عمران اور ترین کو قریب لانے کی کوششں تیز ہو گئی


وزیراعظم عمران خان اور ان کے سابق ساتھی جہانگیر ترین کے مشترکہ دوستوں نے دونوں کے مابین پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور انھیں دوبارہ اکٹھا کرنے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے جس کے بعد عمران خان اور جہانگیر ترین دونوں نے ایک دوسرے کے حوالے سے مثبت پیغام رسانی کا آغاز کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم کی جانب سے شوگر کمیشن بنائے جانے اور پھر اس کی تحقیقاتی رپورٹ میں جہانگیر ترین کو مرکزی ملزم ٹھہرائے جانے کے بعد عمران خان اور ان کی اے ٹی ایم کہلوائے جانے والے ترین کے درمیان گہرے اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ بعد ازاں جب وزیراعظم نے شوگر کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں چینی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی ذمہ دار ٹھہرائی جانے والی حکومتی شخصیات کے خلاف ایکشن شروع کرنے کا اعلان کیا تو ترین احتساب سے بچنے کے لیے لندن نکل ہوگئے اور ابھی تک واپس نہیں آئے۔
اسی دوران لندن سے ایسی خبریں بھی آئیں کہ جہانگیر ترین نے ن لیگ کے قائد نواز شریف سے ملاقاتیں کی ہیں جن میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ کھلے عام اپنے سابق کپتان کو چارج شیٹ کریں اور ان سے علیحدگی کا اعلان کریں تاکہ انھیں ن لیگ میں شامل کرنے کے لیے فیس سیونگ ہو سکے لیکن جہانگیر ترین نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل پیرا ہو گئے۔ تاہم 18 اگست 2020 کے روز عمران خان نے اپنی حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر کامران خان کودئیے گئے اپنے ایک سرکاری ٹائپ کے انٹرویو میں ترین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا جہانگیر سے بہت پرانا تعلق ہے اور وہ تحریک انصاف کو بنانے اور اسے کامیاب کرنے میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ عمران نے کہا کہ جب شوگر کمیشن کی رپورٹ میں ترین کا نام آیا تو مجھے بہت افسوس ہوا لیکن عمران خان نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ترین ان کے پرانے ساتھی ہیں اور انہوں نے ہر مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا ہے۔
تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق عمران خان کی اس گفتگو کو جہانگیر ترین نے گڈ ول پیغام کے طور پر لیا ہے اور 20 اگست کو کامران خان کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے اپنے سابق کپتان کے حوالے سے اچھی اچھی باتیں کیں۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ عمران خان کی میرے بارے میں گفتگو بڑی خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ مستقبل میں ہم ایک مرتبہ پھر اکٹھے ہوسکتے ہیں۔ ترین نے عمران خان کی قیادت پر اظہار اعتماد کرتے ہوئے تردید کی کہ انہوں نے لندن میں مسلم لیگ ن کے قائد اور عمران کی سیاسی حریف نواز شریف سے ملاقات کی ہے یا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جہانگیر ترین نے کہا کہ انہیں عمران خان کی اپنے حوالے سے کی گئی باتیں سن کر بہت ہی خوشی ہوئی اور حوصلہ ملا۔ مزید بولے کہ میرا عمران خان سے رفاقت نہ ہونے کا تاثر ختم ہو گیا ہے، یہ ان کی بڑائی ہے جو میرے لیے ایسی اچھی باتیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے میرا بڑا گہرا تعلق تھا، ہم نے اکٹھے سیاسی جدوجہد کی۔ ہمارے تعلق کی گہرائی میں اور عمران ہی جانتے ہیں۔ ترین نے کہا کہ میں خان صاحب کے تاثرات اور جذبات کی قدر کرتا ہوں۔ اپنے دل کی باتیں کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک دکھ عمران خان کو ہے اور ایک دکھ مجھ کو بھی ہے کہ ہمارے تعلقات خراب ہوتے ہوئے کہاں تک پہنچ گئے، یہ افسوسناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جدوجہد سے لیکر پاناما کیس تک ہم ساتھ تھے اور روزانہ اکٹھے ہو کر کام کیا کرتے تھے۔
جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ہمارا تعلق بھولنے والا نہیں، مجھے وہ چیزیں یاد آتی ہیں۔ ہمارے بیچ دراڑیں پڑنے کا مجھے بھی بہت افسوس ہے لیکن مجھے امید ہے کہ دراڑیں ختم ہو جائیں گی۔ دراڑیں ختم ہونے کی خواہش بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں وزیراعظم کے وژن کا سب سے بڑا حمایتی تھا۔ سوچنا ہوگا کہ میرا اور عمران خان کا تعلق ختم ہونے کا کس کو فائدہ ہوا؟ ان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین بھی ہے شوگر کمیشن رپورٹ کی وجہ سے یہ سارا کچھ ہوا ہے۔ شوگر کمیشن رپورٹ صحیح نہیں ہے۔ عجیب الزامات ہیں جن کا چینی کی قیمت بڑھنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عجیب سی بات ہے چینی کی قیمت بڑھنے پر کمیشن تو بنا لیکن اس نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں لکھا کہ چینی کی قیمت کیوں بڑھی؟ جب چینی 50 روپے کلو تھی، تب بھی گڑبڑ تھی، آج پاکستان کی دیگر صنعتوں میں بھی ایسی ہی گڑ بڑ ہو رہی ہے۔ اگر چینی کیس کی شفاف تحقیقات ہوں تو میں سرخرو ہوں گا۔
ترین نے کہا کہ عمران خان کو غلط طور پر بتایا گیا کہ میں چینی بحران پیدا کرنے میں ملوث تھا۔ میں تو چینی کی برآمد کے فیصلے میں شامل بھی نہیں تھا۔ یہ فیصلہ اسد عمر کی سربراہی میں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گنے کی قیمت زیادہ ہونے سے چینی مہنگی ہے۔ آٹے اور گندم بحران میں کیا ہوا؟ وہاں تو میرا تعلق ہی کوئی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اجناس کی قیمتیں طلب اور رسد کی بنیاد پر بڑھتی ہیں۔ گندم کی زیادہ ذخیرہ اندوزی خود حکومت کر رہی ہے۔ مارکیٹ میں گندم ریلیز کریں، مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ترین نے کہا کہ حکومت نے 60 لاکھ ٹن گندم ذخیرہ کیوں کی ہے؟ حکومتی طرز عمل پر بات کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ہمیشہ فیصلہ دیر سے اور ہلکا کرتے ہیں۔ مارکیٹ میں شارٹیج کے تاثر سے چینی مہنگی ہوئی، دراصل حکومت کو طلب اور رسد کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ ترین عمران خان کے بارے میں مثبت جذبات کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی نااہلیوں اور ناقص پالیسیوں پر بھی وار بھی کئے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ترین اور عمران کے مشترکہ دوست کس طرح اور کب انھیں ایک میز پر بٹھانے میں کامیاب ہوتے ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button