عمران حکومت بنوانے والا باجوہ اسے گرانے پر کیوں اترا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ اب یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے الیکشن 2018 میں عمران خان کی حکومت بنانے میں مدد کی، اور اس کے بعد انہوں نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد ناکام کروانے میں مدد کی۔ اس لیے عمران خان کو آدھا سچ بولنے کی بجائے پورا سچ بولنا چاہئے۔ پورا سچ یہ ہے کہ اگر عمران کو وزارت عظمٰی سے ہٹانے میں جنرل باجوہ کا کردار ہے تو انہیں اس منصب پر بٹھانے میں بھی مرکزی کردار انہی کا تھا۔ اگر بلوچستان عوامی پارٹی، ایم کیو ایم، اور مسلم لیگ (ق) کو کپتان کا اتحادی بنوانے میں ان کا کردار تھا تو پھر شاید ان سے یہ بھی کہا گیا کہ بس اب آپ لوگ خان سے الگ ہو جائیں۔ چوہدریوں میں بہرحال اختلاف ہوگیا مگر پھر بھی وہ جنرل باجوہ کے احسان کو یاد کرتے ہیں، مختصر یہ کہ عمران خان آج اگر اقتدار سے باہر بیٹھے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ ان کی احسان فراموشی ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ نیا سال ہمیشہ نئی امیدیں لے کر نمودار ہوتا ہے۔ یہ کئی لحاظ سے اہم سال ہے، اس کو ’استحکام جمہوریت‘ کا سال قرار دینا چاہئے، ایک دوسرے کی سیاسی حقیقت تسلیم کر کے پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں بیٹھیں اور آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کریں۔ جمہوریت میں ’قبولیت‘ کوئی چیز نہیں ہوتی ’مقبولیت‘ کے آگے سرتسلیم خم ہونا چاہئے، یہ وقت وقت کی بات ہے سال 2021ء ختم ہوا اور 2022ء شروع ہوا تو ملک کا سیاسی نقشہ کچھ اور تھا۔ وزیراعظم عمران خان تھے جو تیزی سے غیر مقبول ہو رہے تھے اور مسلسل ضمنی الیکشن ہار رہے تھے، وہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا نہ صرف بھرپور دفاع کرتے تھے بلکہ اپوزیشن پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ان دونوں پر الزامات اور سیاست میں مداخلت کو مسترد کرتے تھے۔
پھر وقت نے پلٹا کھایا اور مارچ 2022ء میں عمران کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آگئی، انہوں نے اپنے ساتھیوں اور حلیفوں کو یقین دلایا کہ تحریک ناکام ہوگی مگر پھر انہیں احساس ہونے لگا کہ معاملات گڑبڑ ہیں۔ جس دن انہوں نے قومی اسمبلی سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا اس سے ایک رات پہلے صدر پاکستان عارف علوی نے انہیں ٹیلیفون کرکے اپنے فیصلے پر نظرثانی کا مشورہ دیا مگر کپتان نہ مانا اور امریکی مداخلت اور سازش کے بیانیے کو بنیاد بنا کر نہ صرف اپنی توپوں کا رخ امریکہ کی طرف موڑ دیا بلکہ اسمبلیوں سے باہر آکر ’جہاد‘ کا اعلان کردیا اور ہدف تنقید اسٹیبلشمنٹ کو بھی بنانا شروع کر دیا، ان کے مطالبات میں موجودہ حکومت کا خاتمہ، نئے عام انتخابات، نئے الیکشن کمیشن کے تحت کرانا شامل تھا جس کیلئے انہوں نے 25؍مئی کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ اس پورے عمل سے پاکستان تحریک انصاف جو اب تک 2021ء میں غیر مقبولیت میں تیزی سے اوپر جارہی تھی، اسے بریک لگ گیا اور مقبولیت کا گراف اوپر جانے لگا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب پی ڈی ایم نے نوازشریف کی مرضی سے یہ فیصلہ کیا کہ کہ ہمیں الیکشن میں جانا چاہئے کیونکہ حکومت چلانا مشکل ہے۔ چند دن پہلے صدر عارف علوی نے کراچی میں میری موجودگی میں گفتگو کرتے ہوئے تصدیق بھی کر دی کہ اگر عمران خان 25؍مئی کے لانگ مارچ کو مؤخر کردیتے تو نئے الیکشن پر سمجھوتہ ہونے جارہا تھا۔
اب پی ڈی ایم کی جماعتیں اپنی سیاسی ناکامیوں کو ’سیاسی قیمت‘ ادا کرنے سے تعبیر کرتی ہیں حالانکہ عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے کے بعد اگر ایک عبوری حکومت کے تحت نئے الیکشن ہوجاتے تو آج حکمران اتحاد انتخابات سے راہ فرار اختیار نہ کر۔رہا ہوتا، وہ اپریل میں بہت بہتر پوزیشن میں تھے۔ ایک اور بات جو سال 2022ء میں اب ثابت ہے، وہ جنرل باجوہ کا ’سیاسی کردار‘ ہے۔ عمران خان صاحب آدھا سچ بول رہے ہیں جب وہ اپنے آپ کو بے اختیار وزیراعظم اور جنرل باجوہ پرمسلسل مداخلت کا الزام عائد کرتے ہیں ، نیب اور الیکشن کمیشن پر جانبداری کا۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ میں نے عارف علوی سے پوچھا کہ اگر یہ سارے الزامات درست ہیں اور عمران کو کام نہیں کرنے دیا جا رہا تھا، ہر چیز میں مداخلت ہورہی تھی تو کیا کبھی وزیراعظم نے انہیں برطرف کرنے کا عندیہ دیا؟ میاں صاحب نے صحیح یا غلط کم از کم جنرل جہانگیر کرامت کو بلا کر سوال تو اٹھایا جس پر انہیں استعفیٰ دینا پڑا، جنرل پرویز مشرف کو برطرف کردیا۔ لہٰذا خان صاحب خاموش ہو کر کیوں بیٹھے رہے؟ علوی صاحب کا جواب تھا شاید ایسا خیال انہیں کبھی نہیں آیا تھا۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ نیا سال نئی اُمیدیں لے کر آیا ہے۔ یہ صرف الیکشن کا سال ہی نہیں 1973ء کے متفقہ آئین کی گولڈن جوبلی کا سال بھی ہے۔ یاد رکھیں اس آئین کو کئی پیوند لگے، کئی ٹیکے لگے، اعلیٰ ترین عدلیہ نے جس کو اس کا تحفظ کرنا تھا، ’نظریہ ضرورت‘ کے تحت اسے توڑنے والوں کو قانونی کہا ،جائز قرار دیا اور بنانے والے کو ’جوڈیشل مرڈر‘ کے ذریعہ پھانسی دے دی۔اس آئین نے ایک سمت دی، نظام دیا، آگے بڑھنے کا راستہ بتایا، اگر اس تاریخی دستاویز کو کسی آمر نے ’کاغذ‘ کا ٹکڑا کہا تو وہ آمر امر نہیں ہوا، بنانے والوں کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان تمام اکابر کو خراج تحسین پیش کرنے کا وقت ہے جنہوں نے نظریات کو بالاتر رکھ کرایک آئین پر اتفاق کیا۔ اس آئین پر عمل نہیں ہوا اس لئے سیاست کو آمروں نے ’سیاسی اسٹاک مارکیٹ‘ میں تبدیل کر دیا، اب الیکشن سے پہلے وزیراعظم کیلئے ’ٹینڈر‘ کھلتا ہے اور پھر قبولیت ہوتی ہے، جمہوریت مقبولیت کا نام ہے قبولیت کا نہیں۔
