پرویز الہی کو ڈی نوٹیفائی کیا تو شہباز گل فوری طور پر ہسپتال کا وی وی آئی پی کمرہ چھوڑ کر فرار ہو گئے تاکہ انھیں گرفتار نہ کر لیا جائے۔
تاہم لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے پرویز الٰہی کو ڈی نوٹی فائی کرنے کا حکم نامہ عارضی طور پر معطل کیے جانے کے بعد شہبازگل کی جان میں جان آئی اور وہ دوبارہ سروسز ہسپتال پہنچ گئے لیکن اس سے پہلے ہسپتال کے رجسٹرار تحریری طور پر اپنے بڑوں کو آگاہ کر چکے تھے کہ شہباز گل اچانک بتائے بغیر ہسپتال غائب ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے رجسٹرار کا لکھا جانے والا خط بھی میڈیا کے ہتھے چڑھ گیا لہٰذا شہباز گل کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ تاہم انھوں نے یہ موقف اپنایا کہ وہ تو اپنے کچھ ٹیسٹ کروانے کے لیے پرائیویٹ ہسپتال چلے گئے تھے۔
سروسز ہسپتال میڈیکل یونٹ نمبر 2 کے رجسٹرار ڈاکٹر نعمان ظفر نے شہباز گل کی غائب ہونے کی اطلاع میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو دیتے ہوئے لکھا تھا کہ پی ٹی آئی رہنما اپنے وی وی آئی پی کمرے سے انتظامیہ کو بتائے بغیر غائب ہوگئے ہیں۔ خط میں بتایا گیا کہ شہباز گل کے معائنہ کار جب وی وی آئی پی روم میں داخل ہوئے تو وہ ہسپتال میں موجود نہیں تھے، ان کے وارڈ سے کوئی فائل یا ریکارڈ بھی برآمد نہ ہو سکا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ 23 دسمبر کی صبح کو پی ٹی آئی رہنما ہسپتال سے غائب ہوگئے تھے لیکن 24 دسمبر کی شام کو واپس آئے۔
شہباز گل پہلی بار ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے۔ اس سے قبل ستمبر میں جب راولپنڈی اڈیالہ جیل میں اُن کی صحت خراب ہوئی تھی تب بھی وہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس اسلام آباد میں داخل کروائے گے تھے، تاہم کہا جاتا ہے کہ تب بھی ان کی بیماری سیاسی تھی اور اب بھی وہ بیماری کا بہانہ کر ہسپتال میں چھپے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ شہباز گل کے خلاف اے آر وائی ٹیلی وژن پر ایک پروگرام کے دوران پاکستانی عوام کو فوج کے خلاف اکسانے کے الزام پر بغاوت کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔ پچھلے ہفتے بھی شہباز گل اس کیس میں اسلام آباد کی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ ان کے وکیل نے بتایا کہ وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ تاہم جج نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے کہ شہباز گل جان بوجھ کر حالت میں پیش نہیں ہو رہے لیکن اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ 2 جنوری کو ہر صورت حاضر ہوں۔
خیال رہے کہ عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل رواں ماہ کے اوائل میں سانس کی تکلیف کی وجہ سے سروسز ہسپتال میں داخل ہوئے تھے، انہیں مبینہ طور پر سانس لینے میں سانس لینے اور کھانسی میں تکلیف کی شکایت تھی۔ یاد رہے کہ حال ہی میں شہباز گل کے خلاف اے آر وائی پر چلنے والے ٹی وی پروگرام میں کی جانے والی گفتگو کی بنیاد پر بلوچستان اور سندھ میں بھی بغاوت کے مقدمات درج کیے گئے ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ دو جنوری کو نہیں کمرہ عدالت سے ہی حراست میں لے لیا جائے گا۔ اس سے پہلے اعظم سواتی کو بھی فوج کے خلاف الزامات لگانے پر بغاوت کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس وقت اسلام آباد پولیس کی حراست میں ہیں۔
